25

سانحہ ساہیوال : 3 ماہ بعد بالاخر مظلوم خاندان کو انصاف مل گیا ، وزیراعظم عمران خان نے رات گئے سخت ترین حکم جاری کردیا


لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے 3 ماہ بعد سانحہ ساہیوال کے متاثرین سے ملاقات میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی جس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مقتول خلیل کے والد، بھائی اور بچے

بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے 3 ماہ بعد ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے متاثرہ خاندان کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ قانونی طور پر دیکھا جائے اگر جوڈیشل کمیشن بن سکتاہے تو عمل کیاجائے۔ وزیر اعلی قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اقدامات اٹھائیں گے۔وزیراعظم عمران خان سے ہونے والی ملاقات میں خلیل کی فیملی نے جوڈیشل کمیشن کی درخواست کی تھی۔ سانحہ ساہیوال پر پہلے جے آئی ٹی نے تحقیقات کیں جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ پر جوڈیشل انکوائری بھی ہوچکی ہے جس کی رپورٹ بھی جمع کروائی جاچکی ہے۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندان سے ہونے والی ملاقات امدادی چیک بھی تقسیم کیے۔سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ان کے سامنے تین مطالبات پیش کیے۔متاثرین نے سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے، کیس لاہور ٹرانسفر کرنے اور جھوٹی ایف آئی آر خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سانحے میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ہمارے تینوں مطالبات تسلیم کرلیے ہیں جبکہ انہوں نے جھوٹا مقدمہ بھی فوری خارج کرنے کا حکم دیاہے،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ ساہیوال کا کیس بھی لاہور ٹرانسفر کرنے میں ہمیں مسئلہ نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے جب مقدمہ خارج کرنے کا کہا تو ابھی تک کیوں نہیں کیا گیا؟۔جلیل نے مزید بتایا کہ عمران خان نے بچوں کے لیے دو کروڑ اور والدین کے لیے ایک کروڑ کا چیک بھی دیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع کا کسی صورت ازالہ نہیں کیا جا سکتا تاہم حکومت متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال 19 جنوری کی سہہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعوی کیا گیا۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا گیا تاہم بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا، دوسری جانب واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی، جس کی ابتدائی رپورٹ میں مقتول خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دے کر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئیں جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستیں خارج کردیں تھیں اور جوڈیشل انکوائری کرانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حوالے کی تھی۔اس وقت بھی سانحہ ساہیوال کے بعد عہدے سے ہٹائے گئے آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر عہدے پر بحال ہوچکے ہیں۔



Source link