19

خوش اس لیے ہوں کہ ملا عمر افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے قریب رہائش پذیر تھےاور ہنس اس بات پر رہا ہوں کہ۔۔۔۔۔نامور صحافی حامد میر نے حیران کن بات کہہ ڈالی


اسلام آباد (ویب ڈیسک )طالبان کے بانی سمجھے جانے والے رہنما ملا محمد عمر کے بارے میں ایک نئی کتاب میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امریکی فوجی اڈوں کے بہت قریب رہائش پذیر تھے۔ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافی بیٹی ڈیم کی نئی کتاب دی سیکریٹ لائف آف ملا عمر

میں کہا گیا ہے کہ عمومی طور پر امریکی حکام یہ سمجھتے رہے تھے کہ وہ پاکستان میں چھپے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ہالینڈ کے صحافی نے حال ہی میں ملا عمر کے بارے میں ایک کتاب شائع کی ہے جس میں انہوں نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں جن میں سے بڑا ایک انکشاف یہ تھا کہ ملا عمر افغانستان میں امریکی بیس کے تین میل فاصلے پر رہتے رہے تاہم اس پر حامد میر بھی میدان میں آ گئے ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی پاکستان اور افغانستان میں نمائدہ کیتھی گینن نے ٹویٹرپر پیغام جاری کر تے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں جانتی کہ ملا عمر کی موت کہاں ہوئی لیکن یہ حیران کن نہیں ہے اس نے گیا نہیں۔وہ نہ تو اسامہ ہے اور نہ ہی حقانی،وہ اپنی حکومت میں کبھی کابل نہیں آیا۔اس کی آرام گاہ کراچی اور کوئٹہ نہیں ہو سکتی۔وہ افغانستان کا گاﺅں ہو سکتی ہے۔میرا مشورہ ہے کہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔اس ٹویٹر پر جواب دیتے ہوئے پاکستان کے سینئر صحافی حامد میر نے لکھا کہ میں اس لیے خوش ہوں کہ ملا عمر افغانستان میں امریکی بیس کے بہت قریب ہی چھپا ہوا تھا اور میں اپنے اوپر اس لیے ہنس رہا ہوں کیونکہ جب میں نے کہا کہ ملا عمر افغانستان میں مر چکا ہے تو سمی یوسفزئی نے بھی یہی کہا لیکن مغربی میڈیا نے ہمارے دعوے پر شک کیا اور اب بیٹ ڈیم نے بھی ہماری تائید کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں خوش ہوں ۔



Source link