17

تیاری کر لی نا عید کی؟


’’ تیاری کر نا عید کی بیٹا؟ ‘‘ اماں جان نے اپنی جان شٹل کاک برقعے سے آزاد کروائی اور سکون کی سانس لیتے ہی پہلا سوال بہو پر داغا۔ اس لفظ بیٹا میں وہ طنز جھلکتا تھا کہ جس کا مطلب تھا … ’’ بیٹا!!‘‘ بقر عید چھوٹی بہو کے ہاں کرنااسی جان کے لیے لازم ہوتا تھا کیونکہ انھیں اس کی ’’ قابلیت ‘‘ پر شک نہیں تھا بلکہ پورا یقین تھا کہ وہ انتہائی نا اہل ہے۔

’’ جی اماں جان … سہیل بکرا عید سے ایک دن پہلے گھر لے آئیں گے، گائے کے حصے کا گوشت عید کی شام تک ملے گا۔ میں نے بکرے کو ذبح کرنے سے متعلق سارے انتظامات کروا لیے ہیں، جیسے کہ آپ نے مجھے بتا رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹب، بالٹیاں، چھریاں، پلاسٹک شیٹ، گوشت بانٹنے کے لیے مومی لفافے… ‘‘

’’ پتا تھا مجھے، تمہارا سارا زور گوشت بانٹنے پر ہی ہوتا ہے، اس کے سنبھالنے کی کوئی فکر نہیں کی ہو گی تم نے!! ‘‘ اماں جان نے خفگی کا اظہار کیا۔ ’’ گائے کے کتنے حصے ہیں تمہارے اس سال؟ ‘‘

’’ گائے میں تین حصے ہیں اماں، ایک میرا ہے اور دو میری پردیسی بہنوں کے ہر سال کی طرح!!‘‘

’’ کیا بتاتا ہے سہیل، گائے کا لگ بھگ کتنا گوشت آ جائے گا؟ ‘‘

’’ کہہ رہے تھے اماں کہ ہر حصے کاتقریبا تیس کلو گوشت ملے گا!‘‘

’’ بکرے میں سے بھی من بھر گوشت نکلے گا انشااللہ!! ‘‘

’’ جی اماں ، انشااللہ! ‘‘

آ’’ فریزرمیں کتنی جگہ بنائی ہے تم نے؟‘‘

’’ فریزر تو بھرا ہوا ہے اماں ؟‘‘

’’کیا؟؟ دماغ تو درست ہے تمہارا بہو؟‘‘ وہ چیخیں، ’’ یعنی کہ لگ بھگ تین من گوشت کو سنبھالنا ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ فریزر بھرا ہوا ہے… کیا تم نے اب اپنے کپڑے اور جوتے فریزر میں رکھنا شروع کر دیے ہیں؟ ‘‘

’’لیکن اماں تین من گوشت کون سا سارا ہمیں نے رکھنا ہے، بانٹنا بھی تو ہے!!‘‘ بہو نے ممنا کر کہا ، ’’ اورفریزر میں، میں کپڑے جوتے نہیں رکھتی اماں ، آپ کو علم ہے کہ میں ملازمت کرتی ہوں اور میں چھٹی کے دن ہفتے بھر کے کھانے کی تیاری کرتی ہوں کہ ہر روز شام کو گھر لوٹ کر آدھا کام کیا ہوا فریزر میں سے مل جاتا ہے۔ کٹی اور تلی ہوئی سبزی، سستے وقتوں کے خریدے ہوئے ٹماٹر اور مٹر، کوٹ کر رکھے ہوئے ادرک اور لہسن، ابال کر رکھا ہوا گوشت، لیموں کا رس نکال کر اس کے کیوب سانچوں میں جما کر رکھتی ہوں… ‘‘

’’یہی حرکتیں ہیں تمہاری بہو… جن کی وجہ سے مجھے بے ٹھکانہ ہونا پڑتا ہے ہر سال، نہ تمہیں عقل آئی کہ کتنا اور کیسے گوشت سنبھالنا ہے اور نہ ہی تم نے اتنے سالوں میں مجھ سے کچھ سیکھا ہے! ‘‘

’’اماں قربانی کا گوشت اپنے کھانے کے لیے نہیں ہوتا، اللہ کی راہ میں جتنا بھی دے دیا جائے… ‘‘

’’اللہ کو نہیں چاہیے تمہارا گوشت بی بی۔ قربانی کر دی سو کر دی، آج کل کے دور میں اتنا مہنگا جانور خرید کر اگر اسے سارا بانٹ ہی دینا ہو تو سال کے باقی دن کیا فاقوں سے گزارنا ہیں ؟ ‘‘

’’ہمارے گھر میں تو گوشت کسی کو اتنا پسند بھی نہیں اماں ! ‘‘

’’تو کیا تمہارے گھر سال بھر مہمان نہیں آتے؟ ‘‘ انھوں نے غصے سے کہا، ’’ بے وقوف عورت، سو پچاس کی بچت کے لیے مٹر، ٹماٹر، لیموں اورسبزیاں فریزر میں بھر لیتی ہو، گوشت کے بھاؤ کا علم نہیں کیا تمہیں؟ ‘‘

’’یہ سب چیزیں ہر وقت میرے گھر میںاستعمال ہوتی رہتی ہیں اماں اور ان کی بچت میں میرا فائدہ بھی ہے اور سہولت بھی! ‘‘

’’رہیں تم جاہل کی جاہل ہی… ‘‘ وہ پھر غصے سے بولیں، ’’ وہ جو فریزر خراب تھا تمہارا وہ کیا ہوا، پھینک پھانک دیا ہو گا کہیں ؟ ‘‘

’’وہ تو اماں میں نے کام والی کو دینے کا کہہ رکھا ہے… اسے چاہیے تھا! ‘‘

’’لگتا ہے کہ وہ تم سے زیادہ عقلمند ہے جسے اس موقع پر فریزر چاہیے اور وہ لے گئی ، اسے علم ہو گا کہ عقل مند عورتیں اسی موقع پر سال بھر کے لیے گوشت سنبھال کر رکھتی ہیں! ‘‘

’’وہ ابھی فریزر لے کر نہیں گئی اماں ، میں اسے ٹھیک کروا کر دوں گی! ‘‘

’’کیا؟؟ ‘‘ پاگل ہو گئی ہوتم، ایک تو اسے مفت میں اتنا قیمتی فریزر دے رہی ہو اوپر سے ٹھیک بھی کروا کر دو گی، آفرین ہے بھئی تم پر ‘‘

’’خراب فریزر اس کے کس کام کا اماں، ٹھیک کروا کر دوں گی تو اسے فائدہ ہو گا نا! ‘‘ اس نے رسان سے کہا، ’’ اللہ کے نام پر میں نے اسے کچھ دینا ہے تو پرانا سہی مگر بے کار تو نہ ہو نا، خود تو ہم اللہ سے سب اچھے کی توقع کرتے ہیں! ‘‘

’’تو بی بی یوں کرو کہ پرانا ٹھیک کروا کے خود رکھ لے اور جو نیا خریدا ہے وہ اسے دے دو، اللہ تعالی اور بھی زیادہ خوش ہو گا ! ‘‘

’’ارے واہ اماں ! کتنی اچھی بات کہی آپ نے، واقعی اتنا اچھا خیال میرے ذہن میں آیا ہی نہیں! ‘‘ وہ مسکرائی۔

’’ایل لو… ‘‘ انھیں توقع نہیں تھی کہ ان کی بہو ان کا طنز بھی نہیں سمجھے گی اور ان کے بیٹے کی کمائی کا خریدا ہوا نیا فریزر ملازمہ کو دینے پر تل جائے گی۔ انھیں کہاں علم تھا کہ وہ بے وقوف عورت ان کا طنز سمجھ بھی گئی تھی اور ان کے اچھوتے آئیڈیا کی تعریف کر کے ان پر بھی طنز کر گئی تھی۔ فریزر اس نے اپنے پیسوں سے خریدا تھا جسے اماں اپنے بیٹے کی کمائی کا کہہ رہی تھیں ۔

’’اماں آپ فکر نہ کریں، اللہ نے ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ سال میں جب بھی گوشت کھانے کو جی چاہے گوشت خرید کر کھا لیتے ہیں ، جس بھاؤ پر بھی ہو، اللہ تعالی سکت دے دیتا ہے! ‘‘

’’تم رہنا بے وقوف کی بے وقوف! ‘‘ انھوں نے اپنا ہمیشہ کا پسندیدہ جملہ دہرایا، ’’ بس میں آ گئی ہوں نا تو سب سنبھال لوں گی۔ بکرے کا گوشت جتنا تم نے رکھنا ہوا رکھ لینا، رشتہ داروں والا حصہ میں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو بھجوا دوں گی، گائے کا گوشت بھی تمہارے بچے کہاں کھاتے ہیں، جو کچھ تم نے اپنی ملازمہ وغیرہ کو دینا ہوا وہ دے لینا اور باقی میں ساتھ لے جاؤں گی۔ میں نے سارے بچوں کے گھروں میں فریزر خالی کروا رکھے ہیں، وہ سب لوگ مل کر سنبھال لیں گے، تم لوگ تو دو دو ہاتھوں سے کماتے ہو اس لیے تمہیں نہ قدر ہے نہ احساس کہ گوشت خرید کر کھانا کتنا مشکل ہو گیا ہے !!‘‘

’’گوشت خریدنا مشکل ہو گیا ہے اماں تو نہ خریدیں، کون ساگوشت کھانا فرض ہے۔ کم کھا لیں، سبزی دال زیادہ کھائیں، اس میں فائدہ زیادہ ہے! ‘‘

’’اگر اتنا ہی فائدہ ہوتا تو اللہ میاں سبزی دال کی قربانی کا کہہ دیتے نا بہو، گوشت اچھی چیز ہے تو اسی لیے گوشت کی قربانی کا حکم ہے نا! ‘‘

’’جی اماں ، گوشت اچھا بھی ہے اور مہنگا بھی، اسی لیے حکم ہے کہ اچھی اور قیمتی چیز کی قربانی دیں۔ اگر وہی اچھی اور قیمتی چیز قربانی کی نیت سے خریدی مگر جب قربان کی اور اس کے مستحق لوگوں تک پہنچاتے ہوئے ہچکچا گئے تو قربانی کی روح تو ضایع ہو گئی نا! ‘‘

’’اللہ تعالی کو ہماری نیت معلوم ہے نا… بس اب اس موضوع پر اس سے زیادہ بحث نہ کرو اور بڑوں کے آگے منہ چلانے کی تربیت تمہیں کس نے دی ہے!! ‘‘ اماں نے ہر سال کی طرح بہوکو shutup کال دی اور فریزر میں جگہ بنانے کے لیے اٹھ گئیں۔

نوٹ ۔ آپ سب کو عید قربان مبارک ہو۔ اپنی خاص دعاؤں میں میری والدہ کو ضرور یاد رکھیں، عید کے دن انھیں اسپتال میںزندگی کی جنگ لڑتے ہوئے پینسٹھ دن ہو جائیں گے۔





Source link