15

بریکنگ نیوز: ہوا کا رخ بدلتے ہی فواد چوہدری نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹھینگا دکھا دیا۔۔۔ تحریک انصاف میں بڑی بغاوت کی خبر آ گئی


کراچی(ویب ڈیسک) وفا قی وزیر برائے سائنس فواد چوہدری کے ایم کیو ایم سے متعلق بیان پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ایم کیو ایم کی قیادت نے تحریک انصاف کی قیادت سے ناراضگی کا اظہار بھی کردیاہے۔کراچی سےاس ضمن میں ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن

کی طرف سے کہاگیاہے کہ فواد چوہدری کچھ روز سے عمران خان مخالف خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ فواد چوہدری کی طرف سے بیان پی ٹی آئی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہا کہ فواد چوہدری ایم کیوایم پاکستان کے مستقبل کی فکر کے بجائے اپنی موجودہ اور سابقہ جماعتوں کے مستقبل کی فکر کریں۔عامر خان نے کہا کہ فواد چوہدری جیسے نالاحق اور نا سمجھ وزرا کے سبب ہی تحریک انصاف کوحکومت سازی اور حکومت چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری وزیراعظم پاکستان عمران خان کے وژن کی مخالف بھی ہیں۔فواد چوہدری تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔دوسری جانب جہاں ایک طرف ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے نواز شریف سے ملاقات کرنے سے انکار کیا ہے وہیں یہ تاثر بھی ہایا جا رہا ہے کہ مقتدر حلقوں میں شہباز شریف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے بھی شہباز شریف سے متعلق کچھ ایسا ہی اشارہ دیا ہے جس سے یہ پیغام مل رہا ہے کہ شہباز شریف کسی بھی صورت تصادم کی سیاست نہیں چاہتے۔وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ن لیگ میں دھڑے بندی ہو گئی ہے۔شہباز شریف حکومت کی طرف سے دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ 2014ء میں پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران بھی قانون حرکت میں آیا تھا۔اب بھی قانون حرکت میں آئے گا۔انہوں نے کہا ن لیگ دھڑے بندی کا شکار ہو گئی ہے۔شہباز شریف حکومت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں۔لیکن حکومت کسی بھی کرپشن زدہ آدمی کا ہاتھ نہیں تھامے گی۔جب کہ دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں چار بار وزیرِاعظم بننے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اجلاس میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں چار بار وزیر اعظم کی پیشکش ہوئی جسے انہوں نے ٹھکرادیا، نواز شریف سے بغاوت کا تصور بھی نا ممکن ہے۔شہباز شریف نے اپنے خدشات اور تحفظات کے باوجود نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور نواز شریف کو دیے گئے اپنے مشوروں پر بھی پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مجھے جو حکم دیں گے وہی میرا فیصلہ ہوگا، میری رائے مختلف ہو سکتی ہے لیکن فیصلے کا اختیار نواز شریف کا ہی ہے۔خیال رہے کہ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے شہباز شریف کو بطور وزیراعظم آپشن نمبر ٹو پر رکھا ہوا ہے۔اور عمران خان کی حکومت ناکام ہونے کی صورت میں انہیں اقتدار میں لایا جا سکتا ہے،



Source link