21

قانون صحافت – ایکسپریس اردو


اطلاعات کے مطابق حکومت نے میڈیا کو مفاد پرستوں کا آلہ کار بننے سے روکنے کے لیے عالمی سطح پر رائج قوانین کی طرز پرپاکستان میں بھی خصوصی عدالتیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

حکومتی دعویٰ ہے کہ صحافت کے لیے ان عدالتوں میں حکومت سمیت تمام فریقین کا احتساب ہو سکے گا۔ یعنی آسان لفظوں میں حکومت میڈیا کو لگام ڈالنا چاہتی ہے اور اپنی پسند کا کوئی ایسا قانون نافذ کرنے کا سوچ رہی ہے جس سے میڈیا اگر گستاخی کرے تو اس کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔

ایسا قانون صدر ایوب خان نے پہلی بار بنایا تھا جو پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کے نام سے مشہور ہوا۔ ایوب خان کے بعد بھٹو صاحب آئے تو اخبارات ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے اس لیے اخبارات پر پابندیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا ۔پھر ضیاء الحق کا مارشل لاء آگیا اور مارشل لاء تو سر تا پا پریس آرڈیننس ہوتا ہے ۔

جونیجو صاحب کے زمانے میں ان سخت قوانین سے جان چھوٹی ۔ اگرچہ میڈیا کی آزادی مالکان کی آزادی ہوا کرتی ہے اور کارکن صحافی کبھی آزاد نہیں ہوتا لیکن پھر بھی اگر میڈیا کو آزادی حاصل ہو تو آزادی کی یہ روشنی کچھ نہ کچھ چھن چھنا کر کارکن صحافیوں تک بھی پہنچ ہی جاتی ہے لیکن جب پابندیاں ہوتی ہیں تو پھر کارکن صحافی دوہری پابندیوں میں پھنسے رہتے ہیں۔ ان دنوں اخبارات اور ٹیلی ویژن کی آزادی ہم دیکھ رہے ہیں۔ اخبارات کے بعد ٹیلی ویژن کا تحفہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا تھا جنھوں نے اپنی حکومت میں میڈیا کو وسعت دی اور آزاد بھی رکھا اور بعد ازاں یہی میڈیا ان کی حکومت میں ہی ان کا نقاد بھی رہا۔

میڈیا کی آزادی کی بات کی جائے تو یہ کہنا درست ہو گا کہ میڈیا آزاد ہے اور ہم سب اپنی مرضی سے لکھ اور بول رہے ہیں اور بعض اوقات اس آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں یا ایسا کچھ چھپ جاتا ہے جو حکمرانوں کی کتاب میں گستاخی کے باب میں درج ہو جاتا ہے۔

ہماری موجودہ حکومت جو نئے پاکستان کی حکومت ہے اور نئے پاکستان کے لیے عوام کے جمہوری مینڈیٹ سے نہال ہے اب اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کچھ نڈھال ہوتی جا رہی ہے، اس لیے اسے نئے پاکستان میں میڈیا کے لیے بھی کچھ نیا سوجھ رہا ہے اور میڈیا کی بعض رپورٹیں اسے سخت ناگوار گزر رہی ہیںچنانچہ حکومتی حلقوں میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ میڈیا حکومت کے خلاف ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے یہ وہی میڈیا ہے جو تحریک انصاف کے احتجاجی جلسوں اور ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے دھرنے کی براہ راست کوریج کرتا رہا اور یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں میڈیا کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے اور عوام کے ذہنوں کی آبیاری اسی گستاخ میڈیا نے کی ہے۔

اس لیے اگر حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ میڈیا کو نکیل ڈالنے کے لیے کوئی انوکھا قانون بنایا جائے تو یہ وقت اس کے لیے قطعی موزوں نہیں ہے ۔ حکومت کی پالیسیوں کے سبب میڈیا کے مختلف اداروں میں جو صحافی حکمرانوں کے غیر مشروط حامی تھے وہ بھی اب حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ان سے شاکی ہیں ۔ اول تو تحریک انصاف کی کوئی میڈیا ٹیم تھی ہی نہیں اور اگر معدودے چند صحافی جناب عمران خان سے اپنے پرانے تعلقات کی نسبت سے ان کی حکومت کا دفاع کرتے تھے تو ان کو بھی خود حکمرانوں نے اپنے سے دور کر دیا ہے ۔

میڈیا کے بارے میں موجودہ حکومت کی حکمت عملی کے بارے میں سمجھ بوجھ نہایت مشکل کام ہے وفاق سے لے کر صوبے تک اطلاعات کے شعبے میں مسلسل تبدیلیوں کا ایک عمل جاری ہے اور ابھی پہلے والا ترجمان میڈیا سے سلام دعا مکمل نہیں کر پاتا کہ اس کی جگہ دوسرا آجاتا ہے بلکہ اب تو بعض اوقات یہ مغالطہ بھی ہوجاتا ہے کہ حکومت کا اصل ترجمان کون ہے۔

ترجمانوں کی ایک فہرست کچھ عرصہ قبل شایع ہوئی تھی معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس فہرست میں موجود لوگ اپنے کام سے ناکام ہو کر حکومت کا پروپیگنڈہ بند کر کے میڈیا کو قابو کرنے کے چکر میں پڑ گئے ہیں اور اس کا نتیجہ ان کو بھی معلوم نہیں کہ کیا نکلے گا کیونکہ موجودہ دور میں آزاد میڈیا پر قدغن لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔حکومت کا اپنا جوکام ہے اس کو اسے خوش اسلوبی سے انجام دینا چاہیے اور اخبارنویسوں کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے ۔

اخبار نویس کسی حکومت کا مخالف نہیں ہوتا بلکہ وہ اخبار نویس ہوتا ہے البتہ وہ بھی انسان ہوتا ہے اور اس کی بھی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے ۔دراصل اخبار نویس ہمیشہ خبر کی تلاش میں ہوتا ہے اور اس کو جیسی خبر ملے گی وہ اس میں کس حد تک اور کیا تبدیلی کر سکتا ہے۔ اخبار نویس بعض اوقات ڈنڈی بھی مارتا ہے لیکن ایک حد تک کہ جس سے خبر خبر ہی رہے ۔

اس لیے اگر عمران خان میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی قانون اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ میڈیا ان کے حق میں نہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ میڈیا ان کے خلاف ہر گز نہیں بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ اخبارنویسوں کی اکثریت عمران خان کی حکومت کی کامیابی کی خواہشمند ہے کیونکہ اسے دوسری طرف فی الوقت وہی لوگ نظر آرہے ہیں جن کو ابھی قبول کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ہر ایک کی خواہش ہے کہ عمران خان کامیاب ہوں اور ملک کو سنوارنے کی کوشش کرتے رہیں ۔ ویسے اس وقت لگتا یوں ہے کہ ملک کو سنوارنے کی نہیں بچانے کی ضرورت ہے جب بچ جائے تو خود بخود سنور بھی جائے گا۔ شاعر نے سچ کہا ہے کہ

خدا جب حسن دیتا ہے ، نزاکت آہی جاتی ہے

جہاں تک میڈیا کے خلاف کسی قانون سازی کا معاملہ ہے تو حکومت کو اسمبلی میں اتنی اکثریت تو حاصل ہے کہ وہ قانون بنا سکتی ہے اس لیے حکومت چند لمحوں میں میڈیا کا مکو ٹھپ سکتی ہے لیکن اس کے بعد کیا ہوگا ایک الگ معاملہ ہے اور یہی نازک معاملہ ہے کیونکہ پھر حکومت کی یہ شکایت درست ہوجائے گی کہ پریس اس کے خلاف ہے ۔ اگر حکومت اپنی موجودہ غلط شکایت کو درست ثابت کرنے کے لیے ایسا کرنا چاہتی ہے تو بسم اللہ لیکن بعد میں کوئی گلہ نہ کرے۔

تمام صحافتی تنظیموں نے میڈیا کے بارے میںاس مجوزہ عدالتی نظام کے خلاف اپنا اپنا موقف واضح کیا ہے ۔ میر ی ان تنظیموں کے کرتے دھرتوں سے گزارش ہے کہ وہ خود وزیر اعظم سے براہ راست بات کریں جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے ۔ اگر انھیں ذرا سا بھی خیال ہے کہ میڈیا ان کا خیر خواہ ہے تو وہ میڈیا کو کسی معقول اور جمہوری ضابطے میں ضرور لائیں لیکن انھیں قابو کرنے کا خیال اور شوق چھوڑ دیں ۔ یہ شوق بہت مہنگا ہے اور بسا اوقات بھاری پڑ جاتا ہے۔





Source link