14

بانی مزدور تحریک مرزا محمد ابراہیم


آج 11 اگست 2019ء ہے۔ آج سے ٹھیک 20 برس قبل برصغیر میں ٹریڈ یونین کے بانی مرزا محمد ابراہیم اپنے لاکھوں محنت کشوں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ان 20 برسوں میں دنیا بھر میں اور خاص کر پاکستان میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔ 12 اکتوبر 1999ء میں ایک بار پھر ملک میں مارشل لا لگا دیا گیا اور جنرل پرویز مشرف اپنے فوجی افسران کے ساتھ عنان حکومت پر قابض ہو گئے اور منتخب حکومت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف سمیت ان کے اہل خانہ اور وزیروں مشیروں کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور 9 برس سے زائد اپنی حکومت برقرار رکھی۔

این آر او کے بعد ملک میں الیکشن کرائے اس دوران راولپنڈی میں محترمہ بینظیر بھٹوکو شہید کر دیا گیا پورے ملک میں ہلچل مچ گئی۔ پھر کیا ہوا؟ وہ عوام کے دباؤ اور حکومت کے دباؤ کے تحت بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہو گئے اور تاحال ملک سے باہر ہیں ملک سے اور آئین سے غداری کا مقدمہ چل رہا ہے۔ قصہ مختصر اب پھر 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف نے اپنے لیڈر عمران خان کی قیادت میں دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یکم اگست 2019ء میں سینیٹ کے الیکشن میں کچھ گڑبڑ کر کے اپنے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو دوبارہ منتخب کرا لیا گیا۔ چونکہ ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، غربت، جہالت اور ٹیکسوں کا زور شور ہے۔ آج ہمیں مرزا ابراہیم بہت یاد آ رہے ہیں۔

مرزا ابراہیم، کارل مارکس، اینگل، لینن، ماؤزے تنگ اور ہو چی منہ کے کٹر حامی تھے اور مرتے دم تک اس پر قائم رہے۔ مرزا ابراہیم 1905ء میں جہلم کے قریب ایک گاؤں کالا گجراں میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق ایک بے زمین گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مرزا عبداللہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے بڑے بھائی مرزا اللہ دتہ چغتائی پشاور سے ایک اردو اخبار ’’روشنی‘‘ نکالا کرتے تھے۔ مرزا ابراہیم مدرسہ تعلیم سے آگے نہ پڑھ سکے۔ انھوں نے اپنی ملازمت کا آغاز بطور مالی، بھٹہ مزدور اور پھر ریلوے میں بطور معاون (ہیلپر) کی حیثیت سے کیا۔

انھوں نے اپنی عملی جدوجہد کا آغاز خلافت موومنٹ سے کیا جو اس وقت برطانوی سامراج کے خلاف تھی اور پورے برصغیر میں زوروں پر تھی جس کی قیادت ترکی میں انور پاشا کی تحریک تھی جب کہ ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کی تحریک بڑے عروج پر تھی جس کا مرزا ابراہیم پر گہرا اثر ہوا۔ وہ 1926ء میں برج ورکشاپ جہلم میں بطور معاون بھرتی ہو گئے وہیں سے انھوں نے یونین میں حصہ لینا شروع کر دیا، ریلوے میں یونین موجود تھی۔

1911-1910ء میں نارتھ ویسٹرین ریلوے میں مزدوروں نے خود رو ہڑتال اور مظاہرے کیے مزدوروں کی تحریک زور پکڑتی گئی اور 1920ء میں ریلوے یونین بن گئی تھی اور پھر 1926ء میں پہلا ٹریڈ یونین ایکٹ بنا۔ مرزا ابراہیم کو یونین میں حصہ لینے کی وجہ سے جہلم سے تبدیل کر کے ان کا تبادلہ کیرج شاپ مغل پورہ لاہور میں کر دیا گیا اور وہ 1930ء میں لاہور آگئے۔ بعد میں ان کا رابطہ کمیونسٹ پارٹی سے ایک طالبعلم جے گوپال کے ذریعے ہو گیا۔ مرزا ابراہیم نے بتایا کہ مجھے کمیونسٹ پارٹی والوں نے خوب پڑھایا۔ سرمایہ کیا ہے؟

محنت کیا ہے، مذہب کیا ہے، سرپلس ویلیوکیا ہے اورکس طرح مزدور طبقہ جدوجہد کر کے اقتدار پر قبضہ کر سکتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی سے رابطے کے بعد وہ لیبر ونگ کے انچارج مقرر ہوئے بعد میں پارٹی نے کانگریس کے ساتھ مل کر ریلوے مین فیڈریشن کی بنیاد رکھی جس کے بانیوں میں وہ شامل رہے اور اس کے سینئر نائب صدر بنے جب کہ صدر وی وی گری بنے جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے۔ اس زمانے میں انگریز سامراج کے خلاف سخت نفرت اور بغاوت تھی۔

روس میں 1917ء میں انقلاب آ چکا تھا۔ جس کی لپیٹ میں ایشیائی ممالک اور پورے ہندوستان کے لوگ شامل تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ ریلوے میں دوران جنگ جو عارضی ملازمین رکھے گئے تھے ان کو فارغ کر دیا جائے جس کے خلاف ریلوے مین نے بغاوت کر دی۔ ریلوے فیڈریشن نے بھی ہڑتال کی کال دے دی۔ یکم مئی 1946ء کو یوم مئی کے موقع پر زبردست جلسے کے بعد صبح 7 بجے سے 11 بجے تک ریل کا پہیہ جام کر دیا گیا اور پھر 27 جون 1946ء کو رات 12 بجے سے مکمل ہڑتال کرنے کا نوٹس دے دیا گیا اس طرح پورے ہندوستان میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس موقع پر حکمرانوں نے مرزا ابراہیم کو پیشکش کی کہ وہ ہڑتال سے لاتعلق ہو جائیں اور اسپتال میں داخل ہو جائیں اس کے عوض ان کو ایک کروڑ روپے اور حیدرآباد ورکشاپ کا اسسٹنٹ ورکس منیجر لگا دیا جائے گا اور اس کے دوستوں کو بھی نوازا جائے گا، ملک تقسیم ہو رہا ہے آپ پاکستان چلے جانا۔ مگر انھوں نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ بعد میں حکومت نے مرزا ابراہیم اور یونین کے رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنا کر انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

مرزا ابراہیم زیر زمین چلے گئے چونکہ پورے برصغیر میں بغاوت تھی اس لیے حکمرانوں کو فیڈریشن کے رہنماؤں سے مذاکرات کرنے پڑے اور اس طرح ڈیڑھ لاکھ مزدور بیروزگار ہونے سے بچ گئے۔ حکومت کو 9 تا 10 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں مزدوروں کو دینا پڑا۔ اس طرح یہ تاریخ ساز ہڑتال ختم ہو سکی مگر اس کی پاداش میں مرزا ابراہیم کو تقسیم سے 5 ماہ قبل مارچ 1947 میں ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے اور انھیں برطرف کر دیا گیا۔ ان کی ملازمت 23 برس ہو گئی تھی اور وائر مین کے عہدے پر فائز تھے۔

حکومت اور انتظامیہ نے ان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا۔ ملک کی تقسیم کے بعد وہ پارٹی اور فیڈریشن کے کل وقتی کارکن بن گئے۔ پاکستان کے فوری قیام کے بعد انھوں نے پاکستان میں پہلی مزدور فیڈریشن کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن رکھا گیا جس کے وہ بانی صدر منتخب ہوئے۔ اس فیڈریشن میں ان کے ساتھ فیض احمد فیض، سی آر اسلم، ایرک سپرین، سردار شوکت، سوبھوگیان چندانی سمیت کئی اہم رہنما شامل تھے جب کہ جنرل سیکریٹری عبدالمالک بنے جو بعد میں مشرقی پاکستان کے گورنر بنے۔ مرزا ابراہیم نے برصغیر کے کئی ایک بڑے بڑے نامور سیاستدانوں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں اور کام بھی کیا۔

جن سے ملاقاتیں رہیں ان میں گاندھی جی، پنڈت جواہر لال نہرو، قائد اعظم محمد علی جناح، خان لیاقت علی خان، خان عبدالغفار خان، جی ایم سید، محمدعلی جوہر اور شوکت علی سمیت کئی رہنما شامل ہیں جب کہ جن کے ساتھ کام کیا جیل کاٹی ان میں سجاد ظہیر، حسن ناصر، محمود الحق عثمانی، دادا امیر حیدر، دادا فیروزالدین منصور، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، سی آر اسلم، انیس ہاشمی، سوبھوگیان چندانی، ڈاکٹر اعزاز نذیر، حیدر بخش جتوئی، امام علی نازش، میجر اسحاق، سردار شوکت علی، افضل بنگش، غلام نبی کلو، کیفی اعظمی، حسن عابدی، ولی خان، حبیب جالب، عبدالصمد اچکزئی، طفیل عباس، منہاج برنا، چوہدری فتح محمد، محمد اسلم، عبدالرشید باغی، نبی احمد، ایس پی لودھی، عبدالحمید بھاشانی، میاں افتخار الدین، محمد حسین عطا، حمید اختر، نثار عثمانی، مسعود کھدر پوش، ظفر اللہ پوشنی، حسن حمیدی، احمد الطاف، زین الدین خان لودھی، ڈاکٹر شمیم زین الدین، شمیم اشرف ملک، بیگم شمیم اشرف ملک، بیگم ایلس فیض، کنیز فاطمہ سمیت کئی نامور سیاسی رہنماؤں، شاعروں ، ادیبوں کے ساتھ بھرپور جدوجہد کرتے ہوئے زندگی گزاری۔ واضح رہے کہ اس دوران تقسیم کے بعد 1951ء میں ان کی ملاقات دانیال لطیفی کے گھر ملک کے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان سے بھی ہوئی۔

لیاقت علی خان نے ان سے کہا کہ مرزا صاحب اب پاکستان بن گیا ہے آپ کمیونسٹ پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں آپ کو وزارت محنت کا قلم دان دیا جائے گا۔ مرزا ابراہیم نے انھیں جواب دیا کہ آپ کی جماعت مسلم لیگ ایک فرقہ پرست جماعت ہے اس میں شامل نہیں ہو سکتا یوں ان کا ٹکراؤ حکومت سے ہو گیا اور انھیں جیل بھیج دیا گیا۔ محنت کشوں کا یہ قلندر 11 اگست 1999ء کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سوگوار کر گیا۔





Source link