21

ابا : تمہاری عمر ہی کتنی رہ گئی ہے ، چند ماہ مزید نیب کی قید میں گزار لو ویسے بھی آپ باہر آکر کیا کریں گے ۔۔۔۔ دولت کی ہوس میں پڑ کر قومی خزانہ لوٹنے والے ایک شخص کے ساتھ چند روز قبل نیب عدالت میں کیا واقعہ پیش آیا ، اصل کہانی کیا تھی؟ عبرتناک انکشاف



لاہور (ویب ڈیسک) تازہ ترین خبر کے مطابق احتساب عدالت میں پیشی کے دوران نیب کے زیرحراست ایک بوڑھے ملزم نے وہاں آئے اپنے بیٹے سے کہا کہ ’’میری کرپشن سے اکٹھی کی ہوئی دولت سے نیب کو ایک کروڑ دے کر میری جان چھڑاؤ ، میری نیب سے ڈیل ہو گئی ہے‘‘

نامور کالم نگار سید وجیہہ الحسن بخاری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹے نے کروڑ روپیہ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اب آپ کی عمر ہی کتنی رہ گئی ہے،باہر آکر کیا کریں گے۔اس قسم کی ایک مثال نہیں ، چلتی پھرتی درجنوں مثالیں ہم دیکھتے ہیں کہ انسان ساری عمر رشوت لے کر،کرپشن کرکے دولت اکٹھی کرتا ہے، جس پر ایسی اولاد قبضہ کرلیتی ہے، جن کے دل سے قدرت نے باپ کی محبت نکال کر اسی دولت کی محبت ڈال دی ہوتی ہے۔ ان کو باپ پرایک روپیہ خرچ کرنا بھی گراں گزرتا ہے۔البتہ ایسا باپ جب مرتا ہے تو لوگوں کے گلے مل کر ایسے روتے ہیں جیسے ’’لندن والا بھائی رویا تھا‘‘ مرنے والے کے قل، دسویں پر بھی بڑی رونق ہوتی ہے، کیونکہ ایسی لذیذ بریانی بازار میں نہیں ملتی۔ اس بوڑھے ملزم کے علاوہ بھی مزید کئی بوڑھے عدالتوں میں آج کل ’’رونق‘‘ لگائے ہوئے ہیں۔ کوئی ویل چیئر پر آرہا ہے،کسی کو بازؤں کے سہارے لایا جارہا ہے اور کوئی لاٹھی ٹیکتا چلا آرہا ہے۔ ان بوڑھوں کی کرپشن کاحجم اربوں، کھربوں میں ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اگر نیب کی پکڑ میں نہ بھی آتے تو یہ رقم کہاں،کب اور کیسے استعمال کرنی تھی۔ ایسے ہی بوڑھوں کے لئے شاید جناب حضورؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’انسان بوڑھا ہوتا ہے، مگر دو چیزیں جوان رہتی ہیں۔جینے کی خواہش اور مال کی حرص‘‘۔ایک اور بات کی سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ آتے جاتے دو انگلیوں سے’’وکٹری‘‘ کا نشان کیوں بناتے ہیں ۔کرپشن اور وکٹری کا کیا تعلق ہے،

کیا یہ لوگ کشمیر فتح کرکے آ رہے یا کرنے جارہے ہیں ۔ پچھلے دورمیں لاہور کے ایک سابق ٹاؤن ناظم پر کروڑوں کی کرپشن کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔سابق ٹاؤن ناظم کو عدالت سے جرمانہ اور قید کی سزا سنائی گئی ۔ سزا سننے کے بعد موصوف ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور پولیس انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کررہی تھی۔سابق ٹاؤن ناظم مزاحمت کررہے تھے اور ساتھ ’’وکٹری‘‘ کا نشان بھی بنائے ہوئے تھے۔ اتفاق سے مَیں اپنے ایک دوست کے ساتھ ادھر سے گزر رہاتھا۔ مَیں نے دوست سے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ انہوں نے کون سا محاذ فتح کیا ہے۔ دوست بولا کہ تمہاری عقل میں تو بھوسہ بھرا ہے۔ سمجھ میں نہ آنے والی کون سی بات ہے۔ انہوں نے کرپشن کا محاذ فتح کیا ہے۔ دو انگلیوں سے وکٹری کا نشان نہیں بنایا جا رہا، بلکہ بین السطور بیوی بچوں کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ ساری خجل خواری کے بعد بھی ہم لوگ دو کروڑ منافع میں ہیں۔ میرے بعد عیش کرنا۔ ایسے انسانوں کو ’’بدقسمت لوگ‘‘ کہا جاتاہے کہ وہ اگلے جہان اس دولت کا حساب دیں گے جن کا استعمال کوئی اور کرے گا۔ قسمت ہر کسی کو ایسا مقام اور موقع نہیں دیتی، جس سے آپ اپنے وطن کا کچھ قرض اتار سکیں، خدمت خلق کرسکیں۔ آپ کو قدرت نے کتنی عزت والا مقام دیا۔ ان لوگوں نے بالکل الٹ کام کیا، بجائے وطن کی ترقی کے ان لوگوں نے صرف اپنی ہی ترقی کے لئے کام کیا۔ کوئی شک نہیں کہ فطرتاًیہ لوگ ڈاکو ہوتے ہیں۔اقتدار میں نہ ہوں تو سڑکوں پر ڈکیتیاں اور اقتدار میں آجائیں تو خزانے پر ڈکیتیاں۔ ایسے ہی بدقست لوگوں کے بارے میں حضرت علیؓ فرماتے ہیں،’’اقتدار میں آکر لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہوتے ہیں‘‘۔(ش س م )



Source link