9

جشن کامیابی کے شور میں ۔۔۔


’’ایک مہذب اور محب وطن اپوزیشن کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اہم قومی مسائل پر حکومت کی حمایت کرے، لیکن اپوزیشن عمران دشمنی میں حکومت کے کسی مثبت کام میں بھی اس کی حمایت کے بجائے معکوس راہ اختیار کر رہی ہے۔‘‘

یہ پیراگراف ہم نے ایک معتبر، سینئر، مقبول اور ترقی پسند کالم نگار کے کالم سے نقل کیا ہے اور اپنا یہ کالم اسی دن یعنی ہفتہ 3 اگست کو لکھا تھا مگر ہمارے ذہن میں کچھ سوالات گردش کرنے لگے، اور قومی انتخابات 2018ء سے قبل کے کئی مناظر بھی آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔

کراچی کے ایک ضمنی انتخاب کا منظر تو فلم کی طرح آنکھوں میں گھوم گیا۔ اس تحریر میں جو مہذب و محب وطن اپوزیشن کی خوبی و ذمے داریاں بیان کی گئی ہیں اس حوالے سے پہلا سوال تو یہ ’’کیا یہ انداز فکر و عمل خود محترم موجودہ وزیر اعظم کا ایجاد کردہ نہیں؟ اور کیا انھوں نے گزشتہ حکمرانوں کی بطور اپوزیشن لیڈر ’’اصلاح‘‘ کی مثبت و مہذب کوشش فرمائی تھی؟ وہ تو ایوان اسمبلی میں قدم رنجا فرمانا بھی پسند نہیں فرماتے تھے مگر تمام مراعات رکن اسمبلی کی وصول فرماتے رہے، سابق اسپیکر ایاز صادق بھی جانے کیوں ان معززین سے چشم پوشی فرماتے رہے ورنہ تو ان کی پارٹی کے تمام ممبران نااہل قرار دیے جانے چاہیے تھے۔

ہمیں تو ایسے قلم کاروں پر تعجب ہوتا ہے کہ کسی کو پسند کریں تو ان کی گالیوںکو بھی عمل خیر قرار دے دیں اور مخالف ہوں اس کے ہر عمل میں کیڑے نکال دیں۔ جو بات سامنے کی ہے وہ سب جانتے ہیں کہ وزیر اعظم کے دورہ امریکا میں ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا؟ ان کو کس حد تک اہمیت دی گئی؟

امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا ذکر کیا تو وہ الٹا متنازعہ ہوکر دنیا کے سامنے آیا۔ صدر ٹرمپ کی تمام تر گفتگو اور رویے کا بغور مطالعہ کیا جائے تو وہ اب بھی ہمیں ڈھکی چھپی دھمکی ہی دے رہے ہیں کیونکہ وہ افغانستان سے کسی صورت باعزت نکل جائیں جس طرح یہاں آنے کے لیے امریکا نے پاکستان کو استعمال کیا تھا اسی طرح وہ جانے کے لیے بھی ہمیں ہی قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں اور دنیا کو یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم بڑی عزت و شان سے اپنے مقاصد حاصل کرکے، اپنی شرائط، مرضی و خوشی سے اب تشریف لے جا رہے ہیں۔ وہ رہیں یا جائیں یہ تو کبھی نہ مانیں گے کہ ہمارا کتنا جانی و مالی نقصان ہوا۔ وہ تو اپنے جانے کتنے فوجی سرزمین افغانستان پر گنوا کر ہزاروں میل دور اپنے دیس سدھار جائیں گے مگر پاکستان و افغانستان تو ایک دوسرے کی قربت میں ہمیشہ رہیں گے۔

حضور والا کے تشریف لانے کا اثر ہم پاکستانیوں پر ہی پڑا تھا بلکہ ایسا پڑا کہ ہزاروں جانوں کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی، معاشرتی اور سیاسی و مذہبی صورتحال کو اب تک بحال نہ کرسکے، بلکہ ہمارا معاشرہ شاید ہمیشہ کے لیے انتہا پسندی کے عذاب میں مبتلا ہو چکا ہے۔ وہ روایات، وہ اقدار، وہ تہذیب اب پرانی کتابوں اور اخبارات کی فائلوں ہی میں محفوظ رہ گئیں۔ اب تو اس صورتحال کی کھوج لگانے میں دلچسپی لینے والے افراد بھی ہمارے پاس کہاں ہیں جو اپنے ماضی کی روایات و اقدار سے آگاہی کے لیے کتابوں یا اخبارات کی فائل سے استفادہ کریں اب تو ماضی سے کچھ سیکھنے والی نسل ہی عنقا ہو چکی ہے۔ وہ دور جب حضور عالی وقار ہمارے پڑوس میں تشریف لائے تھے۔

اس سے قبل کا صاف ستھرا، غیر متعصب، بے فکری کا دور تو اب خواب سا لگتا ہے جی چاہتا ہے کہ جیسا مطمئن و محفوظ بچپن اور پرمسرت و خوشگوار شباب ہماری آل اولاد کو بھی میسر آ جائے مگر افسوس ہماری نئی قیادت نے تو بہت ہی مختصر عرصے میں آنکھوں میں بسے خواب چکنا چور کر دیے مگر لوگ اب بھی خوش فہمی کا شکار ہیں۔ جب موصوف واپس جائیں گے تو بھی کچھ ایسے جھاڑ جھنکاڑ چھوڑ جائیں گے کہ دامن ان سے الجھا رہے، اتنی قربانیاں دے کر پورا ماحول پلٹ کر بھی کیا ہم اچھے پڑوسیوں کی طرح رہ پائیں گے؟

پلوں کے نیچے سے جو پانی بہہ گیا وہ اپنے ساتھ کیا کیا بہا کر لے گیا، کیا اس نقصان عظیم کا کسی کو احساس ہے؟ کسی کو تکلیف یا انسانیت کے کھو جانے کا درد محسوس ہوتا ہے؟ وہ تو آئے تھے اب جانا چاہتے ہیں گویا بچوں کا کھیل تھا کہ کچھ کے چوٹیں آئیں، کچھ کے کپڑے پھٹے اور کچھ کپڑے جھاڑ کر تازہ دم ہو کر پھر سے ڈٹ گئے۔ مگر اس کھیل میں ہم نے کیا کیا داؤ پر لگا دیا، کیا اس کی تلافی ممکن ہے؟

اس دورہ امریکا کی کامیابی کا (جانے کس پہلو سے) جشن منانے کے لیے جو ڈھول بجائے جا رہے ہیں ذرا ان کی آواز پر غور تو کیجیے جانے کتنی چیخیں، آہیں، سسکیاں اور ہچکیاں سنائی دیں گی۔ ضرورت صرف دل گداز کی ہے، احساس زیاں کی ہے، انسانیت کی ہے۔ ذرا بغور پورے دورے کا پھر سے تجزیہ کیجیے کیا ایک آزاد و خودمختار ملک کے سربراہ والا معاملہ نظر آتا ہے؟ جس کو بذریعہ بس جہاز سے ایمیگریشن لاؤنج تک لایا جائے، کیا بینظیر کی طرح 21 توپوں کی سلامی دی گئی؟ البتہ آرمی چیف کو زیادہ اہمیت ملی (تفصیلات ذرایع ابلاغ پر موجود ہیں) اس فرق سے کیا ثابت کرنا ہے؟ کیا یہ پاکستان کی سبکی کا باعث نہیں؟ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو بھارتی وزیر اعظم نے تو تسلیم بھی نہ کیا جب کہ صدر امریکا نے ان کی خواہش بھی قرار دیا۔

کیا یہ پیشکش بچے کو بہلانے کے لیے لولی پاپ تو نہیں؟ ہمارے اور امریکا بہادر کے تعلقات میں جو مد و جزر آتے رہے ہیں وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں (سقوط ڈھاکہ تک ہم ان کے ساتویں بیڑے اور امداد کے منتظر ہی رہے) ان تمام ادوار میں ہم نے کیا کچھ نہیں کھویا اور کیا پایا؟ لہٰذا بغلیں اور شادیانے بجانے کے بجائے ذرا سی سنجیدگی۔۔۔ابھی تو کچھ ہوا ہی نہیں اور یوں شور مچایا جا رہا ہے کہ سوائے کشمیر ہماری گود میں گرنے کے الٹا کوئی نقصان ہی نہ ہو جائے۔

عالمی سطح پر جانے کون سی (آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے مشروط امداد یا ورلڈ بینک و دیگر عالمی اداروں کا ہمارے ساتھ رویہ) ’’مثبت و موثر کامیابیاں حاصل کرکے پاکستان کا سربلند کیا گیا ہے۔‘‘ عقل مند، دانشور، جرأت مند اور اب فاتح امریکا کے دورہ پرشکوہ میں دو اساتذہ کی عزت افزائی تو ہتھکڑیاں لگ کر ہوچکی اب مزید اور کیا چاہتے ہیں (تنخواہوں اور دیگر مطالبات پر احتجاج کرتے اساتذہ پر لاٹھی چارج اور تشدد تو روز کا معمول ہے) صحافیوں، ادیبوں و شاعروں، سیاسی اور طلبا رہنماؤں کو قید و کوڑے تو ایک آمر کے دور میں لگے تھے، مگر کسی استاد کے ہاتھوں سے مر کر بھی ہتھکڑی جمہوری دور میں نہ کھلی، معاشرے کے معزز (دولت و ثروت نہیں بلکہ معاشرتی خدمات کے حوالے سے) ہر ظلم و زیادتی، ان کو رسوا و ذلیل کرنا معاشرے کے انحطاط کا نہیں تباہی کا اشارہ ہے۔ رہ گئی عالمی سطح پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کی بات تو جو کوشش کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے کا سہرا سر بندھوانے کی ہو رہی ہے جو کچھ دورہ امریکا میں طے پایا ہوگا وہ کشمیرکی بلی جلد ہی تھیلے سے باہر آ جائے گی۔





Source link