17

مونچھوں سے پکڑنے کی بات


ہم بھی یقیناً کام کے آدمی ہوتے اگرمرشد کی طرح ایک وجہ سے نکمے نہ ہوتے، مرشد کو تو عشق نے نکما کردیا تھا لیکن ہمیں تو عشق نے نہیں نہ جانے کس چیز نے نکماکیا ہوا ہے اسے اگر تعلی نہ سمجھے تو باقی اندر بہت ساری خوبیاں ہیں لیکن حافظے اور یادداشت کی طرف سے مارکھا جاتے ہیں۔

’’بات‘‘تو یاد رہ جاتی ہے لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ بات کس نے ؟کب؟ اور کہاں کی تھی۔مثلاً اب ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ کسی نے ایک اور ’’کسی‘‘کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ہم‘‘اسے ’’مونچھوں‘‘سے پکڑکرلائیں گے۔لیکن یہ بالکل یاد نہیں کہ یہ کس نے کس کے بارے میں کہا تھا،کیونکہ ’’مونچھیں‘‘تو بہت سارے لوگوں کی ہوتی ہیں اور پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ ہے کہ جن کی مونچھیں نہیں ہوتیں یا نہیں ہیں انھیں ’’کہاں‘‘سے پکڑا جائے یاپکڑا گیا ہے۔

پشتو میں کہاوت ہے کہ میرے محبوب کوماردیا اب کیا پوچھنا کہ تیر سے مارا تلوار سے یا بندوق سے یا اینٹ پتھر سے۔لیکن یہ مونچھوں سے پکڑنے والی بات ہمیں اس لیے کٹھک رہی ہے کہ کرتا ہمیشہ ’’بے مونچھوں‘‘والاہے اور پکڑا جاتاہے، بیچارا مونچھوں والا۔ اب وہ داڑھی اور مونچھ والی کہاوت کچھ زیادہ اہم اس لیے نہیں ہے کہ وہ ایکٹ گزرچکاہے جس میں داڑھی اور گلوبٹ کی مونچھیں ملوث تھیں۔کہ دونوں ہی اس ’’سوپ سیریل‘‘میں اپنا اپنا پارٹ اداکرکے جاچکے ہیں۔

’’سوپ سیریل‘‘کے بارے میں یہ ہے کہ یہ وہ سیریل ہے جو آج سے لگ بھگ اکہترسال پہلے لانچ ہوا تھا اور ابھی تک چل رہا ہے بلکہ دوڑ رہا ہے کیونکہ رائٹر ڈائریکٹر بدلتے رہتے ہیں اور نئے آنے والے رائٹرڈائریکٹراس میں نئے نئے ایکٹ ڈالتے رہتے ہیں اور خوبصورت خوبصورت ’’موڑ‘‘دیتے رہتے ہیں۔

اس میں اکثرمہمان اداکار بھی کینیڈا،لندن امریکا دبئی وغیرہ سے آجاتے ہیں اور اپنا اپنا کردار ادا کرکے چلے جاتے ہیں تاآنکہ اگلے کسی سین میں ان کی ضرورت نہ پڑے۔اب جو ڈرامہ سوپ ہے سیریل ہے تو اس میں کرداروں کے ساتھ ساتھ کاسٹیوم اور پراپرٹی کی ضرورت تو پڑتی رہتی ہے کبھی کبھی مونچھوں کی کبھی کبھی داڑھیوں کی، پگڑیوں کی، ٹوپیوں کی۔بلکہ سب سے زیادہ ضرورت اور اہمیت ان  ہی چیزوں کی پڑتی ہے مونچھیں نہ ہوں تو کسی کو پکڑا کیسے جائے گا اور کہاں سے۔چنانچہ کسی کی مونچھیں نہ ہوں اور کردار کی ڈیمانڈ ہو تو لازماً نقلی مونچھوں کا بندوبست کرنا پڑتا ہے اور ساتھ ہی داڑھی کی بھی۔کیونکہ جب مونچھوں والا کچھ کرے تو پکڑا جائے داڑھی والا۔اور اگر داڑھی والے کو چور ثابت کرناہو تو اس کی داڑھی میں ’’تنکا‘‘بھی ہو چنانچہ ’’تنکوں‘‘کا ہونا بھی لازمی ہے۔

ایک تو ہماری یادداشت کچھ گڑبڑہے، اوپر سے سوپ سیریل میں مونچھوں اور داڑھیوں کے سین اتنے زیادہ آتے رہتے ہیں کہ یاد نہیں رہتا کہ کہاں کہاں مونچھوںنے کیاکیا اور داڑھیوں سے کیاکیا برآمد ہوا۔ اب مثلاً ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ اس ڈرامے میں ایک ایکٹ ایسا تھا جس میں ڈیمانڈ کے مطابق داڑھی کہیں اور سے درآمد اور پھر برآمد کی گئی تھی۔جو دو دن بہارجانفز دکھلاکر چلی گئی تھی اور کہاوت کو قطعی الٹاکیا داڑھی والے نے۔اور پکڑا گیامونچھوں والا۔ لیکن اس ایکٹ کے بارے میں ہماری خداماری ’’یادداشت‘‘کام نہیں کررہی ہے کہ اس ’’مونچھوں والے‘‘ کو جوپکڑا گیاتھا نام کیاتھا؟

بس اتنا سا یاد آرہاہے کہ۔کچھ گولو گولو یا لوگو لوگو یا گلو گلوجیسا تھا جس کے ساتھ کچھ اور بھی کٹ یاجٹ یا بھٹ لٹ وغیرہ۔یا بلوگٹ، للوجٹ یا گلوبٹ جیسا کوئی نام تھا۔یہی تو ہماری اس کم بخت آدھی ادھوری یادداشت کا پورا پورا پرابلم ہے مثلاً اس ڈرامے بلکہ سوپ سیریل میں بہت پہلے ایک ایسا ایکٹ بھی تھا۔ جس میں کسی کو بھینس کی چوری میں پکڑا گیاتھا حالانکہ اس کے پاس’’ڈنڈا‘‘ بھی نہیں تھا ’’ڈنڈا‘‘ پکڑنے والوں کے ہاتھ میں تھا۔گویاجس کا ڈنڈا اس کا بھینس چور۔

یہی تو اس سوپ سیریل کی خصوصیت ہے کہ کسی سے کچھ بھی برآمد ہوجاتاہے چیونٹی کے نافے سے ہاتھی اور بکری کی جیب سے شیر بھی برآمدہوجاتاہے بلکہ مونچھوں سے دس کلو ہیروئن بھی۔کبھی کبھی تو ہیروئین ولن کی گاڑی یا جیب سے بھی برآمد ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی پتہ چلتا ہے کہ ہیرو اصل میں ولن تھا اور ولن ہیروئن کے ساتھ’’ڈوئڈ‘‘گا رہا تھا۔ایک ایسا ایکٹ بھی ہمیںآدھا ادھورا یاد ہے جس میں ایک ’’شہدچور‘‘کے قتل میں ’’سنار‘‘ کو پھانسی پرلٹکایا لیکن پھندا کھلنے پر لوہار کو پھانسی دے دی گئی تھی۔اس سلسلے میں ہماری یادداشت کا قصور تو ہے ہی لیکن ایک وجہ یہ ہے کہ اس سوپ سیریل کے رائٹر اور ڈائریکٹر بھی اکثر بدلتے رہتے ہیں۔

جن کی یادداشت بھی ہماری جیسی ہوتی ہے اس لیے کرداروں کی کنٹی نیوٹی برقرار رکھ نہیں پاتے۔خیر ان سب کو ’’سردرد‘‘کی گولی ماریے اس بات میں ہماری مدد کیجیے کہ وہ مونچھوں سے پکڑنے والی بات کس نے کی تھی کب کی تھی اور کس بارے میں کی تھی؟،اس کی ضرورت یوں پڑگئی ہے کہ ہم مونچھوں پرایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں ہم تاریخ کی خاص خاص مونچھوں کا ذکر کرنا چاہتے ہیں اور مونچھوں سے پکڑنے کا یہ واقعہ خاص واقعات میں شامل ہے۔

لیکن کیاکریں کہ کس نے کب یہ کہاتھا کہ میں کس کو مونچھوں سے پکڑوں گا اور آیا پھرپکڑلیایا نہیں اور اگر پکڑلیاتھا تو مونچھوں ہی سے پکڑاتھا یاکسی اور چیز سے۔ اور جس نے پکڑاتھا اس کی مونچھیں تھیں یانھیں اور اگر نہیں تھیں تو وہ تاؤ کس چیز کو دیتاتھا۔اور یہ توبتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاملہ تحقیق کاہے اور تحقیق میں اندازوں کے بجائے حقائق جمع کرناپڑتے ہیں، اس لیے اگر کسی کو بہ تحقیق پتہ ہو تو وہ ہمیں بتادے کہ اصل واقعات کیاتھے کس نے کس کو مونچھوں سے پکڑنے کی بات کی تھی اور آیا وہ بات پھر پوری بھی ہوگئی یا نہیں۔





Source link