19

اپوزیشن کا چھوٹا قدم – ایکسپریس اردو


کوئی سنے یا نہ سنے نیک مشورہ دینے سے ہم صحافی باز نہیں آ سکتے چنانچہ اپنے حکمرانوں کو بار ہا مشورہ دیا کہ جناب والا آپ کو عوام نے بڑی منتوں مرادوں اور تعویذ گنڈوں کے بعد اقتدار دیا ہے اس لیے حکومت سنبھالنے کے بعد مسائل میں گھرے ہوئے عوام کے حقوق کی پاسداری کریں ورنہ عوام جو آپ کو اقتدار میں لائے ہیں یہی آپ کے خلاف ہو جائیں اور اپوزیشن کا آلۂ کار بن کر آپ کے خلاف تحریک شروع کر دیں گے کیونکہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ جب عوام کی حکومت کی جانب سے شنوائی نہیں ہوئی تو انھوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اور پھر وہ وقت آ گیا جب عوام اور اپوزیشن ایک ہو گئے اور حکومت تنہا رہ گئی۔

حکومت کی غلطیوں سے ہی اپوزیشن کا دال دلیہ یعنی سیاست چلتی ہے کسی حکومت نے غلطی کی نہیں کہ ادھر تاک میں بیٹھی ہوئی اپوزیشن اپنی صفیں درست کرنے لگی۔ ہمارے موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے ابھی ایک برس بھی نہیں ہوا لیکن عوام میں اس کے خلاف چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ہیں کیونکہ جن توقعات پر عوام نے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سونپا تھا وہ توقعات ابھی پوری نہیں ہو رہیں اور مستقبل قریب میں بھی ان کے پورا ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ برسوں کے بگاڑ کو درست کرنے کے لیے کچھ وقت چاہیے گو کہ حکومت کا یہ کہنا درست ہے مگر عوام جو کہ مسائل کے انبار تلے دبے ہوئے ہیں وہ مزید مشکلات برداشت کرنے کو تیار نہیں اس لیے حکومت کی مقبولیت میں پہلے برس میں ہی کمی آ گئی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس وقت صورتحال کچھ ایسی بن رہی ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیاں اکٹھی ہو رہی ہیں تا کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت ایک پیچ پر نظر آ رہی ہیں اور نواز لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی بیٹی محترمہ مریم نواز کو اپوزشن کے ساتھ رابطہ کرنے اور ان کے اجلاسوں میں شرکت کی ہدایت کی ہے جب کہ میاں شہباز شریف بھی لندن سے پاکستان واپس پہنچ چکے ہیں اور تادم تحریر اپوزیشن کی پارٹیوں کے ساتھ رابطے بھی کر رہے ہیں ۔ میاں شہباز شریف کا دو ماہ کے بعد اچانک لندن سے واپس آنا بھی بڑا معنی خیز ہے دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو عوام دشمن حکومتی اقدامات کی وجہ سے اپوزیشن کے مفت میں مزے ہو گئے ہیں اس کی باچھیں کھل گئیں ہیں اور ایک تحریک کے لیے لگا لگایا میدان دکھائی دینے لگا ہے ورنہ ہماری اپوزیشن کا جو حال ہے اسے حکومت مخالف میدان آراستہ کرنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

ایسے موقعوں پر مجھے نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کی شدت سے یاد آتی ہے جو کہ ہر حکومت کی اپوزیشن کا کردار بخوبی نبھاتے تھے اور اپوزیشن ان کی قیادت میں متحد بھی ہو جاتی تھی مگر نواب صاحب دنیا سے چلے گئے جو مینڈکوں کی اس پنیری کو تولنے کا ہنر جانتے تھے اور ان آوارہ بھیڑوں کو ایک چراگاہ میں جمع کر لیتے تھے مگر اب تو ان کی لاہور میں بوہڑ والا چوک میں تاریخی رہائش گاہ کو پہلے تو اس کے مالک مکان نے کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کیا اور باقی ماندہ کو لاہور میں میاں شہباز شریف کی کھربوں روپے کی اورنج ٹرین کھا گئی۔ قصہ مختصر سیاستدانوں کا یہ مشترکہ ڈیرہ بند ہو چکا ہے اور نواب صاحب کے ہم جیسے نیاز مند جو گرمیوں کے موسم میں ان کی جانب سے آموں کے تحفے کے منتظر رہتے تھے نواب صاحب کی یاد میں آہیں بھرتے ہیں ۔

آں  قدح  بشکست  وآں  ساقی  نہ  ماند

رہے نام اللہ کا۔

میں ٹی وی اور اخباروں میں اپوزیشن کے لیڈروں کی تصویریں دیکھ رہا ہوں تعداد ماشاء اللہ ماضی سے کم نہیں مگر سیاسی قد و قامت میں کچھ فرق محسوس ہو رہا ہے لیکن فوراً ہی خیال آیا کہ دوسری طرف بھی چوہدری ظہور الٰہی نہیں ہے اور نہ ہی ضیاء الحق جن کے تعلقات ملک کے ہر شعبہ زندگی میں پھیلے ہوئے تھے اور لوگ آج تک ان کی حیا کرتے ہیں اس لیے موجودہ حکمرانوں کے لیے یہ اپوزیشن کافی ہے۔

اپوزیشن کی طرف شدید گرمیوں کے مہینوں میں حکومت مخالف عوامی تحریک شروع کرنا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ گرمی کے اس موسم میں عوام سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں ہوں گے البتہ اپوزیشن اپنی تحریک کو شروع کرنے کے لیے اسمبلیوں کے اندر ہنگامہ آرائی کو ترجیح دے سکتی ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے اعلان کے بعد حکمرانوں کی طرف سے جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بہت پرانی ہیں ۔ ہڑتال سے قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو گی اور ملک پیچھے چلا جائے گا وغیرہ وغیرہ۔

یہ باتیں اگر آپ ذہن پر زور دیں تو ماضی میں ہر تحریک کے شروع ہونے پر سنائی دیتی تھیں اور اپوزیشن کے نعروں میں تحلیل ہو جاتی تھیں۔ تحریکوں کے دوران عوامی ذہن بہت ہی غیر معقول اور سطحی ہو جاتا ہے اور ایک وقت آ جاتا ہے جب مضبوط نظر آنے والا حکمران اور کرسی کی مضبوطی کا دعویٰ بھی عوامی احتجاج کے سامنے ہوا میں اڑ جاتا ہے۔

اپوزیشن کا راستہ آسان نہیں ہے لیکن وہ جو چینی بھائی کہتے ہیں کہ دور ترین منزل تک جانے کے لیے بھی چھوٹا سا قدم اٹھانا پڑتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اس دور کی منزل کی طرف اپوزیشن یہ چھوٹا قدم اٹھانے جا رہی ہے۔





Source link