13

کرکٹرز ٹراؤزرز کی جگہ شارٹس پہن کر کھیلیں گے؟


موسم کی سختی جھیلنے کیلیے قدیم روایات کوترک کرنا پڑسکتا ہے،رپورٹ۔ فوٹو: فائل

موسم کی سختی جھیلنے کیلیے قدیم روایات کوترک کرنا پڑسکتا ہے،رپورٹ۔ فوٹو: فائل

لندن:  موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست کرکٹ پر اثر انداز ہونے کا خطرہ بڑھ گیا جب کہ کھلاڑیوں کو موسم کی سختی جھیلنے کیلیے قدیم روایات کو ترک کرنا پڑسکتا ہے۔

لارڈز میں ایک خصوصی رپورٹ ’ہٹ فار سکس‘ کا اجرا ہوا جس میں کھلاڑیوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلیے کئی سفارشات پیش کی گئی ہیں، جس کی رو سے کھلاڑیوں کو قدیم روایات کو ترک بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص طور پر کرکٹرز اب لمبے ٹراؤزرز کی بجائے شارٹس میں بھی کھیلتے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ خاص طور پر بیٹسمینوں کو سخت گرمی سے نمٹنے کیلیے آرام دہ کپڑے پہننے کی اجازت ہونا چاہیے، اسی طرح کٹ اور دوسرا سامان بنانے والے اداروں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسے ہیلمٹس، گلوز اور پیڈز وغیر بنائیں جس سے ہوا کا گزر ہو اور پلیئرز کو ٹھنڈا رکھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ ابھی سے ان کا اثر پڑنے لگا ہے، اس حوالے سے خاص طور پر چوتھے ٹیسٹ میں ڈائریا کا شکار ہونے والے انگلش کپتان جوئے روٹ کی مثال دی گئی جنھیں اسپتال سے پھر سیدھا گراؤنڈ میں لوٹنا پڑا۔

آئی سی سی بھی کہا گیاکہ وہ نئی ہیٹ پالیسی بنائے، اس حوالے سے آسٹریلیا کو سراہا گیا جہاں پر مختلف ایسوسی ایشنز کی جانب سے گرم موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیٹ پالیسی اپنائی گئی، جس میں درجہ حرارت ایک مقررہ حد سے بڑھ جانے پر میچ کو ملتوی تک کردیا جاتا ہے۔





Source link