25

کپاس کے کھیت میں کالے بھینسے


پتہ تھا اور اچھی طرح پتہ تھا کہ قہرخداوندی چشم گل چشم عرف سوائن فلو کے ساتھ جلد یا بدیر ایسا ہی کچھ ہونے والا ہے اور وہ ہوگیا اور اسے بھی وہی مرض لگ گیا جو ام الامراض سے بھی بڑھ کر ابوالامراض بلکہ ’’جدامراض‘‘ ہے اور جو ہمارے اس علاقے کا نہایت ہی عام، کثیرالورود اور ہمہ گیرمرض ہے۔اور اس خطے میں پائے جانے والے امراض کی طرح اس کا واحد علاج بھی وہ دوا ہے جوکلاشن کوف  سے مخصوص’’ گولی‘‘مریض کو کھلا ئی جاتی ہے جو ام العلاج یا ام الشفا ہوتی ہے۔ہوتا یوں ہے کہ پشتو کے ایک کثرالاستعمال اور تیر ہدف اور بلٹ بہ ٹارگٹ نسخے کے مطابق کہ

چہ د شپیتو شی نو د ویشتو شی

یعنی جو ’’ساٹھ‘‘کاہوجاتاہے، وہ صرف گولی مارنے کے لائق ہوجاتاہے کیونکہ اس عمر میں باقی سارے ’’قویٰ‘‘مضحمل ہوجاتے ہیں اور ان کی ساری بچی کچھی طاقتیں ’’زبان‘‘میں جمع ہوجاتی ہیں حالانکہ غالب نے کہاہے کہ

گوہاتھ  میں جنبش نہیں’’آنکھوں‘‘میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی ساغر ومینا میرے آگے

شاید اس زمانے میں ایسا ہی ہوتا ہوگا کہ ’’دم‘‘صرف آنکھوں تک محدود ہوجاتاتھا لیکن آج کل’’زبان‘‘ میں مرتکز ہوجاتاہے اور ’’زبان‘‘کے لیے ساغر ومینا کے بجائے دو عدد’’کان‘‘درکار ہیں۔چنانچہ قہرخدواندی چشم گل چشم عرف سوائن فلو بھی اسی مرحلے میں ہے۔

جہاں دکان ہم دیکھتے ہیں

خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

اور اس مرض کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ آدمی عام بات چیت چھوڑ کر فلسفہ ودانش بگھارنے لگتاہے۔ قہرخداوندی نے بھی اپنے سارے بیٹوں کو اپنے اپنے مخصوص مورچے میں بٹھایاہواہے اور خود فارغ بلکہ فارغ  البال وبچہ ہوکر ’’کانوں کا شکار‘‘کرتارہتاہے جہاں ’’دکان‘‘ دیکھتا ہے خود بخود اسٹارٹ ہوجاتاہے یا یوں کہیے کہ پہلے دھکااسٹارٹ تھا ، پھر چابی اسٹارٹ ہوگیاتھا اور اب سلف اسٹارٹ ہوچکا ہے۔

حیات آباد کی ایک مسجد کے بارے میں سنا ہے کہ وہاں کے نلکے اور ٹوٹنیاں آٹومیٹک ہیں جیسے ہی ہاتھ ٹوٹنی کے نیچے پہنچتاہے چالو اور ہاتھ ہٹتے ہی بند۔حیات آباد پشاور کے بارے میں تو آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ یہاں پر دنیابھر کے نیک،صالح اور حلال کمائیوں والے جمع ہوگئے ہیں اور وہ اپنی نیک کمائیوں سے ’’نیک کام‘‘جی بھر کرتے ہیں۔ایسا لگتاہے کہ قہرخدواندی نے بھی ایسی ہی کوئی ٹوٹنی کہیں سے چرائی ہو اور اسے اپنے منہ میں فٹ کیاہو اور اپنے سائنس دان بیٹے سے اس میں یہ تبدیلی کروائی ہو کہ دو سوگز کے دائرے میں ’’کانوں‘‘ کی موجودگی محسوس کرتے ہی چالو ہوجائے۔

ہم بڑی احتیاط کرتے ہیں کہ اپنے کانوں کو اس ٹوٹنی کے عمل سے دور رکھیں لیکن بندہ بشر ہے اکثر رینج میں آجاتے ہیں۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا ، ہم کسی سوچ میں ڈوبے احتیاطی تدابیر کیے بغیر جارہے تھے کہ پکڑ میں آگئے۔ پہلا فائر کانوں میں گونجا، پتہ ہے میں نے کیا سوچاہے؟پھر کسی جواب کا انتظار کیے بغیر بولا، تم آج کل اس برڈفلو کو دیکھ رہے ہو؟ دیکھنا کیاتھا ابھی ابھی مسجد سے نکلے تھے تو برڈفلو کا دیکھنا تو لازم تھا لیکن قہرخداوندی کو ہمارے جواب کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بولا ’’کچھ نہ کچھ تو ہے جسے چھپارہاہے‘‘۔اب یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات تھی، علامہ بریانی تو ہمیشہ کچھ نہ کچھ بلکہ بہت کچھ چھپاتے رہتے ہیں۔ بولا، نہیں میرا مطلب وہ نہیںجو تم سمجھ رہے ہو بلکہ وہ ہے جو تم نہیں سمجھ رہے ہو۔بولا ، دیکھ رہے ہو آج کل اپنے آپ کو بہت ہی سفید بگلا بنائے رہتا ہے۔

سر سے پیر تک سفیدبراق لباس،سفید چمکدار دستار مبارک حتیٰ کہ ہاتھ میں عصائے مبارک بھی سفید۔یہ تو وہ بالکل سچ کہہ رہاتھا، اس سے پہلے علامہ کے سراپے میں کوئی دوسرا رنگ بھی شامل ہوتاتھا لیکن آج کل جب بھی نکلتاہے تو کپاس کا کھیت بن کرنکلتاہے۔ قہرخداوندی نے جیسے ہمارے دل کی بات پڑھ لی۔بولا کہ پاس کے اس کھیت میں کہیں نہ کہیں کوئی کالی بھیڑ یا کوا یا امریکن سنڈی گھسی ہوئی ہے۔ جسے چھپانے کے لیے وہ پورے کا پورا سفیدہ بناہوا ہے۔

ہم کیاکہتے لیکن اس کے لہجے سے اندازہ ہوا کہ بات کو وہ اپنے پسندیدہ مقام تک لانے میں کامیاب ہوچکاہے اور اب وہ’’فلسفہ و دانش‘‘کا نلکہ کھولنے والا ہے اور وہ واقعی  اس نے کھول دیا یا خود بخود کھل گیا۔جب بھی کسی کوباہر سے چمکدار دیکھو تو سمجھو کہ اندر کچھ کالا ہے بلکہ بہت کالا ہے اور اس’’کالے‘‘کو چھپانے کے لیے وہ روئی کا گالا بناہواہے۔پھر اس نے اپنے سارے ’’ہم مرض‘‘ دانشوروں کی طرح دلائل وبراہین کے ڈھیرلگانا شروع کردیے۔

بولا، تم نے دیکھاہوگا کہ بدصورت لوگ میک اپ بہت کرتے ہیں، قیمتی کپڑے پہنتے ہیں، زیورات لادتے ہیں، یہ سب اندر کے ’’خلا‘‘کو پر کرنے کی سعی ہوتی ہے۔ اندر جتنا بڑا خلا باہر اتنا ہی چھپانے کا سامان۔پھر سامنے ایک دو کسانوں کو گزرتے دیکھ کر بولا، تم نے دیکھا ہوگا کہ یہ کسان مزدور اور چھوٹے لوگ نہاتے بہت کم ہیں بلکہ اکثر تو زندگی میں صرف دو مرتبہ نہاتے ہیں۔ ایک تب جب وہ دنیا میں ارائیول دیتے ہیں تو ماں نہلادیتی ہے اور دوسرے جب ڈیپارچر کرتے ہیں تو ملا یا کوئی غسال نہلادیتاہے۔

ہماری سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ اس نے اچانک یہ بدصورت موڑ کیوں لیا۔لیکن بات ہماری سمجھ میں آگئی بولا،لیکن اس کے برعکس شہری لوگوں خاص طور پر افسروں لیڈروں اور وغیرہ وغیرہ کو دیکھو تو ہر وقت باتھ روم بلکہ واش روم میں ہوتے ہیں لیکن بچارے جانتے نہیں کہ باہر کے ’’واش‘‘سے اندر کا گند کبھی صاف نہیں ہوتا اور نہ ہی میک اپ سے کوا بگلا بن سکتاہے اور نہ ہی کالے بھینسے کو کپاس کے کھیت میں گھساکرسفید کیاجاسکتاہے۔





Source link