33

نیاپاکستان ہاﺅسنگ اسکیم میں مفت جگہ حاصل کرنے کا فارمولہ سامنے آ گیا ، بے گھر غریب، افراد کے دل جیت لینے والی خبر


اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بے گھر غریب ، نادار یتیموں اور بیواﺅں کے لیے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا. اتنے بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا عملی طور پر انتہائی مشکل لیکن انسانی عزم و ہمت کے سامنے اس

کی کوئی اہمیت نہیں ہے. اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہاوسنگ سیکٹر کو ترقی دے کر ملکی صنعت کو بھی استحکام بخشا جا سکتا ہے‘ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا ویژن انتہائی قابل قدر اور قابل تقلید ہے اس ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پوری قوم کو یکجا ہو کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے.ان خیالات کا اظہار حبیب رفیق کنسٹرکشن کے چیف آپریٹنگ آفیسر ملک محمد اسلم نے ایک پروگرام میں کیا انہوں نے کہا کہ حکومت کو نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سر فہرست ڈویلپ شدہ جگہ کا حصول ہے جگہ کے حصول کے لیے میں حکومت کو رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کی حیثیت سے یہ تجویز دینا چاہوں گا کہ وہ ملک کے طول و عرض میں پھیلی منظور شدہ ہاﺅسنگ کالونیوں میں پبلک بلڈنگ کے لیے مختص ایک فیصد جگہ کو قانون سازی کے ذریعے قومی تحویل میں لے کر ڈویلپرز کو پابند کرے کہ وہ کہ اس مختص شدہ جگہ پر پلاٹ بنا کر حکومت کے حوالے کریں.ایسا کرنے سے نہ صرف بغیر ایک پیسہ خرچ کئے ڈویلپ شدہ جگہ ملے گی بلکہ پورے ملک میں گلگت سے لے کر کراچی تک اور مظفرآباد سے لے کر گوادر تک راتوں رات تمام شہروں میں وزیر اعظم عمران خان کے ویژن پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکتا ہے. ایسا کرنے سے کم سے کم وقت یعنی ایک مہینے کے اندر اندر کم از کم پانچ لاکھ گھروں کے لیے فوری طور پر ڈویلپ شدہ زمین دستیاب ہوگی

.ہاﺅسنگ کالونیوں میں موجود پبلک بلڈنگز کے لیے مختص ایک فیصد جگہ جگہ کو نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے لیے استعمال کرنے سے نہ صرف حکومت پر معاشی دباﺅکم ہوگا بلکہ پچاس سے زائد ملکی صنعتوں کا پہیہ بھی رواں دواں ہوگا. ملک اسلم نے کہا کہ میں اس بات کی وضاحت کچھ یوں کرنا چاہوں گا کہ اگر کوئی ایک ہاﺅسنگ کالونی سو ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہے تو اس کا ایک ایکڑ کالونی کی منظوری دینے والے ادارے کے نام پر منتقل کی جاتی ہے.اس ایک ایکڑ پر کم از کم تین مرلے کے 32 گھر تعمیر کیے جا سکتے ہیں. اگر انہیں اپارٹمنٹس یا فلیٹس کی شکل دی جائے تو پھر گھروں کی تعداد کم و بیش سو کے عدد تک پہنچ سکتی ہے. ملک محمد اسلم نے کہا کہ حکومت کو چاہئیے کہ ڈویلپرز سے رابطہ کرکے انہیں عوامی مفاد عامہ کے اس عظیم الشان پراجیکٹ کے حوالے سے اعتماد میں لے. اگر حکومت چاہے تو بڑے ڈویلپرز اپنے اپنے ہاﺅسنگ پراجیکٹس میں بطور پائلٹ پراجیکٹ پبلک بلڈنگز والی جگہ پر گورنمنٹ کو پلاٹ ڈویلپ کرکے دے سکتے ہیں. لیکن پائلٹ پراجیکٹ سے قبل حکومت کو چاہئیے کہ وہ پبلک بلڈنگ کے لئے مختص شدہ جگہ کا قانونی کنٹرول حاصل کرکے ہمارے حوالے کرے. پراجیکٹس میں بطور پائلٹ پراجیکٹ پبلک بلڈنگز والی جگہ پر گورنمنٹ کو پلاٹ ڈویلپ کرکے دے سکتے ہیں. لیکن پائلٹ پراجیکٹ سے قبل حکومت کو چاہئیے کہ وہ پبلک بلڈنگ کے لئے مختص شدہ جگہ کا قانونی کنٹرول حاصل کرکے ہمارے حوالے کرے.



Source link