22

عدل و انصاف کے تقاضے


ان دنوں عدل وانصاف کی ہر طرف دہائی پڑ رہی ہے۔ ہر فریق یہ کہہ رہا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس ملک کے بے بس و بے کس عوام کے ساتھ بھی انصاف ہونا چاہیے لیکن عوام بھلا کس کھیت کی مولی ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم و ناانصافی کرنے والوں کے بارے میں کوئی سوچے۔

سخت گیری اور اپنے احکامات کو منوانے میں شدت پسندی کا رویہ دنیا کی ہر ریاست کی نہاد و بنیاد میں شامل ہے لیکن یہ سخت گیری اور شدت پسندی جب ایک خاص حد سے بڑھ کر ظلم اور جبر کی آگ بن جاتی ہے تو یہ آگ خود اس ریاست اور اس سماج کو خاکسترکرکے چھوڑتی ہے۔

بیسویں صدی میں اس کی ایک نہیں کئی بھیانک اور ناقابل یقین مثالیں ہیں۔ نسلی صفائی کے نام پر نازیوں نے جس طور ساٹھ لاکھ یہودیوں کا ستھراؤکیا اس کے نتیجے میں آخرکار نازی خود تہس نہس ہوگئے اور اب اسرائیلی جوکچھ فلسطینیوں کے ساتھ کررہے ہیں اس کا حساب کتاب بھی ہوکر رہے گا۔ اسی طرح جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت نے سیاہ فام اکثریت کے ساتھ صدیوں جوکچھ کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج سیاہ فام اقتدار میں ہیں اور سفید فام اقلیت اپنے صدیوں پرانے اقتدار سے محروم ہوچکی ہے۔ سابق سوویت یونین کے بیگارکیمپوں کی تفصیل میں جائیے تو یقین نہیں آتا کہ انسان دوسرے انسانوں پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لیے کن پستیوں میں بھی اتر سکتا ہے۔

سابق سوویت یونین میں ایک شخص بیریا تھا جو 30برس تک سوویت یونین میں خوف ودہشت کی علامت رہا۔ اس کے اشارۂ ابرو پر بڑے بڑے لوگ آخری درجے کے ظلم وستم سے گزار دیے جاتے۔ سیاستدان، ادیب، شاعر، مصور اور حقوق انسانی کی بات کرنے والے ’’ احتساب ‘‘ اور ’’کرپشن‘‘ کے نام پر سرد جہنم سائیبریا میں دھکیل دیے جاتے تھے۔ جہاں کا درجہ حرات منفی 40 سے منفی 50تک رہتا تھا۔ناکافی غذا، ناکافی لباس میں قیدیوں سے ناقابل برداشت جسمانی مشقت لی جاتی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس سرد جہنم میں دھکیل دیے جانے والے اپنے نام، اپنی شناخت سے محرم کردیے جاتے اور ایک ’’نمبر‘‘ کی حیثیت اختیار کرلیتے۔

وقت پلٹا، بیریا گرفتار ہوا اس پر مقدمہ چلا اور اسے موت کی سزا دی گئی۔ وہ شخص جس نے لوگوں کو ان کے نام سے محروم کردیا تھا، وہ زندگی سے محروم ہوا۔اسے صرف موت کی سزا ہی نہیں دی گئی بلکہ اس کے تمام سابقہ اعزازات بھی اس سے چھین لیے گئے ۔ 45 برس بعد اس کے بیٹے نے باپ کی سابقہ حیثیت اور منصب کی بحالی کے لیے مقدمہ لڑا، شاید اس آس میں کہ سوویت یونین کی ریاست جس نے بیریا سے زندگی اور یہ اعزازات چھینے تھے، وہ تحلیل ہوچکی ہے، چنانچہ روسی عدلیہ شایدکسی قسم کی نرمی کا مظاہرہ کرے گی اور بیریا کی حیثیت کی بحالی اس کے خاندان کے منہ پر لگی ہوئی کالک دھوسکے گی۔ یہ مقدمہ اس لیے لڑا جاسکا کہ روسی قوانین کے مطابق اگر کسی شخص کو غلط اور بے بنیاد الزامات کے تحت موت کی سزا دی گئی ہو تو اس کے عزیز رشتہ دار اس کی ’’بحالی‘‘ کے لیے قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں روسی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کی کارروائی کا بہ غور جائزہ لے رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی سپریم کورٹ اگر بیریا کی ’’بحالی‘‘ کا حکم نامہ جاری کردیتی تو یہ ان ہزاروں لاکھوں انسانوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ظلم ہوتا جو بیریا کے ظلم و جبر کی بناء پر بدترین اذیتیں سہہ کر ہلاک ہوئے۔

سپریم کورٹ نے بیریا کی بحالی کی درخواست خارج کرتے ہوئے اپنے متفقہ فیصلے میں تحریر کیا کہ یہ قانون ان لوگوں کے لیے ہے جو ریاستی جبر اور تشددکا شکار ہوئے ہوں۔ چنانچہ اس قانون کا اطلاق بیریا اور اس کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارے جانے والے اعلیٰ پولیس افسران پر نہیں ہوتا کیونکہ وہ خود ریاستی جبر و تشدد کو نافذ کرنے والوں میں سے تھے۔

بیسویں صدی کے عظیم ادیب سولزے نتسن نے اپنی یادداشتوں میں بیریا کے بارے میں لکھا ہے کہ بیریا کے زوال کی خبر ہم لوگوں پر (بیگارکیمپ میں کام کرنے والوں پر) بجلی بن کرگری۔ وہ Archipelago کا سرپرست، اس کا وائسرائے، بے تاج بادشاہ تھا۔ یہ خبر جب ریڈیو سے نشر ہوئی تو اس کے محکمہ خفیہ (MUD) کے افسران کی گھبراہٹ اور احساس ذلت دیدنی تھا۔

ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لاؤڈ اسپیکروں سے نشر ہونے والی اس خبرکو ہاتھ سے پکڑ کر لاؤڈ اسپیکروں میں واپس ٹھونس دیں۔اس کے بجائے انھیں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے مربی، اپنے سرپرست کی تصویریں دیواروں سے اتارنی پڑیں اور اپنے ان ہاتھوں سے پھاڑنی پڑیں جن سے وہ بیریا کو سلامی دیتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اب ان کی باری ہے چنانچہ متعدد اہلکار اور افسر اچانک قیدیوں پر مہربان ہوگئے۔ بیریا کے زوال نے صرف اس کی ذات کو ہی نہیں، اس کی سرپرستی میں چلنے والی تمام خفیہ ایجنسیوں کا نام داغدارکردیا۔ اس سے پہلے کسی قیدی، کسی آزاد شہری کو اگر اپنی زندگی عزیز تھی تو اس کی مجال نہیں تھی کہ وہ خواب میں بھی کسی خفیہ ایجنسی کے افسر یا اہل کار کے حب وطن اور اس کی دیانتداری پر شبہ کرسکے لیکن اب کسی کو ’’بیریا کا وفادار‘‘ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ نے اسے اپنے دفاع کے قابل ہی نہیں چھوڑا ہے۔

سولزے نتسن کی یاد داشتیں پڑھتے ہوئے چند بہت دلچسپ جملے نظر سے گزرے۔ ان میں سے چند آپ کی نذر ہیں:

٭… جج اپنے چیمبر میں ایک ٹیلی فون کی شکل میں رکھی ہوئی ’’سیاہ سچائی‘‘ کو ہر لمحہ اپنے سامنے رکھتا ہے۔ وہ جب تک اس سے وصول ہونے والے فیصلے سناتا رہے گا، اس کے لیے معجزے رونما ہوتے رہیں گے۔

٭… ججوں کے اے محترم ٹولے مرحبا ! خدا کرے کہ انصاف آپ کے قدموں کے نیچے دبیز قالین کی طرح بچھا رہے۔

٭… کسی بھی سماج میں بس اسی وقت بہتری آسکتی ہے جب ہر گنہگار سزا پائے اور مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران کو انعامات دیے جائیں۔

٭… ہمارے قانون میں جھوٹی شہادت دینے والے کے لیے کوئی سزا نہیں، بلکہ قانون اس عمل کو جرم ہی تصور نہیں کرتا۔ ہمارے یہاں جھوٹی شہادت دینے والوں کی ایک فوج موجود ہے جو نہایت عزت و احترام کے ساتھ لمبی عمر پاتی ہے اور آرام کی زندگی گزارتی ہے۔ ہم شاید دنیا کا واحد سماج ہیں جہاں وعدہ معاف گواہوں کے ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔

آخر میں سولزے نتسن نے کسی اور کا ایک جملہ نقل کیا ہے جو کچھ یوں ہے ’’ ایک غیر منصف عدالت، ٹھگوں اور بٹ ماروں سے کہیں بدتر ہے۔ ‘‘

سوویت ادیب الیگزنڈر سولزے نتسن کی سیکڑوں صفحات پر مشتمل یادداشتیں The Gulag Archipelago جب میں پڑھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے بائیں بازو کے ادیب اس جبر و استبداد سے کیا واقعی ناواقف تھے؟ اگر ہمیں اس بارے میں کچھ بھی معلوم تھا تو اسے ہم ’’انقلاب‘‘ کے نام پر کیوں برداشت کررہے تھے؟ کیا ہم اس خوف سے چپ رہے تھے کہ ہمیں انقلاب دشمن ،  منحرف اور غدار کے نام سے یاد کیا جائے گا؟ کیا حقیقت یہ نہیں تھی کہ ان بیگارکیمپوں میں انسانیت کی توہین کرنے والے خفیہ ایجنسیوں کے آدمی دراصل ’’انقلاب دشمن‘‘ تھے اور ’’منحرفین‘‘ کی فہرست میں ان کا نام آنا چاہیے تھا؟ اس بارے میں غوروفکر کی ضرورت ہے کہ اپنے ہی ملک اور اپنے ہی عوام کو ’’فتح‘‘ کرنے والے کیا واقعی محب وطن ہوتے ہیں؟

یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں آخری فیصلہ ہم نہیں، تاریخ کرتی ہے۔ اور تاریخ نے ایک بار نہیں بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ کسی نظریے سے وابستگی اگر اس کے ماننے والوں کی آنکھوں پر دبیز پردے ڈال دے اور ان دبیز پردوں سے حقائق کی روشنی نہ چھن سکے، تو پھر وہ کوئی نمو پذیر نظریہ نہیں رہتا، جامد اور فرسودہ عقائد کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

پاکستان کی 70سالہ تاریخ بھی ایسے متعدد ناموں سے بھری پڑی ہے جن پر مختلف الزامات عائد کیے گئے اور چونکہ ان کے بد ترین مخالفین برسر اقتدار تھے اس لیے ان میں سے کوئی تا عمر اورکوئی اکیس برس کے لیے سیاست میں حصہ لینے سے محروم ہوا، کسی کو کسی سازش کیس میں موت کی سزا سنائی گئی، کسی نے قتل کے الزام میں پھانسی پائی اور کوئی سازش اور غداری کے الزام میں سزا یاب ہوا۔

میری معلومات کے مطابق پاکستانی قوانین میں سزا یافتگان کی ’’بحالی‘‘ کا کوئی قانون موجود نہیں، یہ قانون اگر ہمارے یہاں بھی موجود ہوتا تو شاید بہت سے سزا یافتگان بے گناہ ٹہرتے اور ’’عدل و انصاف‘‘ کرنے والے بہت سے ’’معززین‘‘ اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے جرم میں سزائیں پاتے۔ ہمارے یہاں ایسا کوئی قانون موجود نہیں، لیکن ایک قانونِ فطرت ہے اور فطرت جھوٹے مقدمات بنانے والوں اور جمہوری اصولوں کی پائمالی کرنے والوں کوکبھی معاف نہیں کرتی۔





Source link