9

ماہ ربیع الاول کا پیغام!


ماہ ربیع الاول کو تمام اسلامی مہینوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے، اس مبارک مہینے میں مسلمانوں کے لیے خوشی و مسرت کا دن ہے کیونکہ اس مہینے کی 12تاریخ کو ہمارے پیغمبرحضرت محمدؐ کی پیدائش ہوئی۔ اس دن کی مناسبت سے  ہر گھر، گلی اور بازار سجا دیے جاتے ہیں، ہر مسجد میں چراغاں کا اہتمام کیا جا رہا ہے، ہر نجی و سرکاری عمارت کو سبز رنگ کی روشنیوں سے سجادیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کی غرض سے خوب اخراجات بھی اُٹھائے جا رہے ہیں… اچھی بات ہے،منانا چاہیے۔بقول شاعر

در دلِ مسلم مقامِ مصطفی است

آبروئے ما زنام مصطفی است

یعنی ایک مسلمان کا دل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہی ہمارے لیے عزت و آبرو کا سرمایہ ہے۔اس لیے اس دن کو عقیدت اور احترام کے ساتھ منانا چاہیے ، اہتمام کے ساتھ منانا چاہیے ، دھوم دھام سے منانا چاہیے، کوئی کسر نہیں اُٹھائی جانی چاہیے لیکن کیا کبھی ہم نے آپؐ کے احکامات پر بھی غور کیا؟ کہ اُن کا طرز زندگی کیا تھا؟ یا انھوں نے جھوٹ بولنے والے کے بارے میں کیا کہا تھا، انھوں نے دھوکا دہی کے حوالے سے کیا کہا تھا۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ہمارے فرائض کیا ہیں؟ آج ہر شخص یہی سوچتا ہے کہ یہ اُس کا فرض ہے، میں فلاں فرض سے ’’مبراء‘‘ ہوں ۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ہم کیسے مسلمان ہیں؟ دودھ میں ہم ملاوٹ کر رہے ہیں، جعلی اور زہر آلود دودھ سے لوگوں کے گردے ختم ہو رہے ہیں، دوائیاں جعلی ہم بنا رہے ہیں۔ پٹرول ڈیزل کے پیمانے میں ہم ڈنڈی مار رہے ہیں۔ ٹیکس چوری ہم کر رہے ہیں۔ گدھا کڑاہی ہماری مشہور ہو چکی ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ ہوٹل پر گوشت مشکوک ہو چکا ہے۔

دونمبری میں ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ مردہ مرغیاں ہم بیچ رہے ہیں۔ مرچوں میں اینٹیں پیس کر ہم بیچ رہے ہیں۔ کوئی ایک چیز بھی یہاں خالص ملنا مشکل ہے۔ دودھ جیسی ضروری خالص غذا تو ویسے ہی ناپید ہو چکی ہے۔ اور کہنے کو ہم ہیں مسلمان؟ کیا ایسے ہوتے ہیں مسلمان؟ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا مفہوم ہے کہ کسی کو چیز فروخت کریں تو اس کی خامیاں بھی بتائیں ، دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا کبھی ہم نے اپنی فروخت ہونے والی چیز کی خامیاں کبھی کسی کو بتائی ہیں؟

آج عدالتوں میں چلے جائیں انصاف کے لیے لوگ بھیک مانگ رہے ہیں، اسپتال چلے جائیں لوگ تندرستی کے لیے چیختے نظرآئیں گے، تھانوں میںچلے جائیں ہمارے مسلمان بھائی ہی ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑتے دکھائی دیں گے، جیلوں میں چلے جائیں ہزاروںبے گناہ قیدی دوسروں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہوں گے… الغرض ہر شخص دوسرے کو فرائض نبھانے کی تلقین کرتا نظر آئے گا۔ یعنی دوسروں کا درد دل ہم میں کیوں نہیں ہے۔ ہم میں مجموعی طور پر اپنے آپؐ کی کون سی ادا باقی ہے؟ ہم میں آقا کریم ؐ کے کون سے اخلاق و اطوار باقی ہیں؟ ہم میں آپ ؐ کا کونسا کردار پایا جاتا ہے؟ ہم آپؐ کے کس اسوہ پر عمل پیرا ہیں؟ جواب، یقینا کوئی نہیں، مگر اس کے برعکس آج وہ کونسی اخلاقی خرابیاں ہیں جو ہم میں، ہمارے معاشرہ میں اجتماعی طور پرموجود نہیں ؟ وہ کونسی غلاظت، گندگی ، وہ کونسے غلط اطوار ہیں جو ہم میں نہیں پائے جاتے؟

ظلم و زیادتی، فساد،حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی کیا ہمارا اجتماعی فعل نہیں ؟ منشیات کے بازار،جوا،چوری،ڈاکا زنی، قتل وغارتگری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکا دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد،دوغلے پن، حرص، تمہ، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سا اخلاقی مرض ہے جو ہم میں نہیں پایا جاتا؟ بد عنوانی و کرپشن اور خود غرضی کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکا دہی، فریب اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو ہمارے مسلم معاشرہ میں زوروں پر نہیں؟ تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہرے ہیں جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ ان سوالات کا جواب یقینا ہاں میں ملے گا۔

مغرب کے ’’کافر‘‘ عوام آج سچ بولنے میں نمبر ون ہیں، حیرت کی بات ہے کہ سچ بولنے والے 50ممالک کے عوام میں سے ترکی کے علاوہ کوئی مسلمان ملک نہیں ہے، ناپ تول اور معیار زندگی کے پیمانوں پر بھی ہم پورا نہیں اُترتے… لیکن الحمد اللہ! ہم مسلمان ضرور ہیں!آپ مغرب کے بادشاہ، صدر اور وزیراعظم کی مثالیں لے لیںیہ لوگ اپنے لان کی گھاس خود کاٹتے ہیں لیکن اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے جرابیں پہنانے کے لیے بھی ملازم رکھے ہوئے ہیں، ہمارے خانہ کعبہ میں طواف کے دوران کئی لوگوں کی جیبیں کٹ جاتی ہیں، کئی بدبخت لوگ احرام باندھ کر دوسرے مسلمان بھائیوں کے بیگ چوری کر لیتے ہیں، پوری اسلامی دنیا میں خواتین اور بچوں پر تشدد ہوتا ہے۔

ہماری اکثر مسجدوں کے استنجا خانوں کے قریب سے گزرنا محال ہوتا ہے،  ہمارے ہاں اور کئی دیگر مسلم ملکوں میں خالص دوا نہیں ملتی۔ ہم جنازوںکے دوران دوسروں کی جیبیں کاٹ لیتے ہیںاور ہماری تعلیمی حالت یہ ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں بین الاقوامی معیار کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں، ہم غلاف کعبہ کے لیے دھاگہ اور رنگ بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں،ہمارے لیے تسبییاں اور جائے نماز چین بناتا ہے اور ہم نمازوں کے اوقات تک طے کرنے کے لیے یہودیوں کے تشکیل کردہ نظاموں کے محتاج ہیں۔

یہ سب کچھ اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ برا ہے، ہمارے معاشرے میں مگر پھر بھی ہم مسلمان کہلوانے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔ اچھے مسلمان تو بہت دور کی بات ہم تو اچھے انسان بھی نہیں۔ہماری مسجدوں سے جوتے اٹھائے جاتے ہیں، مسجدوں کے گندے لوٹے بھی لوگوں کی دست ریزی سے محفوظ نہیں،  پبلک مقامات کی لیٹرینوں میں کیا کیا بیہودہ اور اخلاق سے گری باتیں لکھی ہوتی ہیں، گلی میں چلتے موبائل فون جھپٹ کر لے جاتے ہیں، ہمارے ہاں گلی بازاروں میں واٹر کولر نصب ہوںتو گلاس کو زنجیر سے باندھ کے رکھنا پڑتا ہے۔ یہ ہے ہمارے کردار کی جھلک۔ ہمارے معاشرے میں انسان نما جانور بستے ہیں، جنھیں نہ کوئی تہذیب ہے نہ کوئی شعور۔ لیکن ’’پہاڑیاں ‘‘ دکھانے اور لائیٹنگ کرنے میں دنیا بھر میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے بقول شاعر

منزل و مقصود قرآں دیگر است

رسم و آئین مسلماں دیگر است

در دل او آتش سو زندہ نیست

مصطفی ؐ در سینہ او زندہ نیست

بہرکیف 12ربیع الاول ہمارے اندر درد دل کی دعوت دیتا ہے،احساس کی دعوت دیتا ہے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی دعوت دیتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے برائی کو ہاتھ سے روکا جائے، اس کو زبان سے برا کہا جائے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو کم از کم دل میں برا سمجھاجائے۔ یہاں ایک لمحہ کے لیے ٹھہرئیے، اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود ہی سے معلوم کیجیے کہ کیا کبھی ہم نے اس جانب توجہ کی ہے۔

تحریر کے پس منظر میں ضرورت ہے کہ ہر مسلمان نہ صرف ذاتی زندگی کا جائزے لیتا رہے۔بلکہ جائزے کے دوران اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کا ہر چھوٹااوربڑاعمل ،اسے کس سمت لیے جا رہا ہے؟ہم دوسروں کو نصیحت تو کرتے نظر آتے ہیں مگر خود اس میں ملوث نظر آتے ہیں۔ماہ ربیع اول کی اس مبارک تاریخ میں ہم سمجھتے ہیں کہ نبی اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہمیں اور آپ کو یہی پیغام ملتا ہے جس پر نہ صرف سنجیدگی سے ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے بلکہ اپنے شب و روز کے اعمال میں جہاں اور جس درجہ تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو،جلد از جلد تبدیلی لانی چاہیے!

الغرض یہاں ہر کوئی بھلے شاہ جیسی باتیں کرتا ہے مگر بھلے شاہ نہیں بنتا، ہر کوئی احادیثیں سناتا ہے مگر وہ محض دوسرو ں کے لیے تلقین ہوتی ہے، خود احتسابی تو ہمارے لیے جرم بن چکا ہے، جس سے شاید چھٹکارہ ممکن نہیں،

بقول قبلہ واصف صاحب ’’ خاموشی دانا کا زیور ہے اور احمق کا بھرم‘‘

لہٰذا سیاست ہو یا قومیت ہم بطور قوم تب ہی کامیاب ہوسکتے ہیں جب آپؐ کی تعلیمات کو اپنے روز مرہ کے معمولات میں ڈھال لیں گے، ورنہ یونہی بھٹکتے اور دنیا کی نظروں میں گرتے رہیں گے۔دنیا میں ناکامی ہمارا مقدر بن جائے گی اور ہم تاریخ کا حصہ بن جائیں گے ۔





Source link