18

بجٹ کے بعد کا منظر نامہ


آصف زرداری کے بعد حمزہ شہباز کی گرفتاری نے ملک کے سیاسی منظر نامہ کو مزید رنگین کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کس کی باری ہے؟

کہا جا رہا ہے اس کے بعد شاہد خاقان عباسی کی باری ہے، ان کے وارنٹ پر بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ اسی طرح اندر کا علم رکھنے والے یہ بھی بتا رہے ہیں کہ پرویز خٹک کا بھی نمبر لگ گیا ہے۔ ممکن ہے، بجٹ کے بعد ۔ تا ہم یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ان گرفتاریوں سے اب حکومت مضبوط نہیں ہو گی۔ وہ وقت چلا گیا جب اس طرح کی گرفتاریوں سے حکومت مضبوط ہوتی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب اپوزیشن کے مزید کمزور ہونے کا دور ختم ہو گیا ہے۔

حمزہ کی گرفتاری کوئی سرپرائز نہیں ہے۔ اس کی امید کی جا رہی تھی۔ تا ہم نواز شریف کی دوبارہ ضمانت کی خبریں بھی گرم ہیں۔ خبریں یہ بھی گرم ہیں کہ ن لیگ کی  مفاہمت پالیسی کامیاب ہو چکی ہے۔ اس کا اسکرپٹ بھی طے ہو گیا ہے اور اسکرپٹ پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔ حمزہ شہباز کی گرفتاری بھی اس بڑے اسکرپٹ کا ہی ایک حصہ ہے۔ بتانے والے بتا رہے ہیں کہ حمزہ شہباز کی گرفتاری مفاہمت کے اسکرپٹ پر عملدرآمد کے لیے ناگزیر تھی۔

میں نہیں سمجھتا کہ ان گرفتاریوں سے حکومت مضبوط ہو گی۔ بلکہ یہ گرفتاریاں حکومت کے لیے مشکلات بڑھانے کا باعث بنیں گی۔کہیں نہ کہیں یہ شعوری کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح پوری اپوزیشن اس حکومت کے خلاف اکٹھی ہو جائے۔ آصف زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری بھی بتا رہی ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لیے ماحول تیزی سے بنایا جا رہا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ بجٹ سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ لیکن میں اس خیال کو نہیں مانتا۔ بلکہ یہ گرفتاریاں بجٹ پر عوامی غم و غصہ میں اضافہ کریں گی۔

تحریک انصاف نے اپنا ہنی مون کا دور لڑائی مار کٹائی میں ضایع کر دیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے مطابق ہر حکومت کے دوسرے سال حکومت کو عدم استحکام کرنے کی سازشیں شروع ہوجاتی ہیں۔ جو ساتھی لاتے ہیں ان کے دل بھر جاتے ہیں اور وہ خود ہی کمزور کرنے اور نکالنے کے اسکرپٹ بنانے شروع کر دیتے ہیں۔ ابھی تک ایسی کوئی حکومت نہیں آئی جو دوسرے سال میں مضبوط رہی ہو۔ دو تہائی کے ہیوی مینڈیٹ سے آنے والی بھی دوسرے سال میں لڑکھڑا گئی تھیں۔ اس لیے تحریک انصاف کی حکومت کو اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ سیاسی طور پر دوسرا سال مشکل ہوگا۔ لیکن شاید ان کا خیال تھا کہ وہ ایک سال میں اپوزیشن کو ختم ہی کر دیں گے اس لیے ان کے لیے مشکلات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تا ہم ایک سال میں حکومت اپوزیشن کو ختم نہیں کر سکی ہے۔ بلکہ اپوزیشن کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہو گئی ہے۔ ان کے درمیان بظاہر فاصلے کم ہو گئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ ن لیگ پی پی پی کے ساتھ ایک فاصلہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ پی پی پی لڑنے کے موڈ میں ہے جب کہ ن لیگ لڑنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ پی پی پی، پی ٹی ایم کے ساتھ کھڑی ہے جب کہ ن لیگ فاصلے رکھ رہی ہے۔ اس لیے جہاں اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت نیب کے نرغے میںہے، وہاں ان کی سیاسی حکمت عملی میں بہت فرق ہے تاہم عمران خان کو مائنس کرنے پر اتفاق ہو سکتا ہے۔

نواز شریف جیل میں ہیں۔آصف زرداری بھی نیب کی حراست میں ہیں۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ بڑے دونوں مائنس ہو گئے ہیں،لیکن مائنس کر نے کا کھیل یہاں نہیں رکے گا۔ اب اس میں عمران خان کا نمبر ہے۔ اس لیے حکمران جماعت کو خوش ہونے کے  بجائے اپنی فکر کرنی ہوگی۔ اپوزیشن کے رہنما توا س قسم کے مقدمات اور جیلوں کے عادی ہیں۔ لیکن کیا حکمران جماعت کے اندر ایسے کسی مقدمہ کا سامنا کرنے کی استطاعت ہے۔ بتانے والے بتا رہے ہیں کہ اس کے بعد حکومت کی باری ہے۔ چند ووٹوں پر کھڑی حکومت کے لیے نیب کے جھٹکے برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے اگر نیب نے حکومت کا رخ کر لیا تو حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بج جائیں گی۔ ایک دوست کے مطابق ایک طرف اپوزیشن سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہے دوسری طرف نیب کا رخ بھی حکومت کی طرف ہوگا۔ ایسے میں حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

دوست بتا رہے ہیں کہ عدلیہ کا بحران بھی حکومت کے لیے کوئی خیر کی خبرنہیں لا رہا۔ اگر ریفرنس کامیاب ہو جاتاہے تب بھی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ وکلا کی تحریک چل پڑے گی۔ پاکستان میں وکلا تحریک کی تاریخ بہت شاندار ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ریفرنس کی کامیابی بھی حکومت کے لیے کوئی بڑی کامیابی نہیں ہو گی۔ تا ہم اگر منظر نامہ بدل کر دیکھا جائے اور یہ فرض کیا جائے کہ ریفرنس ناکام ہو جائے گا۔ سپریم جیوڈیشل کونسل اس ریفرنس کو مسترد کر دیتی ہے تب بھی حکومت کے لیے منظر نامہ کوئی خوش آیند نہیں ہو گا۔ اس صورتحال میں بھی حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ حکومت کے سنجیدہ حلقے حالات کی نزاکت کو سمجھ رہے ہیں۔

سوال یہ بھی ہے کہ کیا ملک میں جمہوری نظام کو خطرات ہیں؟ ایک رائے یہ بھی ہے کہ پے درپے گرفتاریاں حالات کو اس نہج تک لیجانے کی کوشش ہے کہ نظام مفلوج ہو جائے۔ قیاس آرائی ہے کہ اپوزیشن کو سڑکوں پر لانے کے لیے ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ حکومت روز بروز اپنی سیاسی تنہائی میں اضافہ کر رہی ہے جو نظام کے لیے اپنی جگہ خطرناک ہے۔

حکومت کی معاشی کارکردگی اس کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔ کرپشن کے اس قدر شورمیں بھی خراب معاشی کارکردگی چھپ نہیں سکتی۔ اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاری میں بھی خراب معاشی کارکردگی چھپ نہیں سکے گی۔ اس لیے اپوزیشن کے احتجاج سے زیادہ حکومت کی خراب معاشی کارکردگی نظام کے لیے خطرہ ہے۔

حکومت کو احساس کرنا چاہیے کہ اس کی خراب کارکردگی نظام کے لیے خطرناک بنتی جا رہی ہے۔ نظام کو لپیٹنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے اپوزیشن کی گرفتاریاں نہیں بلکہ حکومت کی خراب کارکردگی زیادہ مددگا ر ثابت ہو رہی ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں کہ بجٹ مشکل ہے۔ ٹیکسوں کی بھر مار ہے۔مہنگائی کا طوفان ہے۔ ایسے میں عوام اس حکومت کے ساتھ کیسے کھڑے ہوںگے۔ عوام دشمن بجٹ حکومت کے لیے مشکلات میں ضافہ کرے گا۔ گرتی اپوزیشن کو سہارا دے گا۔ مائنس عمران کی کوشش کرنے والوں کو مواقعے فراہم کرے گا۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ انھوں نے بہت سے یوٹرن لے لیے ہیں۔ اب شائد ان کے پاس مزید یو ٹرن لینے کا بیلنس نہیں ہے۔ باقی سب خیر ہے۔





Source link