20

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد شہادت کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں سنانے کا حکم


بابری مسجد کو 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے شہید کردیا تھا۔ فوٹو : فائل

بابری مسجد کو 1992 میں ہندو انتہا پسندوں نے شہید کردیا تھا۔ فوٹو : فائل

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کورٹ کو تاریخی بابری مسجد کی شہادت کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے 9 ماہ کا حتمی وقت دے دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد شہادت اور رام مندر کے قیام کے تنازع پر فیصلہ سنانے کے لیے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کورٹ کو دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے ججز آر ایف نریمان اور سوریا کانت نے سی بی آئی کورٹ کو بابری مسجد شہادت کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 9 ماہ میں کیس کا فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے اتر پردیش کو سی بی آئی کورٹ کو تمام تر سہولیات درکار کرنے اور کیس کا ٹرائل کرنے والے جج کمار یادیو کی مدت ملازمت میں اضافے کا حکم بھی دیا جنہیں رواں برس 30 ستمبر کو ریٹائرڈ ہونا تھا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے اپریل 2017 میں سی بی آئی کورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے 2 سال کے اندر کیس کا فیصلہ سنانے اور بی جے پی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت کئی ہندو رہنماؤں کیخلاف فوجداری مقدمات بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران دو ججز جہان فانی سے کوچ کرگئے جس کے بعد کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے مزید 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی جو اس ماہ ختم ہوگئی اور اب سی بی آئی کورٹ کی درخواست پر مزید 9 ماہ کا وقت دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں ایودھیا میں تاریخی مسجد کو رام مندر کی جائے پیدائش قرار دیتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کرکے عارضی رام مندر تعمیر کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ میں کیس درج کیا گیا اور فیصلہ آنے تک مندر کی مزید تعمیر کو روک دیا گیا تھا۔

 





Source link