16

ووٹ کی عزت – ایکسپریس اردو


ویسے تو دنیا کی عمرکا اندازہ 4 ارب سال ہے، لیکن ان چار ارب سالوں کی کوئی تاریخ انسان کے پاس نہیں جو تاریخ ممکنہ طور پر دستیاب ہے وہ مشکل سے 15-12 ہزار سال پر مشتمل ہے۔ 4 ارب سال کی تاریخ کی گمشدگی کی ممکنہ وجہ یہی ہوسکتی ہے۔ اس طویل مدت کے دوران جانے کتنے ہزار بار دنیا اجڑی اور جانے کتنے ہزار بار آباد ہوئی۔اس اجڑنے اور آباد ہونے کے اندازے ہی لگائے جاسکتے ہیں ،کوئی تحقیقی مواد انسان کے پاس موجود نہیں۔

انسان کی معلوم تاریخ میں سب سے پہلا دور پتھرکا دور مانا جاتا ہے ۔اس دور میں انسان درختوں پر غاروں میں رہا کرتا تھا اور پتھرکے ہتھیار سے شکارکرکے اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ اس کے بعد غلام داری سماج کا دور آتا ہے۔ غلام داری سماج میں طاقتور انسان کمزور انسانوں کو فروخت کرتا تھا اس دور کے بعد قبائلی دور آتا ہے، یہ انسان کی بتدریج ترقی تھی، جو جاگیردارانہ نظام سے گزرکر اب سرمایہ دارانہ نظام تک آپہنچی ہے ان ادوار کے مطالعے سے یہ اندازہ بہرحال ہوتا ہے کہ ہر دور میں انسان طاقتور اور کمزور میں بٹا رہا۔

سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے انسان کی یہ تقسیم اس قدر منظم اور استحصالی نہ تھی جو سرمایہ دارانہ نظام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے پہلے اقتدار یا طاقت عموماً طاقتوروں کے ہاتھوں میں ہوتی تھی اس نظام یا نظاموں کو ترقی یافتہ انسان نے جہل کا نظام کہا اور اس کی جگہ ایک مہذب نظام یعنی جمہوری نظام کو متعارف کرایا۔ اس نظام کے لیے یہ کہا گیا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہوتے ہیں، بلاشبہ تعداد اور اجتماعی طاقت کے لحاظ سے قوت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے خالقوں نے کیا یہ کہ عوام کی اجتماعی طاقت کو ووٹوں میں بانٹ دیا۔ اور عیاری کے ساتھ عوام کو یہ باورکرانے کی کوشش کی کہ ووٹ عوام کی طاقت ہے اور اس طاقت کو عزت دینی چاہیے جب کہ اس طاقت کو اس طرح مختلف حوالوں سے صرف توڑا نہیں گیا بلکہ ریزہ ریزہ کردیا گیا اور ووٹ کے مالک انسان کو مٹی کا کھلونا بنادیا گیا۔

اس ذلت انگیز جمہوریت میں ووٹ سبزی گوشت کی طرح خریدے اور بیچے جاتے ہیں ، اس کے لیے باضابطہ منڈیاں تو نہیں لگتیں لیکن سرمایہ داروں کے ایجنٹ غریبوں کی بستیوں میں ووٹ کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اس خرید و فروخت کا کمال یہ ہے کہ عوام کے ووٹ خریدے اور بیچے جاتے ہیں لیکن ووٹ کے مالک عوام کو اس خرید وفروخت کی خبر تک نہیں ہوتی اور لاکھوں کی تعداد میں حیلوں بہانوں سے ووٹ خریدنے والے سرمایہ دار صنعت کار اور جاگیردار قانون ساز اداروں میں پہنچتے ہیں اقتدار میں آتے ہیں اور ووٹ پر لگائے ہوئے سرمائے سے ہزاروں گنا زیادہ سرمایہ اپنی جیبوں میں ڈالتے ہیں اور ووٹ کی حرمت کے گن گاتے ہوئے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔ یہ ہے جدید دنیا کا وہ جمہوری نظام جس کے گن ایلیٹ کے شہزادے گاتے ہیں، عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔

آج ہمیں ووٹ کی عزت و حرمت کا خیال اس لیے آیا کہ ہمارے ایک وزیر اعظم نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا بیانیہ گھر گھر پہنچادیں۔ ووٹ کو یقینا عزت دینی چاہیے جب اس کی طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہو، جس دن عوام اپنا ووٹ پولنگ اسٹیشن کے بوتھ میں ڈالتے ہیں اس دن عوام اپنی طاقت کو  چوروں، ڈاکوؤں، لٹیروں کے حوالے کر آتے ہیں اور ان وعدوں کے وفا ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں جو لٹیری کلاس انتخابی مہم کے دوران عوام سے کرتی ہے اب یہ انتظار 71 سال طویل جدائی کی رات ہوگیا ہے۔ یہ مشق ہر پانچ سال بعد بڑی پابندی سے کرائی جاتی ہے۔

پاکستان کے 22 کروڑ غریب اور روٹی سے محتاج عوام کو جمہوریت اور قوت کا سرچشمہ عوام کے نام پر بے وقوف بنایا جا رہا ہے اور بے چارے عوام سیاسیلیڈروں کے سحر میں ہر پانچ سال بعد مزید پانچ سال کے لیے بے وقوف بنائے جا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں جمہوریت کی کامیابی کے گن گانے والے کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ قسطوں پر حاصل کی جانے والی ترقی کو ترقی کہنا جمہوریت کی توہین نہیں؟ کمال کی بلکہ بہادری کی بات یہ ہے کہ ہمارے سابق وزیر اعظم نے بیانیے پر مشتمل یہ بیان جیل سے جاری کیا ہے۔ جیل کے نام سے عوام کے ذہنوں میں یہ سوال آئے گا محترم سابق وزیر اعظم جیل میں کیوں تشریف فرما ہیں؟ کیا موصوف کی جیل میں موجودگی کا تعلق ووٹ کی حرمت سے ہے؟

پاکستان میں احتساب کا عمل جاری ہے، ایلیٹ کے کچھ شہزادے جیلوں میں ہیں ۔کچھ رخصت پر بیرونی ملکوں میں مزے اڑا رہے ہیں،کچھ مفرور ہیں، کچھ حکومت گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بہرحال ہر بندہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ عوام سخت پریشان ہیں، دو جماعتی اپوزیشن حکومت گرانے کے سو جتن کر رہی ہے، اپوزیشن کو امید تھی کہ کھال کھینچنے والی مہنگائی سے تنگ عوام سڑکوں پر آجائیں گے تو اپوزیشن گلے میں ہار ڈال کر عوام بلکہ احتجاجی عوام کی قیادت کرنے آجائیں گے لیکن حیرت ہے۔

اس آسمان کو چھوتی ہوئی گرانی میں بھی عوام اپنے گھروں میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں، سڑکوں پر نہیں آرہے۔کیا اپوزیشن نے کوئی ایسی کمیٹی بنائی ہے جو اس بات کی تحقیق کرے کہ جسم سے کپڑے اتار لینے والی اس مہنگائی میں عوام سڑکوں پر آنے سے کیوں گریزاں ہیں جب کہ عوام کو سڑکوں پر لانے کے لیے سو جتن کیے جا رہے ہیں۔ اعتماد، اعتماد، عوام کو اعتماد چاہیے اور اعتماد ہماری سیاست میں ایک غیر متعلق اور اجنبی چیز بن کر رہ گیا ہے ۔ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے عوام سے الیکشن کے دوران آسمان سے ستارے توڑ کر لانے والے وعدے، اربوں کھربوں کی کرپشن میں ایسے چھپ گئے ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا۔





Source link