21

منی لانڈرنگ میں ملوث 20 بینک اکاوئنٹس منجمد کرنے کا حکم


اربوں روپے کی ٹرانزیکشن والے اکاؤنٹس سے رقم نکالے جانے کا خدشہ ہے، ایف بی آر فوٹو:فائل

اربوں روپے کی ٹرانزیکشن والے اکاؤنٹس سے رقم نکالے جانے کا خدشہ ہے، ایف بی آر فوٹو:فائل

 کراچی: کسٹم عدالت نے امریکی ڈالر بیرون ملک بھیجنے کے 3 مقدمات میں ایف بی آر کی درخواست پر 20 مختلف بینک اکاوئنٹس منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔

کراچی کی کسٹم عدالت کے روبرو امریکی ڈالرز بیرون ملک بھیجنے، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ کراچی کی ایک فیملی کی جانب سے 4 لاکھ سے زائد امریکی ڈالرز امریکہ منتقل کیے جانے کا مقدمہ درج ہے، ملزمان میں پرویز علی، بیٹیاں سارہ، انم علی اور بیٹا جبران شامل ہیں۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمان نے منی لانڈرنگ کے لیے 2016 میں 11 بینک اکاؤنٹس کھولے اور اب تک 4 لاکھ، 94 ہزار 500 ڈالرز امریکہ منتقل کر چکے ہیں، بے نامی اکاؤنٹ میں یکم جولائی 2015 تا 30 جون 2018 تک رقم منتقل کی گئی، 3 سال میں مجموعی طور پر 36 کروڑ 94 لاکھ سے زائد کی رقم جمع کرائی گئی۔

تفتیشی افسر نے دوسرے کیس کے بارے میں عدالت کو بتایا کہ 4 تاجروں پر 5 سالوں میں ایک ارب 26 کروڑ سے زائد کا ٹیکس چوری کرنے کا الزام ہے۔ تاجر زور طالب خان سمیت 4 ملزمان نے 2012 سے 2017 کے دوران 8 بے نامی اکاؤنٹس کھولے اور 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کی، خدشہ ہے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن والے اکاؤنٹس سے رقم نکال لی جائے۔ قومی رقم محفوظ بنانے کے لیے تمام مقدمات کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں۔

عدالت نے ایف بی آر کی درخواست منظور کرتے ہوئے 20 مختلف بینک اکاؤنٹس 30 روز کے لیئے منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔ ان میں 8 ارب سے زائد کی ٹرانزیکشن کے 8 بے نامی اکاؤنٹس، امریکی ڈالر کی منی لانڈرنگ کے 11 اکاؤنٹس اور بھٹو کالونی کے رہائشی محمد ابراہیم کا ایک اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔





Source link