15

بریکنگ نیوز: وزارتوں والی پیشکش کے بعد حکومت کا مولانا سے ایک مرتبہ پھر رابطہ ۔۔۔ مگر اس بار کیا پیشکش کی گئی ہے؟ جانیے


اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں، 27 اکتوبر کو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں، مولانا کا ایجنڈا واضح نہیں ہے کہ آزادی مارچ ہے کس چیز کا؟ وہ جا کر لائن آف کنٹرول پر دھرنا دیں،

حکومت ان کا ساتھ دے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غلام سرور خان نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز خود ہی کہا تھاکہ نہ کسی کو مجاز ٹھہرایا ہے نہ کسی کمیٹی کی ضرورت ہے جس طرح کی مولانا کی حکمت عملی ہوگی ویسی ہی حکومت کی ہوگی۔وفاقی وزیر غلام سرور کا کہنا ہے کہ مو لانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے تو ایک لفظ کشمیر پر نہیں بولے، اب اگر دنیا کشمیر پر بات کررہی ہے تو مولانا اس کو خراب نہ کریں۔غلام سرور خان نے مزید کہا کہ فضل الرحمان کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم بات کرنے کیلئے تیار ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں کہا تھا کہ کمیٹی کے قیام کی فی الحال ضرورت نہیں، جمعیت علمائے اسلام سے مذاکرات کا آپشن کھلا ہے، اگر کوئی خود بات کرنا چاہے تو دروازے بند نہیں ہیں۔یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔آزادی مارچ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے وفاقی و صوبائی وزراء اور جے یو آئی کے رہنماؤں کے درمیان تندوتیز بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔آزادی مارچ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے وفاقی و صوبائی وزراء اور جے یو آئی کے رہنماؤں کے درمیان تندوتیز بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔



Source link