21

اغوا کے بعد اسلام قبول کر نے والی ہندو لڑکیوں کے کیس کا ڈراپ سین ۔۔۔ لاہور ہائیکورٹ نے اہم ترین کیس کا تاریخی فیصلہ سنا دیا


لاہور(ویب ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر زبردستی اسلام قبول کرنے والی 14 سالہ مسیحی لڑکی کو ان کے والد کے ساتھ بھیجنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصل آباد کے جاوید مسیح کی حبس بےجا سے متعلق درخواست پر سماعت کی،

یہ درخواست چودھری عبدالرشید ایڈووکیٹ نے پیش کی تھی۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ‘میری مسیحی بیٹی شالٹ مسیح کو اغوا کرنے کے بعد زبردستی اسلام قبول کروا کر ظفر نامی شخص کو فروخت کیا گیا’۔انہوں نے اپنی درخواست میں مزید بتایا کہ ظفر نامی شخص نے زبردستی اسلام قبول کرواکر ان کی بیٹی کے ساتھ زبردستی نکاح کیا۔دوران سماعت فیصل آباد کے تھانہ ٹھیکری والا کے اے ایس آئی حق نواز نے 14 سالہ مسیحی لڑکی کو عدالت میں پیش کیا۔لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ انہیں اغوا کرنے بعد زبردستی اسلام قبول کروا کر فروخت کیا گیا اور ظفر نامی شخص سے ان کا نکاح بھی زبردستی کروایا گیا۔متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔جس پر عدالت عالیہ نے لڑکی کے بیان کی روشنی میں اسے اس کے والدین کے ساتھ بھیجنے کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ ملک میں زبردستی مذہب تبدیل کروا کر شادیاں کروانے کے حوالے سے مختلف مواقع پر متعدد رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔اس سے قبل 24 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور ان کی رحیم یار خان منتقلی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔دوسرے ہی روز صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی سے مبینہ طور پر اغوا کی گئی 2 بہنوں اور ان کے شوہروں نے اپنے تحفظ کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی تھی۔



Source link