14

’’خان صاحب غلطی ہو گئی۔۔۔‘‘بھارت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط ، ناقابل یقین درخواست کر دی گئی


نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ یہ خط بھارت کے مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امر یندر سنگھ کی طرف سے لکھا گیا ہے۔خط میں کرتار پور کوریڈور کا کام جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی پنجاب کے وزرا سے ملاقات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہیں جس کی وجہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیا جانا ہے جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کم کر دیئے ہیں اور بھارتی سفیر کو پاکستان سے واپس بھیجا جاچکا ہے جبکہ ریل اور بس کے رابطے بھی منقطع کردیئے گئے ہیں، تناوَ کے اس ماحول کے باوجود پاکستان کی طرف سے کرتارپور راہداری کی تعمیر جاری ہے اور اب بھارت کے مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امر یندر سنگھ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو ملاقات کرنے کی درخواست کا خط لکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی وفد کے جلد ہی پاکستان آنے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق کرتارپور راہداری پر بات چیت کےلئے بھارتی پنجاب کے سینئر وزیر اور اراکین پارلیمنٹ کے ایک وفد کی پاکستان آمد کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدہ ہیں جس کی وجہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیا جانا ہے جبکہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کم کر دیئے ہیں اور بھارتی سفیر کو پاکستان سے واپس بھیجا جاچکا ہے جبکہ ریل اور بس کے رابطے بھی منقطع کردیئے گئے ہیں، تناوَ کے اس ماحول کے باوجود پاکستان کی طرف سے کرتارپور راہداری کی تعمیر جاری ہے اور اسی سلسلے میں بات چیت کے لئے مشرقی پنجاب کے وزیر اور بھارت کی طرف سے کرتارپور راہداری کے بارے میں بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ سکھ جیندر سنگھ رندھاوا کی سربراہی

میں مشرقی پنجاب کے 3 وزرا پر مشتمل ایک وفد کی پاکستان آمد کی اطلاعات ہیں۔یہ وفد پنجاب کے وزیراعلی سردار عثمان بزدار، وزیراعظم عمران خان اور گورنر پنجاب سے بھی ملاقات کرے گا۔ ذرائع کے مطابق مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امر یندر سنگھ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے کرتار پور کوریڈور کا کام جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارتی پنجاب کے وزرا سے ملاقات کی درخواست بھی کی گئی ہے ۔بھارتی پنجاب کے وزرا کا وفد 22 سے 28 اگست کے درمیان واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آسکتا ہے ۔ دوسری جانب وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کا آخری حد تک ساتھ دیں گے، اللہ تعالیٰ نے عمران خان اور حکومت کو کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کا موقع دیا ہے، سلامتی کونسل کوخون خرابے سے قبل اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے لاہور میں یوم سیاہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ 11واں دن ہے اورکشمیر میں کرفیو نافذ ہے، کھانا دستیاب نہیں، ادویات میسر نہیں، تمام قیادت پابند سلاسل ہے۔کشمیراور ریاست کومٹانے کیلئے مودی نے جوچال ہے اس کو کشمیری قوم نے مسترد کردیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ساری قوم کو کشمیریوں کو یکجا ہونا چاہیے۔ پاکستانی کی تمام سیاسی قیادت کو کشمیر کاز کیلئے متحد ہوجانا چاہیے، یہ سیاست کا وقت نہیں ہے۔ کشمیر وادی، لداخ مصر بن چکا ہے، سب کی نگاہیں پاکستان اور دنیا کی طرف لگی ہوئی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کشمیریوں کا مقدمہ عالمی سطح پر پہنچ چکا ہے، اس سے پہلے خون خرابا ہو، سلامتی کونسل کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔



Source link