19

معاملات خراب ۔۔۔۔ عُثمان بُزدار ،گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا فون کیوں نہیں سنتے؟ سینئر صحافی مبشر لقمان نے ساری کہانی بیان کر دی


لاہور (نیوز ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس آمنے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں اور ایک دوسرے سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا ۔ انہوں نے کہا کہ میں

یہ سب اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں کچھ دنوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں جس کے بعد میں نے خود گورنر ہاؤس کو ایک درخواست دی کہ میں نے اپنے ایک عزیز کے بھائی کے لیے گورنر ہاؤس بھوربن میں کرائے پر ایک کمرہ چاہئیے، جو کہ ممکن ہے ، اگر کسی کو گورنر ہاؤس بھوربن میں کمرہ چاہئیے تو کوئی بھی شخص منظوری کے بعد کرایہ دے کر وہ کمرہ لے سکتا ہے۔ہم تین دن سے یہ درخواست کر رہے تھے لیکن گورنر ہاؤس بار بار ٹال رہا تھا۔جب ہم نے گورنر ہاؤس کی پوری اشرافیہ کو چھان لیا تو انہوں نے ہاتھ جوڑے اور کہا کہ سر ہمیں معاف کر دیں، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ہمارے فون نہیں اُٹھا رہے۔ وہ گورنر پنجاب کا بھی فون نہیں اُٹھاتے۔ وہ کوئی رابطہ نہیں کرتے۔ شہباز شریف نے تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کو وزیراعلیٰ کے ماتحت کر دیا تھا۔گورنر ہاؤسز بھی وزیراعلیٰ کے ماتحت ہیں۔ ہمیں اس ضمن میں اب عثمان بزدار کی منت کرنا پڑتی ہے۔ وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد عثمان بزدار نے یہ تو کہا کہ انہوں نے قوانین غلط بنائے تھے لیکن شہباز شریف کے قوانین کو انہوں نے معطل نہیں کیا اسی وجہ سے کسی بھی گورنر ہاؤس یا وہاں موجود جہاز یا ہیلی کاپٹر سمیت کوئی بھی اختیار ایسا نہیں ہے جو عثمان بزدار نے گورنر ہاؤس کو واپس دے دیا ہو۔ہم نے پھر بھی اصرار کیا کہ آپ پتہ کر کے بتا دیں جس کے تیسرے دن ہمیں یہ اطلاع موصول ہوئی کہ وزیراعلیٰ ہاؤس نے گورنر ہاؤس کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ ابھی گورنر ہاؤس میں کمرہ نہیں دیا جا سکتا آپ کسی اور ریسٹ ہاؤس میں قیام کر لیں۔ مبشر لقمان نے کہا کہ اس کے بعد ہمیں یہ اطلاع بھی موصول ہوئی کہ نہ صرف گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کے مابین اختلافات ہیں بلکہ پنجاب کے کئی وزرا ایسے ہیں جو ایک دوسرے سے بات کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ کئی سیکرٹریز اپنے وزرا کے احکامات کو پورا نہیں کرتے۔



Source link