12

اب کی بار اقوام متحدہ میں اگر پاکستان یہ کام کرنے میں ناکام ہو گیا تو بھارت کو کس چیز کا لائسنس مل جائے گا؟ ڈاکٹر شاہد مسعود کا پاکستانیوں کی آنکھیں چندھیا دینے والا انکشاف


لاہور(ویب ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ قرارداد منوائی نہ گئی توبھارت چارہاتھ مزید آگے ہوگا، دیکھنا ہوگا ہمارا قرارداد میں مطالبہ کیا ہوگا؟ آرٹیکل 370کی واپسی اورکشمیریوں کو حق خودداریت کا حق واپس دلوانے کا مطالبہ ہوگا یامذاکرات کی بات ہوگی،وزیرخارجہ کا وہاں ہونا بہت ضروری ہے،

اگر شاہ محمودقریشی وہاں نہیں ہوتے توپھر پاکستان کا مقدمہ ملیحہ لودھی لڑیں گی۔انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، کہ پاکستان نے اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس توبلا لیا گیا ہے لیکن اجلاس کے سامنے قرارداد کیا پیش کی جائے گی؟ہم اقوام متحدہ میں گئے ہیں لیکن ہمارا مطالبہ کیا ہے؟قرارداد میں اگر یہ مطالبہ ہے کہ آرٹیکل 370جس کو مودی نے ختم کیا ہے اس کو واپس لے، اسی طرح کشمیریوں کو حق خودداریت کا حق واپس دیا جائے پھر توٹھیک ہے لیکن اگر قرارداد کے الفاظ ہی ایسے ہوں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کروائے جائیں۔تومذاکرات پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، سب کہیں گے جائیں مذاکرات کریں۔قراردادکے موقعے پر وزیرخارجہ کا وہاں ہونا بہت ضروری ہے۔کیونکہ یہ ہمارا مقدمہ ہے۔اگر شاہ محمودقریشی وہاں نہیں ہوتے توپھر پاکستان کا مقدمہ ملیحہ لودھی لڑیں گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ہمیں قرارداد پیش کرکے منوانا چاہیے ورنہبھارت چار ہاتھ اور آگے چلا جائے گا۔کیونکہ مودی پہلے ہی ناچ رہے ہیں۔ اگر قراداد منظور ہوگئی تووہ کہیں گے ٹھیک ہے جب حالات کامیاب ہوں گےتوہم مذاکرات کرلیں گے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جب ہم نے بھارت کا طیارہ گرایا تھا توحالات ہماری فیور میں تھے۔ لیکن اب بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے، اگر بھارت تمام معاملات کواسی جگہ روک دیتا ہے توحالات اس کی فیور میں ہوں گے۔دیکھنا یہ ہے کہ سکیورٹی کونسل کے پانچوں ممالک کس طرف جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے آج تک کچھ نہیں کیا، فضول سا فورم ہے،دنیا میں اتنی تباہی ہوئی، کوئی حل نہیں کیا۔



Source link