13

پاکستان اس کام کے لیے بالکل تیار بیٹھا ہے اور جلد ہی ۔۔۔۔ نامور دفاعی تجزیہ کار نے موجودہ حالات کے حوالے سے قوم کو بریکنگ نیوز دے دی


لاہور (ویب ڈیسک)سابق وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)معین الدین حیدر نے کہاہے کہ پاکستان اب بھی افغان امن عمل میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے، طالبان کے تحفظات کچھ اتنے زیادہ نہیں تھے ۔دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر)معین الدین حیدر نے کہاہے کہ پاکستان اب بھی افغان امن عمل میں کردار ادا

کرنے کیلئے تیار ہے ۔ طالبان کے تحفظات کچھ اتنے زیادہ نہیں تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان میں انسانی حقوق پر عمل کریں اور خواتین کو حقوق دیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر طالبان یہ کہیں کہ 1992والے حالات لے آئیں گے کہ کوئی ٹی وی دیکھے گا تو کوڑے ماریں گے اور خواتین کوڑے ماریں گے تو یہ نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اب بہت آگے بڑھ چکاہے اور افغان عوام طالبا ن کے ماضی والے اقدامات کو قبول نہیں کریں گے ۔واضح رہے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ 10 ماہ سے جاری مذاکرات اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تین ’بم شیل ٹویٹس‘ پر ختم ہوئے۔ کچھ سیکنڈز میں کیے گئے مسلسل تین ٹویٹس میں امریکی صدر نے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی منسوخی کی وجہ جمعرات کو کابل میں ہونے والا خودکش حملہ قرار دیا، جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو قریب سے دیکھنے والے مبصرین صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے جواز کے قائل نہیں کہ صرف ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر اُنھوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے امریکی سیاست میں متحرک وہ لابی ہو سکتی ہے جو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے خلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ اس معاہدے کے بعد بھی افغانستان میں امن ممکن نہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاہدہ طالبان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے



Source link