7

’’دوحہ ادبی میلہ 2019‘‘ – ایکسپریس اردو


1994 میں یعنی آج سے 25 برس قبل دوحہ قطر میں مجلس فروغِ اُردو ادب کے زیر اہتمام محترم ملک مصیب الرحمن نے ایک ایسے مشاعراتی سلسلے کا آغاز کیا جس کی سلورجوبلی تقریب یعنی پچیسویں مشاعرے میں شرکت کے بعد میں آج ہی اس شہر سے لوٹا ہوں ۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس مشاعراتی سلسلے کے آغاز کے صرف دو سال بعد اس مجلس کے زیر اہتمام مرحوم مشتاق احمد یوسفی اورفی الوقت امریکا میں مقیم مشہور بھارتی نقاد ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے ایما پر اُردو کے نثر نگاروں کے لیے ایک عالمی ایوارڈ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

موجودہ مشاعرے کے ساتھ اس سلسلے کے 25 ویں سالانہ ایوارڈ کی تقریب بھی حسبِ سابق متصل تھی جو مشاعرے سے ایک روز قبل حسب روایت مجلس کے چیئرمین محمد عتیق کی طرف سے دیے گئے ایک عشایئے کا مرکزی حصہ تھی بغیر کسی تعطل کے اتنے طویل عرصے تک ایسی ادبی تقریبات کا ہر اعتبار سے ایک شاندار تسلسل قائم رکھنا بلاشبہ اردو دنیا میں اگر نایاب نہیں تو بے حد کمیاب ضرور ہے میری خوش بختی کہ اُس محفل میں میں واحد مہمان تھا جو اُن دونوں ابتدائی تقریبات میں بھی شامل ہوا تھا جب کہ میزبانوں میں بھی بیگم و محمد عتیق ،قاضی محمد اصغر ، بیگم و محمود احمد ، سیف الرحمن اور دو یا تین دیگر احباب سے قطع نظر سب لوگ اُس قافلے کے بعد میں شریک ہونے والے رفقاء میں سے تھے ان 25 مشاعروں اور 23 ایوارڈ تقریبات کے علاوہ مجلس نے سات سلیم جعفری مرحوم ایوارڈ ز کے ذریعے کچھ ایسے اُردو دوست لکھاریوں کو بھی ایوارڈ سے نوازا جو بھارت اور پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں رہتے ہوئے اُردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے تھے ان میں چین کے شاعر چانگ شی شوان(انتخاب عالم) برطانوی محقق اور اُستاد ڈیوڈ میتھیوز ، عرب امارات کے شاعر زبیر فاروق ، روس کی لڈمیلا،جرمنی کی کرسٹینا اوسٹر ہیلڈ اورجاپان کے سویمانی کے علاو کچھ اور لوگ بھی شامل تھے جن کے نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہے ۔2006 میں ملک  مصیب الرحمن کے اچانک انتقال کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ شائد اب یہ سلسلہ برقرار نہیں رہ سکے گا کہ ہمارے اس نوع کے بیشتر ادارے انھیں بانی شخصیات کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں لیکن جس طرح سے محمد عتیق اور اُن کے مقامی اور دیگر رفقاٗ نے اس کام کو سنبھالا اور آگے بڑھایا ہے اس کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

محمد عتیق صاحب نے اپنی استقبالیہ تقریر میں بتایا کہ اس برس یہ مصیب الرحمن مرحوم کے بعد تیرہواں مشاعرہ اور گیارہواں ایوارڈ ہے جب کہ شاعروں کے جشن منانے کا سلسلہ جو سلیم جعفری مرحوم نے 1986 میں دبئی سے جشن فیضؔ کے انعقاد سے شروع کیا تھا اور جو بعد میں اس مجلس فروغِ اُردو ادب کے تعاون سے 2000 تک جاری رہا اور بوجوہ مصیب صاحب کی زندگی ہی میں بند کر دیا گیا تھا ان  25برسوں میں احسن اور حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اُن کی جگہ مجلس کو مسلسل نئے ادب دوست ساتھی بھی ملتے رہے اور یوں اُن کی رضا کارانہ حمایت اور مدد سے ان تقریبات کے انتظامات اور مہمانداری کی سطح ہمیشہ بہت عمدہ اور مثالی رہی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں سے کچھ مقامی اختلافات اور مسائل کی وجہ سے عزیزی فہیم ، امین موتی والا، شوکت علی ناز اوراعجاز حیدر عباسی سے منسلک نہیں رہے۔ امید اور دعا ہے کہ دیارِ غیر میں ادب کے رشتے سے قائم ہونے والا یہ تعلق پھر سے بحال ہو جائے مشاعرے میں اسی حوالے سے میں نے ایک شعر بھی پڑھا تھا کہ :

آئینے ٹوٹ کر نہیں جُڑتے

دوستوں کو نہ یوں خفا کیجیے

البتہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس بار قمر بھٹی، سانول عباسی، شفیق رضا نقوی، زاہد شریف،عبید طاہر کی صورت میں مجلس کو ایک بہت اچھا اسٹیج سیکریٹری مل گیا ہے سو امید کی جا سکتی ہے کہ مجلسِ انتظامیہ کے صدر عزیزی فرتاش سید کوآیندہ انتظامی امور کی طرف توجہ دینے کے لیے مناسب وقت مل جائے گا اور مہمانوں کا قیام مزید آرام دہ اور خوشگوار ہو جائے گا۔ برادرِ عزیزی عدیل اکبر نے ہمیشہ کی طرح اپنے احباب سمیت سب مہمانوں کی بہت پذیرائی کی  اشرف صدیقی، عبداباسط، ڈاکٹر خلیل شبلی اور بھارت سے آئے ہوئے مہمانوں ف س اعجاز، چرن سنگھ بشر، شکیل اعظمی، نصرت ظہیر اور عزیزی زبیر تابش سے بھی خوب ملاقات رہی اور اس بات پر سب نے اتفاق رائے کیا کہ ادب اور فنون ہی وہ خوبصورت اور طاقت ور رشتے ہیں جن کی وساطت سے دونوں ملکوں کے عوام اور اہلِ فکر و نظر کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر لایا جا سکتا ہے جس کا منشور صرف ایک لفظ پر مشتمل ہو اور وہ لفظ ہے ’’محبت‘‘ ۔

لاہور سے میرے ساتھی صاحبِ ایوارڈ ڈاکٹر تحسین فراقی اُن کے داماد، بیٹی اور نواسے کے علاوہ عزیزی دوست شوکت فہمی اور کوارڈی نیٹر پاکستان برادرم دائود ملک تھے جب کہ کراچی سے عزیزہ عنبرین حسیب عنبر اسلام آباد سے جنید آذر، منڈی بہائو الدین سے ادریس قریشی، امریکا سے ڈاکٹر نوشہ اسرار، کینیڈا سے برادر محترم ڈاکٹر سید تقی عابدی، مسقط سے قمر ریاض، کویت سے صداقت ترمذی اور ملتان سے ڈاکٹر عقیلہ بشیر اور قاضی عابد پروگرام میں شامل تھے۔

دوحہ کے تجربے کے حوالے سے اگرچہ میں ان سے سینئر تھا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ امیگریشن پر سب سے زیادہ پریشانی بھی مجھی کو ہوئی ہوا یوں کہ جب برادرم دائود ملک نے ٹکٹ اور ویزا کی کاپی مجھے دی تو میں نے حسبِ عادت اپنی طرف سے نام کے بجائے تاریخ پیدائش، پاسپورٹ نمبر اور فلائٹ کی تفصیل اور اوقات وغیرہ اچھی طرح سے کراس چیک بھی کیے مگر یہ غلطی مجھ سے بھی نظر انداز ہو گئی کہ پاسپورٹ نمبر سے پہلے کے کوڈ میں ایک جگہ ’’ E‘‘کے بجائے ’’F‘ لکھا گیا ہے وہ تو ایسا ہوا کہ لاہور ایئرپورٹ کی امیگریشن پر ہی یہ غلطی سامنے آ گئی ورنہ یہ بھی ممکن تھا کہ مجھے دوحہ ایئر پورٹ سے ہی واپس بھیج دیا جاتا کہ وہاں کا متعلقہ عملہ، قوانین اور ہمارے کچھ ہم وطن مہربانوں کے سابقہ ریکارڈ کے باعث وہ لوگ اب کوئی جائز رعایت دینے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔

فیصلہ یہ ہوا کہ اس ویزے کو سرے سے نظر انداز کر دیا جائے اور وہاں پہنچ کر  on arrival ویزہ لے لیا جائے کہ اب یہ سہولت میسر ہو چکی ہے یہ ویزہ مل تو گیا مگر اس کے لیے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جو بے معنی قسم کی خواری ہوئی اس کی بد مزگی کئی گھنٹوں تک برقرار رہی بیشتر عرب ممالک کی طرح دوحہ میں بھی ’’مقامیت‘‘ کا بخار زوروں پر ہے کہ ہر جگہ اپنے ملک کے لوگوں کو آگے رکھا جائے لیکن اس کے لیے جس تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اُس کی طرف توجہ بہت کم ہے ۔





Source link