34

حکومت کا چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کو تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ، مگر کیوں ؟ ناقابل یقین اعلان


اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت کا چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کو تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کابینہ نے شبر زیدی کی بطورِ چئیرمین تعیناتی منظور کر لی ہے۔ حکومت نے 9 مئی2019کو شبر زیدی کو پرائیویٹ سیکٹر سے چئیرمین ایف بی آر لگایا تھا۔ انہیں اعزازی طور پہ اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

چبر زیدی نے تنخواہ اور مراعات نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور اب وفاقی کابینہ نے انکی مراعات کے حوالے سے سمری منظور کر لی ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 5ماہ بعد کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے سمری منظور کروائی ہے۔ اس سمری کے مطابق شبرزیدی کو تنخواہ نہیں دی جائے گی اور نہ انہیں حکومت کی جانب سے میڈیکل دیا جائے گا۔ انہیں 1600سی سی گاڑی ملے گی اور وہ 2سال تک چئیرمین ایف بی آر رہیں گے۔وفاقی حکومت نے ٹیکس امور کے ماہر شبر زیدی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا چیئرمین تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے خود ایک پریس کانفرنس کے دوران شبرزیدی کو چئیرمین ایف بی آر تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔شبر زیدی ٹیکسیشن کے ماہر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں اور وہ 2013 کے انتخابات سے قبل بننے والی سندھ کی عبوری حکومت میں وزیر بھی رہے ہیں۔ سید شبر زیدی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں پانامہ لیکس بلیسنگ ان ڈسگائس، آشور ایسٹس آف پاکستانی سٹیزنز اور پاکستان ناٹ اے فیلڈ اسٹیٹ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مئی میں اپنی معاشی ٹیم میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ سے استعفیٰ لیا تھا جبکہ چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو بھی عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ حکومت نے آئی ایم ایف کے عہدیدار رضا باقر کو آئندہ تین سال کیلئے اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا تھا اور اب شبر زیدی کو 2سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا چئیرمین تعینات کیا گیا تھا۔



Source link