30

وزڈم – ایکسپریس اردو


Amjadislam@gmail.com

[email protected]

وزڈم کا مفہوم بیان کرنے کے لیے اگرچہ اردو زبان میں عقل اور دانش اور پنجابی میں رَت کے الفاظ موجود ہیں مگر یہاں اس لفظ کو انگریزی سے مستعار لینے کی کچھ وجوہات ہیں جن میں سے سب سے بڑی وجہ کھاریاں اور ڈِنگہ کے درمیان چنن گاؤں میں اسی نام سے قائم ہونے والا ایک تعلیمی ادارہ ہے جہاں پانچ ہزار کے قریب طلبا و طالبات پرائمری سے ایم اے تک کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ تعداد ایسی ہے کہ چند بڑے تعلیمی مراکز کو چھوڑ کر پانچ پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہر بھی شاید انگلیوں پر گنے جا سکتے ہوں، جن میں اتنی تعداد میں بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہوں۔

اس بار اس ادارے کے قیام کی سلور جوبلی تھی کہ اس کا قیام 1994 میں عمل میں لایا گیا تھا مجھے اس کے ڈائریکٹر اور بانی میاں عبدالشکور کی وجہ سے جو اس وقت ملک کی ایک بہت بڑی فلاحی تنظیم ’’الخدمت‘‘ کے صدر اور میرے عزیز دوست ہیں اس سے قبل بھی اس ادارے کو دیکھنے کا موقع مل چکا ہے اور میں اپنے اس تاثرکا اظہار پہلے بھی کر چکا ہوں کہ تعلیم کے نام پر دکانیں چمکانے اور کھلی اور خفیہ لوٹ مار کرنے والے تو قدم قدم پر مل جاتے ہیں مگر دور دراز، غریب اور پسماندہ علاقوں میں کم فیس کے ساتھ معیاری تعلیم مہیا کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

مجھے یاد ہے ان کے بہت سے ساتھی پنجاب یونیورسٹی کی طلبہ یونین سے متعلق تھے، اسلامی جمعیتِ طلبہ سے تعلق کی وجہ سے ان کو عرف عام میں ’’جماعتیے‘‘کہا جاتا تھا اور یہ تصورعام تھا کہ یہ لوگ مذہب کے نام پر نئی سوچ اور بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے بے خبر رہ کر معاشرے کو آگے کے بجائے پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ میرا اپنا شمار بھی ان کے براہ راست مخالفین میں نہ سہی مگر ’’متفقین‘‘ میں ہرگز نہیں تھا، یہ اور بات ہے کہ میں نے ان دوستوں کو گفتار، تنظیم اور عمومی معاشرتی رویوں کے اعتبار سے عمومی طور پر زیادہ معقول اور بہتر پایا۔

تعلیم کی ترویج اور معاشرے کی خدمت کے کاموں میں ان میں سے بیشتر لوگ آج بھی پیش پیش ہیں بالخصوص الخدمت فاؤنڈیشن، الفلاح اسکالرشپ اسکیم، دار ارقم اسکولز اور غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ایسے ادارے ہیں جن کا ذکر میں اکثر اپنے کالموں میں بھی کرتا رہتا ہوں کہ ان اداروں کو چلانے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد مغربی اداروں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور وہاں کے معاشرے اور اداروں کی ترقی کی کیمسٹری کو سمجھنے اور وہاں ملازمت یا کاروبار کرنے کے بعد پاکستان واپس آئی ہے اور یوں ان کے قائم کردہ اداروں میں آپ کو صحیح معنوں میں وہ روشن خیالی کارفرما نظر آتی ہے جس میں مذہبی اور اخلاقی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید علوم اور ان کے تقاضوں کا ایک بہت متوازن اور قابل عمل راستہ اپنایا گیا ہے اور یہ وہی خوبی ہے جسے حکمت یا وزڈم کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس میں فوک وزڈم یعنی لوک دانش کے ساتھ ساتھ مشرقی مزاج اور مغربی ڈسپلن یا طریقہ کار کو اس طرح سے ہم آمیز کیا گیا ہے کہ ہماری نئی نسل بیک وقت نیشنل بھی ہو سکے اور انٹرنیشنل بھی۔ خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ طرح طرح کے اسکول سسٹمز اور بھانت بھانت کے نصابات اور طرح طرح کی کتابوں کے پھیلائے ہوئے اس طوفان بدتمیزی کے باوجود ان کے مقابلے میں صائب فکر اور عوام دوست تعلیمی ادارے بھی نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی تعداد اور معیارمیں بھی مسلسل بہتری آ رہی ہے۔

میاں عبدالشکور نے وزڈم کی سلور جوبلی کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ آج سے قریباً پچاس برس قبل انھوں نے جب اسی علاقے میں واقع ملت ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا تو نہ صرف وہاں تعلیم کا رواج بہت کم تھا بلکہ بچیوں کے لیے کالج تو کیا ہائی اسکول بھی نہ ہونے کے برابر تھے سو جب وہ ’’نوے‘‘ کی دہائی میں امریکا سے واپس آئے تو انھوں نے نیکی کا آغاز اپنے گھر سے کرنے کے مصداق وزڈم کے فروغ کے لیے اپنے گاؤں کا انتخاب کیا بظاہر یہ فیصلہ وزڈم کے سراسر خلاف تھا کہ یہی ادارہ وہ کسی بڑے شہر یا قصبے میں قائم کرکے اسے ایک منافع بخش کاروبار کی شکل دے سکتے تھے یوں ان کا تعلیم کا شوق اور مشن بھی پورا ہوجاتا اور انھیں بھاری فیس ادا کرسکنے والے والدین بھی مل جاتے جب کہ چنن گاؤں اور اس کے اردگرد کی آبادیاں نہ صرف غریب تھیں بلکہ وہاں کی زندگی میں تعلیم اور بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے لیے مطلوبہ شعور بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

اس ایک تعلیمی ادارے کے قیام سے اس کے اردگرد تقریباً پچاس میل کے دائرے میں اس کا اثر بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ ستر کے قریب خصوصی بسوں کے ذریعے روزانہ تین ہزار کے قریب بچیاں اور تقریباً ایک سو خاتون اساتذہ نہ صرف آسانی سے آ جا سکتی ہیں بلکہ انھیں ایک ایسا ماحول بھی فراہم کیا گیا ہے جہاں ادارے کا نام یعنی وزڈم ایک استعارے سے حقیقت کی شکل اختیار کر گیا ہے اور یوں وزڈم کا یہ فروغ  پورے معاشرے کے لیے ایک ایسے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ اور راستہ بن گیا ہے جس سے ہمارے انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کے فیصلے بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دانش بھی حاصل ہوگی جو ہمیں ایک بار پھر اخلاقی اور علمی سطح پر اس درجے پر پہنچا دے کہ جہاں کبھی ساری دنیا ہمیں عزت اور رشک سے دیکھا کرتی تھی۔

وزڈم یعنی عقل و دانش ایک ایسی چابی ہے جس سے علم اور عمل دونوں کے بند دروازے آپ سے آپ کھلتے چلے جاتے ہیں اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو خرچ کرنے سے اور زیادہ بڑھتی ہے اگرچہ فہم و فراست ہوا کی طرح آزاد اور کسی کی جاگیر نہیں ہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ان کا برمحل، صحیح اور مسلسل استعمال نہ کیا جائے تو یہ انسانوں کو ظالم، خودغرض اور انسان دشمن بنانے میں بھی دیر نہیں لگاتی۔ علامہ اقبال نے جس پاسبانِ عقل کو کبھی کبھی تنہا چھوڑدینے کا اشارہ دیا تھا وہ ایک بالکل علیحدہ اور مختلف صورتحال ہے جس کو سمجھنے کے لیے ان کے اس شعر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور

چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے





Source link