40

میڈیا کے لیے رپورٹنگ کا انتخاب


موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اورجونوجوان میڈیا کواپنا ذریعہ معاش اورمستقبل بناناچاہتے ہیں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہاتھ میں مائیک لے کر کسی بڑے ٹی وی چینل کے رپورٹر کی طرح اسکرین پر نظر آئیں۔ یہ خواہش خاص طور پر ابلاغ عامہ یا میڈیا سائنس میں پڑھنے والے اکثر طالب علموںکو ہوتی ہے حیرت کی بات ہے کہ اس میں لڑکیوںکی بڑی تعداد بھی ہوتی ہے۔ صحافت کی دنیا کا یہ شعبہ بظاہر بہت پرکشش لگتا ہے لیکن ٹی وی اسکرین پر یہ جس قدر خوبصورت اور اچھا لگتا ہے اس سے کہیں زیادہ محنت طلب اورکٹھن ہوتا ہے، لہذا اس شعبہ کو اپنانے سے پہلے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس کی حقیقت اورگہرائیوں سے بھی ضرور واقفیت حاصل کرلیں۔

مجھے اس وقت ایک معروف (مرحوم) صحافی کی وہ تقریر یاد آرہی ہے جب وہ جامعہ کراچی کی کلیہ فنون کی سماعت گاہ میں شعبہ ابلاغ عامہ کے طلبہ سے خطاب کر رہے تھے، جب کسی طالبہ نے ان سے رپورٹر بننے سے متعلق سوال کیا کہ آخر لڑکیاں رپورٹنگ میں کیوں نہیں جاتی، وہ رپورٹرکیوں نہیں بن سکتیں؟ تو اس پر انھوں نے جواب دیا کہ اس ہال میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، یہ ایک اچھی بات ہے کہ وہ صحافت کے میدان میں قدم رکھ رہی ہیں مگر رپورٹنگ کا شعبہ بڑا سخت ہے پہلے اس کی نوعیت کو سمجھ لیں پھر فیصلہ کریں۔

اس کے بعد انھوں نے ایک واقعہ سنایا کہ جس وقت محترمہ بینظیر بھٹو کراچی ائیر پورٹ آرہی تھیں اس کی کوریج کے لیے کسی اخبارکی لیڈی رپورٹر بھی پہنچ گئی۔ جب بے نظیربھٹو ائیر پورٹ سے باہرآئیں تو لوگوں کا جم غفیر اس قدر تھا کہ ان کے جلوس کے ساتھ ساتھ پیدل چلنا بھی انتہائی دشوار ہوگیا، دھکم پیل ہوتی رہی، لیڈی رپورٹر کا سنبھلنا مشکل ہوگیا اور پھر مرد رپورٹرز نے ان کی مدد اس طرح کی کہ انھیںاپنے ہاتھوںمیں اوپر اٹھایا اور شاہراہ فیصل تک اسی طرح پیدل جلوس کے ساتھ آئے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ رپورٹر کی ذمے داریاں بہت سخت ہوتی ہیں اور ہرکوئی آسانی سے نبھا نہیں سکتا،خواہ وہ مرد ہی کیوں نہ ہو، لہذا نئے آنے والے لوگوں کو اس کی نوعیت اور ذمے داری کو سمجھنا چاہیے ۔ اس ذمے داری کا سخت تر ہونا رپورٹر کی’’ بیٹ‘‘ پر منحصر بھی ہوتا ہے مثلاً اگر آپ کی بیٹ تعلیم ہے (یعنی آپ کی ذمے داری صرف تعلیمی خبروں تک محدود ہے) تو پھر آپ کو تمام تعلیمی اداروں میں خبروںکے لیے جانا ہوگا، ان سے رابطہ رکھنا ہوگا اور جو بھی ان کے اہم پروگرام مثلاً پریس کانفرنس، سمینار، ورکشاپ اور سمپوزیم وغیرہ میں جا کر رپورٹنگ کرنا ہوگی۔ پھر دن بھرکی خبریں شام کو اپنے میڈیا کے دفتر میں جاکر حتمی شکل میں تیارکرکے فائل کرنا ہوگی، (یعنی جمع کرانا ہوگی)۔ لیکن آپ کسی بھی ٹی وی چینل میں رپورٹنگ کی اہم ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں تو پھر آپ کو اہم خبروں کو وہی سے تیارکرکے لائیو (کیمرے کے سامنے) پیش کرنا ہوں گی۔

دیگر بیٹ (یعنی شعبوں) کی بہ نسبت رپورٹنگ میں ایجوکیشن کی بیٹ قدرے آسان ہے ، البتہ آپ اگر جرائم کی خبریں کر رہے ہیں (یعنی آپ کی بیٹ کرائم ہے) تو پھر آپ کو سخت ترین حالات کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جرائم پیشہ افراد آپ کے پیچھے لگ سکتے ہیں ، ان سے بچنا بھی اورکام جاری رکھنا بھی بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آپ کی جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی بڑے مجرم گروہ کو بے نقاب کر رہے ہیں تو پھر آپ اور آپ کے گھر والے بھی خطرے میںہوتے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال قتل ہونے والے بے شمار صحافیوں کے قتل کی ایک وجہ یہی ہوتی ہے کہ انھوں نے ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ معاشرے کی ان کالی بھیڑوں کے مکروہ کرتوت میڈیا پر پیش کیے ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے کرائم رپورٹر ہی نہیں، سیاسی اور دیگر بیٹ کے رپورٹر بھی بعض اوقا ان گروہوں کے نشانے پر آجاتے ہیں۔

ٹی وی چینل پر رپورٹنگ کرنا اخبارکی بہ نسبت اور بھی دشوار ہوتا ہے۔ ایک جانب تو فوراً ہی کسی بھی واقعہ کی خبر عوام تک پہنچانا ہوتی ہے کیونکہ تمام ہی چینلز میں سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ لگی ہوتی ہے، اگرکسی چینل سے کوئی اہم خبر’بریک ‘ ( یعنی نشر ) ہوتی ہے تو پھر دیگر تمام چینلز کے رپورٹرز پر دباؤ آجاتا ہے کہ وہ بھی فورا ًسے پیشتر اس واقعے کی خبر اور فوٹیج (تصاویر، فلم) فراہم کریں۔ یوں انتہائی عجلت اور کم ترین وقت میں ہر رپورٹرکی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے، فوراً جائے وقوعہ پر پہنچے اور لائیوکوریج یا کم ازکم ٹیلی فون پر ہی نیوز اپ ڈیٹ دے۔

یہ کام آسان نہیں ہوتا کبھی آپ اپنی ڈیوٹی کے اوقات پورے کرکے گھر پہنچتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم واقعہ ہوگیا، دفترسے فون آگیا کہ فوراً جائے وقوعہ پر پہنچیں اور نیوز اپ ڈیٹ دیں۔ ایسے میں آپ اپنی ساری دن بھرکی تھکن دور کرنے کے بجائے پھر سے بھاگ دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔گویا ایک ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوتے رہتے ہیں مگر یہ کام آپ کوکرنا ہی ہوتا ہے کیونکہ آپ رپورٹر ہیں جوکسی بھی وقت رپورٹنگ کے لیے طلب کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح حالات یا موسم جس قدر خراب ہوتے ہیں، کسی ٹی وی چینل کے رپورٹرکی ذمے داریاں اور ڈیوٹی اسی قدر بڑھ جاتی ہے۔ اگر موسم خراب ہے، طوفانی بارش ہے ، سڑکوں پر پانی کھڑا ہے، تباہی پھیل رہی ہے ایسے میں جب آپ اپنی ڈیوٹی کے اوقات ختم کرکے گرم بسترمیں لیٹے ہیں ،آپ کو لائیو خبروں کے لیے فوراً طلب کر لیا جاتا ہے ، یوں آپ کا دل نہ بھی چاہے تو بھی برستی طوفانی بارش میں کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر آپ نے رپورٹنگ کرنی ہے کیونکہ ٹی وی چینل نے اس طوفانی بارش کی لائیو خبر بھی پیش کرنی ہے۔

اسی طرح اگر شہر کے حالات خراب ہوں، جگہ جگہ جلاؤ ، گھیراؤ کا سماں ہو، قانون نافذ کرنے والے شیلنگ کررہے ہوں اور دوسری جانب عوام کے مختلف گروہ غم وغصے میں ان کا مقابلہ کررہے ہوں، فائرنگ ہورہی ہو یا کہ جگہ جگہ بم دھماکے ہورہے ہوں، ایسے تمام حالات میں ایک رپورٹرکی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ جم کرکھڑا رہے اور مسلسل حالات سے باخبر کرتا رہے، لائیو کوریج پیش کرتا رہے، بے شک اس رپورٹرکوگھرسے ماں ، بہن اور بیوی بچوں کے فون ہی کیوں نہ آرہے ہوں ، اور وہ رپورٹنگ چھوڑ کر واپس گھرآنے کا کہہ رہے ہوں، اگرآپ رپورٹر ہیں تو پھر کام توکرنا اوراوراس وقت تک کرنا ہے جب تک حالات نارمل نہیں ہو جاتے، یعنی حالات جس قدر خراب اور خطرناک ہوںگے ایک رپورٹرکی ذمے داریاں اسی قدر زیادہ بڑھ جاتی ہیں، اسی ماحول میں رپورٹرز شدید زخمی بھی ہوتے ہیں اور جان گنوا بھی بیٹھتے ہیں، یہی حال ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کا بھی ہوتا ہے۔ لہذا میڈیا میں کام کرنے کے لیے شعبے کا انتخاب اپنی شخصیت اور صلاحیتوں کو سامنے رکھ کرکرنا چاہیے۔





Source link