25

وفاق سے پہلے خیبر پختونخوا کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ ۔۔۔ کس کس کو تبدیل کیا جانے والا ہے؟ وزیر اعظم عمران خان کا بڑا فیصلہ



اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک اور مشکل پیدا ہو گئی، خیبرپختونخوا کابینہ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کے بعد دو وزراء بھی وزیر اعلیٰ محمود خان سے ناراض ہیں۔سینئیر صوبائی وزیر عاطف خان وزیر بلدیات شہرام ترکئی وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا کابینہ میں اختلافات کی خبروں پر نوٹس لے لیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے مشیروں کو خیبرپختونخوا کے معاملات ٹھیک کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ کے وزراء نے پشاور میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔خیبرپختونخوا کابینہ میں وزراء کی کارگردگی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جب کہ جلد ہی خیبرپختونخوا کابینہ میں تبدیلی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ میں بھی تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتوں کے قلمدان کی تبدیلی کے بعد پنجاب حکومت نے بھی کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ کیا گیا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صوبائی وزرا کی کارکردگی پر وزیراعظم عمران خان سے مشاورت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پانچ سے آٹھ وزرا کی وزارتوں میں رد و بدل کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔ اس سے قبل یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے پانچ وفاقی وزرا کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ان کے قلمدان تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان وزارتوں میں وزارت خزانہ ، وزارت پٹرولیم اور وزیر مملکت برائے داخلہ کے قلمدان تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسد عمر سے وزارت خزانہ کا قلمدان لے کر انہیں وزارت پٹرولیم کا قلمدان دیا جائے گا جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ کا عہدہ لے کر اعجاز شاہ کو دیا جائے گا۔ جبکہ وزیر پٹرولیم غلام سرور خان سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا جائے گا اور ان کو آگے کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں اس حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزرا کی کارکردگی پر نظر ثانی کی گئی جس میں وزارت ریلوے ، توانائی اور مواصلات کی کارکردگی اچھی رہی۔تاہم حکومت نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی۔



Source link