10

اسد عمر جو مرضی کر لے ڈالر نیچے نہیں آئے گا ، البتہ عمران خان اس مشکل سے ملک و قوم کو نکال سکتے ہیں ، مگر کیسے ؟ صف اول کے صحافی نے شاندار فارمولا بتا دیا


لاہور (ویب ڈیسک) سیانوں کا تو یہی کہنا ہے کہ بندے کے پاس کہنے کو اچھی بات نہ ہو تو وہ اپنا منہ بند ہی رکھے، سیانے تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ منہ اچھا نہ ہو تو کم از کم بات تو اچھی کرنی چاہئے، لیکن پی ٹی آئی کے وزراء ہوں

نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا رہنما وہ بات کو نہیں دیکھتے صرف اپنے منہ کو سامنے رکھتے ہیں، ایسی ایسی بقراطی جھاڑتے ہیں کہ زبان دانتوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔ اب نئی نکور بقراطی خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر مشتاق غنی کی طرف سے سننے کو ملی ہے۔ سنا ہے ان کی بقراطی کو سند پسندیدگی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی عطا کر دی ہے، جو خود سے بقراطی جھاڑنے اور بیانات کی قلا بازیاں دکھانے میں خاصی شہرت رکھتے ہیں۔ مشتاق غنی نے عوام کو مہنگائی سے بچنے کا یہ سنہری فارمولا عطا فرمایا ہے کہ وہ دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی کھانا شروع کر دیں۔ اس طرح ان کے سارے غم دور ہو جائیں گے، ایک تو ہمارے سیاسی رہنما کوئی سرکاری عہدہ ملتے ہی ذہنی طور پر پٹڑی سے نجانے کیوں اتر جاتے ہیں اب مشتاق غنی کو ہی لیجیے۔ موصوف سمجھتے ہیں کہ عوام کا مسئلہ صرف دو روٹیاں ہیں، اس لئے اگر وہ ایک کھانا شروع کر دیں گے تو ہر مسئلے سے آزاد ہو جائیں گے۔ چونکہ ان کے اپنے گھر میں بجلی، گیس، پٹرول، نوکروں چاکروں کی فوج مفت میں دستیاب ہے، اس لئے انہیں اندازہ ہی نہیں کہ غریب عوام اب اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ یوٹیلیٹی بلز دیں یا دو وقت کی روٹی کھائیں۔ وہ دو کی بجائے ایک روٹی کر بھی دیں، تب بھی مہنگائی کا عفریت ان کی جان نہیں چھوڑے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے تو کبھی ایسا فارمولا نہیں دیا، یہ ان کے اناڑی کھلاڑی کیا کر رہے ہیں۔

سنتے تھے کہ اپوزیشن حکومت کو الزام دیتی ہے کہ اس نے عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا ہے، لیکن اب تو حکومتی زعماء خود یہ کہتے پھر رہے ہیں ایک روٹی کھاؤ دوسری نہیں ملے گی۔ کیا ان لوگوں کی تربیت کرنے والا کوئی نہیں، اگر تربیت نہیں ہو سکتی تو کم از کم الٹے سیدھے بیانات سے تو انہیں رو کا جا سکتا ہے۔ اگر الٹے سیدھے بیانات دینے کی بدعت پر قابو پا لیا جائے تو شاید حکومت اپنے مائل پر بھی قابو پا لے۔ جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، ٹی وی پر ٹکرز چل رہے ہیں کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 148روپے کا ہو گیا۔ ابھی ایک دن پہلے تو اسد عمر نے بڑے طمطراق سے کہا تھا کہ اب ڈالر کی قیمت نہیں بڑھے گی۔ مگر ساتھ ہی بلاسوچے سمجھے کرنسی ڈیلرز اور سٹہ مافیا کے خلاف ایف آئی اے اور اسٹیٹ بنک کے ذریعے کریک ڈاؤن بھی شروع کر دیا۔ مارکیٹ میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ڈالرمارکیٹ سے غائب ہوا تو اس کی مانگ بھی بڑھ گئی، اور یہی صورتحال رہی تو ڈالر جلد ہی اڑا نیں بھرتا ہوا کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا، ایک طرف دو روٹیوں کی بجائے ایک روٹی کھانے کا فارمولا دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ڈالر کو کنٹرول کرنے کے لئے احمقانہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دونوں حماقتوں نے مل کر پاکستان کا برا حال کر دیا ہے۔ ڈالر کے حوالے سے جو بے یقینی پھیلی ہے، وہ کہاں جا کر ختم ہو گی۔ کیا واقعی ایف آئی اے اور اسٹیٹ بنک کے اقدامات ڈالر ذخیرہ کرنے

والوں کو ڈالر باہر لانے پر مجبور کر سکیں گے۔ جب اندھے کو بھی پتہ ہے کہ ڈالر نے نیچے نہیں جانا تو جنہوں نے ذخیرہ کر لیا ہے، وہ اسے بیچنے کے لئے باہر کیوں لائیں گے۔ ابھی کچھ ہی دیر پہلے مجھے نیشنل کونسل آف دی آرٹس اسلام آباد کا ایک نوٹیفیکیشن بھجوایا گیا ہے۔ جو ایوان صدر میں منعقد ہونے والے مشاعرے کے اخراجات کی تفصیل پر مبنی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 25دسمبر2018ء کو ایوان صدر میں جو مشاعرہ منعقد ہوا، اس پر 36لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔ جو ادا کر دیئے گئے ہیں، صدر عارف علوی تو بہت ہی ادب نواز نکلے، انہوں نے صرف مشاعرے پر 36لاکھ روپے خرچ کرنے کی منظوری دیدی، اس مشاعرے میں سب سے بڑے سامع بھی وہی تھے، ویسے تو وہ سادگی کی بڑی اچھی مثالیں قائم کرتے ہوئے، ان کی ایک ایسی تصویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں وہ کراچی ائیر پورٹ کے ایک بنچ پر لیٹے ہوئے ہیں، جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر سستانے کے لئے لیٹ جاتا ہے لیکن انہیں مغل شہنشاہوں کی طرح کیا ضرورت پڑ گئی کہ اپنے دربار میں مشاعرہ سجائیں اور 36لاکھ روپے صرف کر دیں۔ وزیر اعظم عمران خان تو آئینی طور پر انہیں ایسی سرگرمیوں سے روک بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ صدر مملکت ان کے تابع نہیں۔ مجھے تو رہ رہ کر صدر ممنون حسین یاد آ رہے ہیں۔ جو تقریروں کے درمیان اشعار تو بہت سناتے تھے، مگر انہوں نے لاکھوں روپے خرچ کر کے مشاعرہ سننے کی خواہش کبھی نہیں کی۔ تو صاحبو! جہاں 36لاکھ روپے ہوا کی طرح اڑا دیئے جاتے ہیں، وہاں جب حکومتی وزیر مشیر نیز سپیکر وغیرہ عوام کو یہ مشورہ دیں کہ

دو کی بجائے ایک روٹی کھاؤ اور موج اڑاؤ، وہاں سینے پر دوہتڑ مارنے کو جی چاہتا ہے۔ موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تھی تو اس کا سب سے بڑا ایجنڈا سادگی اور اخراجات میں کمی تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کو خالی کر دیا گیا۔ ملازمین نکال دیئے گئے بھینسیں بیچ دی گئیں گاڑیاں نیلام ہو گئیں، غرض ایک ہنگامہ برپا تھا کہ بچت کرنی ہے، مگر اب کیا ہو رہا ہے۔ کوئی دیکھے تو سر پیٹ لے۔ ایوان صدر جیسا الگ تھلگ ادارہ بھی اب ایک شام میں36لاکھ روپے خرچ کر دیتا ہے۔ صرف ڈنر کی مد ہی میں 2لاکھ باسٹھ ہزار روپے ادا کئے جاتے ہیں، یقیناً اس ڈنر میں بہت سی ڈشیں موجود ہوں گی اور کسی کے سامنے یہ سوال نہیں ہو گا کہ وہ ایک روٹی کھائے یا دس روٹیاں۔ ریاست مدینہ کی مثالیں دینے والی حکومت کے صدر مملکت اپنے ذوق شاعری کی تسکین کرنے کے لئے سرکاری پیسے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں حالانکہ جس ریاست مدینہ کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے، اس میں تو چراغ بھی اس وقت بجھا دیا جاتا تھا، جب سرکاری کام ختم ہو جاتا اور اپنے ذاتی تیل سے چراغ جلتا تھا۔ کپتان اگر فی الوقت عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے تو کم از کم اتنا ریلیف تو دیں کہ اپنے کھلاڑیوں کی زبان بندی کر دیں۔ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے بیانات اگر رک جائیں تو حکومت کے بارے میں یہ تاثر تو پیدا نہیں ہو گا کہ وہ نا اہل بھی ہے

اور بے حس بھی۔ وزیر اعظم تو عوام کو شیلٹر ہوم بنا کر دے رہے ہیں، جہاں وہ رہ بھی سکتے ہیں اور کھا پی بھی سکتے ہیں لیکن ابھی کیا پتہ وہاں بھی ایک سے زیادہ روٹی کھانے پر پابندی لگا جائے مشتاق غنی اور فواد چوہدری جیسے بقراطی ذہن کے مالک پارٹی رہنما عوام کو پیٹ پر پتھر باندھنے کا مشورہ دے رہے ہیں عوام کیوں پیٹ پر پتھر باندھیں، کیوں ایک روٹی کھائیں، ان کی روٹی کون چھین رہا ہے، کسی بڑے شخص نے تو اپنی مراعات کم نہیں کیں۔ ارکان اسمبلی نے تو ان میں اضافہ کیا ہے۔ ریاست تو ماں ہوتی ہے۔ اس کے حوالے سے ایسا تاثر پیدا ہی نہیں ہونا چاہئے کہ اس نے اپنے شہریوں کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ حیرت ہے کہ مشتاق غنی جیسے لوگوں کی نظر عوام کی دو روٹیوں پر تو ہے اپنے دستر خوان پر سجے انواع و اقسام کے کھانوں پر نہیں سوشل میڈیا پر لوگ بالکل درست مشتاق غنی پر تنقید کر رہے ہیں، ان سے یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ انہوں نے اسپیکر بننے کے بعد کتنے اخراجات کم کئے ہیں، اپنے بچوں کو دو کی بجائے ایک روٹی کھانے پر بھی مائل کیا ہے یا نہیں کہتے ہیں کہ جب پیٹ بھرا ہو تو انسان تبخیر معدہ کے زیر اثر اول فول بولتا ہے، پی ٹی آئی کے رہنما بھی کچھ ایسا ہی کر رہے ہیں اور اپنے کپتان کے لئے جگ ہنسائی کا پورا پورا سامان ہی نہیں بندوبست بھی کر رہے ہیں۔(ش س م)



Source link