159

ڈیووس کے افق پر پاکستان


عالمی اقتصادی فورم ڈاکٹر کلاز شواب کے تخیل کا نتیجہ ہے، 1970سے ڈیووس میں اس منفرد عالمی فورم کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں جن میں دنیا بھر سے زعما حکومت، معیشت، ٹیکنالوجی، میڈیا اور کلچر سے متعلق موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں، اس فورم میں عالمگیریت سے جنم لینے والے ایسے مسائل اور خطرات زیر بحث آتے ہیں جن سے نمٹنا ملکی و قومی حکومتوں کے بس سے باہر ہوچکا ہے۔

پوری دنیا سے کاروبار، حکومت، سول سوسائٹی، اکیڈیمیاں، فن و ثقافت اور میڈیا جیسے شعبوں سے تعلق رکھنے والی3000 نمایاں شخصیات اس سال بھی اس سوئس قصبے میں جمع ہوں گی اور اس بار عالمگیریت کے تصور کو مزید بہتر کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہزاروں کی افرادی قوت اس اجلاس کا انتظام و انصرام کرتی ہے۔ اجلاس کے مقام سے پچاس کلومیٹر دور تک ہوٹل کے کمروں کا کرایہ عام دنوں سے دس سے پندرہ گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔

اس برس کے اجلاس میں چوتھے صنعتی انقلاب کے عہد میں عالمگیریت کے ڈھانچے کی صورت گری کو بنیادی موضوع رکھا گیا ہے اور اسے Globalization 4.0 کا عنوان دیا گیا ہے۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں افراد کے باہمی تعلقات اور فرد کے معاشرے سے تعلق کے تانے بانے کو بدلتے دیکھ رہے ہیں اور تبدیلی کی یہ لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہم ’’چوتھے صنعتی انقلاب‘‘ کے عہد میں زندہ ہیں، جس میں اقتصادیات، کاروبار، معاشرے اور سیاست میں محض تبدیلیاں نہیں آرہیں بلکہ ان شعبوں کی از سر نو صورت گری ہورہی ہے۔ اس تناظر میں صرف موجودہ اداروں میں اصلاحات کافی نہیں بلکہ ان کے بنیادی نقشے ہی کو عالمی تغیرات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس عہد میں پیدا ہونے والے نئے مواقعے کے ضیاع سے محفوظ رہنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔

ڈیووس اجلاس میں تواتر سے شریک ہونے والوں کے لیے گزشتہ 17برسوں سے باقاعدگی کے ساتھ منعقد ہونے والی ’’پاکستان بریک فاسٹ‘‘ ایک مقبول تقریب بن چکی ہے۔ پاتھ فائنڈر گروپ (گزشتہ چار برسوں سے مارٹن ڈو گروپ کے اشتراک کے ساتھ)کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب میں صرف سربراہ مملکت ہی کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو نہیں کیا جاتا۔ 2011، 2012اور 2013میں مسلسل تین مرتبہ عمران خان کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا اور اس بار جب وہ وزیر اعظم بن چکے ہیں انھوں نے اس میں شرکت نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

پاکستان کو جس اقتصادی بحران کا سامنا ہے اس کے پیش نظر عمران خان کے لیے اہم ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق پیدا ہونے والے کسی بھی منفی تاثر کو زائل کریں۔ عمران خان اپنی مقبولیت کے بل پر بھی ملک کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ بہر حال، مشہور عالم  شاٹزائپ ہوٹل میں ایک پُرہجوم عشائیے کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے پاکستان کے حالات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا۔ بلوچستان کے منتخب وزیر اعلیٰ کی عالمی سطح پر پاکستان کی نمایندگی سے پاکستان میں اس صوبے کے نظر انداز ہونے کا تاثر زائل ہونے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے لیے مستقبل میں بلوچستان کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔  وزیر اعلیٰ کو حاصل متاثر کُن معلومات میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی معاونت بھی شامل ہے۔

23جنوری کو پینوروما ہوٹل میں وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے اور 24جنوری کو حال ہی میں ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ’’پاکستان پویلین‘‘ کا افتتاح کیا۔ عالمی اقتصادی فورم کے شرکا نے اس کا دورہ کیا اور غیر رسمی انداز میں پاکستان میں ثقافت، سماجی تعمیر وترقی، خواتین کے حالات، خیراتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق معلومات حاصل کی۔ ’’پاکستان بریک فاسٹ‘‘ کی تقریب میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت خوبی سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور اس کے بلاتفریق نفاذ سے متعلق کیے گئے اقدامات کی تفصیل سے آگاہ کیا۔ علی الصبح اس تقریب میں شریک ہونے والوں نے پاکستان میں گورننس اور قانون کی حکمرانی سے متعلق پاکستان میں آنے والی بہتری کو سراہا۔ 23اور 24جنوری کو پاکستان پویلین میں سرمایہ کاری سے متعلق دوپہر اور شام کے اوقات میں ہونے والی ملاقاتوں میں یہ تاثر مزید پختہ ہوا۔

اگرچہ اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم تھریسامے اور فرانس کے صدر میکرون سمیت کئی اہم لیڈر اپنے ممالک میں بڑھتے ہوئے مسائل کے باعث اس اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے، تاہم اس بار بھی عالمی اقتصادی پالیسی تعمیر وترقی، ٹیکنالوجی میں پیش رفت، سائبر سیکیورٹی، معاشی اور مالیاتی نظام، مستقبل کے خدشات سے تحفظ، مقامی اور عالمی سطح پر اداروں میں اصلاحات سمیت کئی دیگر موضوعات پر متعدد اجلاس منعقد کیے گئے۔ اس برس مرکزی موضوع یہ رہا کہ عالمی لیڈر سماجی سطح پر چیلنجز کو بحرانوں کی شکل دینے والے عدم اعتماد، جھوٹ، جعلی خبروں جیسے مسائل کا مقابلہ کرکے کس طرح اعتماد اور شفافیت کا تاثر بحال رکھ سکتے ہیں۔

عالمی اقتصادی فورم میں ’’باہم مربوط دنیا کے مابین باہمی تعاون‘‘ کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس سے مراد ہے کہ ’’ صنعت اور جغرافیائی سرحدیں بے معنی ہورہی ہیں۔ باہمی تعاون سے متعلق نقطہ ہائے نظر کے مقاصد ، ڈھانچہ اور نتائج ماضی کے مقابلے میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ اس میں فریقین کے جغرافیائی تنوع، صنعت پر مرکوز توجہ، قلیل مدتی اور لچکدار معاہدوں اور فریقین کے اپنی اقدار وضع کرنے جیسے عناصر شامل ہوچکے ہیں۔‘‘

گزشتہ برس ڈیووس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بہت خوبی سے پاکستان کی نمایندگی کی اور بلاول زرداری کی موجودگی سونے پر سہاگا تھی۔ اسباب جو بھی رہے ہوں، عمران خان جیسے لیڈر نے یہ موقع ضایع کردیا۔ ان کی ڈیووس میں موجودگی ہمارے اس اعتماد میں اضافہ کرتی کہ ہم دنیا کے مرکزی دھارے سے کٹے نہیں۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)





Source link