12

والد بزرگوار کی وفات کے بعد عثمان بزدار کو قبیلے کا سردار بنانے کی تقریب کیوں ملتوی کی گئی ؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے بڑے بھائی کہاں ہوتے ہیں اور وہ ابھی تک ملتان کیوں نہیں پہنچے ؟ ناقابل یقین انکشاف


ملتان (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنے والد سردار فتح محمد بزدار کی قل خوانی کے بعد لاہور پہنچ چکے ہیں توقع کی جا رہی تھی کہ ان کی دستار بندی بارتھی میں ہونے والی قل خوانی کے بعد کر دی جائے گی لیکن بوجوہ اسے موخر کر دیا گیا ہے

ملتان سے نامور صحافی شوکت اشفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جس کے پیچھے خاندانی معاملات آڑے آئے ہیں جس کے مطابق سردار فتح محمد بزدار مرحوم کے بڑے بھائی جو دبئی میں اپنا کاروبار کرتے ہیں والد کی عدم موجودگی میں قبیلے کی پگ کے حقدار ہیں جس میں ان کے بڑے بھائی سمیت خاندان اور قبیلے کے عمائدین کی رضا مندی شامل تھی مگر اب چونکہ وہ نہیں رہے البتہ ان کے برے بھائی حیات ہیں اس لئے اب عثمان بزدار کے سر پر قبیلے کی سرداری کی پگ کب اور کیسے آئے گی اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ مذہبی گدی نشینوں کی طرح ان قبائل کی سرداری بھی نسل در نسل بڑے بیٹے کے سر پر آتی ہے لیکن یہاں معاملہ انتہائی مختلف ہے اب اس میں کیا فیصلہ ہوتا ہے جلد معلوم ہو گا تاہم وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی اب ہر بال کو روکنے کی بجائے رنز بنانے کا ارادہ کر لیا ہے اور بیان بازی کی حد تک کافی فعال ہو رہے ہیں کہ شاید انہی سے ان کی کارکردگی میں بہتری آسکے اس لئے وہ اب اپنی مسلم لیگ ن سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت پر براہ راست تنقید کرتے نظر آرہے ہیں اور مشورہ دے رہے ہیں کہ اپوزیشن سیاست ضرور کرے لیکن کرپشن بچاؤ مہم نہ چلائے کیونکہ اب عوام کو یہ قبول نہیں ہے اس لئے اپنے خاندان یعنی زرداری اور شریف اپنے مشیروں وزیروں سمیت سب کی کرپشن کا جواب دیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی ’’ٹوئیٹر‘‘ ہو گئے ہیں اور ان کا میڈیا سیل اب ٹوئیٹر پر پیغام ڈال کر میڈیا کو جاری کرتا ہے پٹرول، بجلی اور گیس سمیت ڈالر کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا کر اب وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی ہو گی انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھنے کو بھی کہا ہے اور منافع خوروں کو وارننگ دی ہے حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اگلے تین ہفتوں کے بعد رمضان المبارک شروع ہو رہا ہے اور مبارک مہینہ کے استقبال کے لئے مہنگائی کس طرح تکنیکی طور پر بڑھائی جا رہی ہے اور کیا آج تک ضلع کے ڈپٹی کمشنرز مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں موثر ثابت ہو سکے ہیں جو آج ہوں گے ویسے بھی ان کے پاس تو میٹنگ سے میٹنگ کے سوا کوئی کام بھی نہیں ہے سائیلان کا ایک اژدھام ہوتا ہے لیکن مجال ہے جو کسی ایک کی بھی سنی جائے اب ان سے عثمان بزدار بطور وزیر اعلیٰ مہنگائی کنٹرول کرنے کی توقع کر رہے ہیں کیا سادگی ہے ان کی اور کیا بدقسمتی ہے عوام کی۔ (ش س م)



Source link