30

’’اسرائیل نہایت پُرامن ریاست تھی‘‘


یہ سارا جنجال مستقبل کے انسان کے لیے پالا گیا ہے، تاکہ وہ تباہ ہوجانے والی دنیا کے بارے میں حقائق جان سکے۔ فوٹو: فائل

یہ سارا جنجال مستقبل کے انسان کے لیے پالا گیا ہے، تاکہ وہ تباہ ہوجانے والی دنیا کے بارے میں حقائق جان سکے۔ فوٹو: فائل

 ہتھیاروں سے بھری، بموں کے نشانے پر کھڑی اور ماحول کی تباہی کے خطرے پر دھری دنیا ایک طرف جس شاخ پر بیٹھی ہے اُسے کاٹ رہی ہے دوسری طرف خلاء میں اپنے ٹھکانے کے لیے نئی ’’شاخیں‘‘ تلاش کررہی ہے۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ انسانی حرکتیں کرۂ ارض کو برباد کردیں گی، دوسرے سیاروں پر بستیاں آباد کرنے کی فکر کی جارہی ہے۔

اسی اندیشے کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل نے ’’برشیت‘‘ نامی ایک خلائی جہاز چاند کی جانب بھیجا ہے، جس میں موجود ٹائم کیپسول میں ڈی وی ڈی جسامت کی ایک ڈسک میں انسانی مشترکہ علم و حکمت کے علاوہ دیگر بہت سی معلومات موجود ہیں۔

اس ’قمری کتب خانے‘ کی تیارکنندہ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ ڈیجیٹل لائبریری اگلے 6 ارب سال تک برقرار رہے گی اور یوں لکھی ہوئی کتابوں سے اس کی عمر کہیں زیادہ ہے۔ اس کمپنی کے سربراہ نووا اسپائی ویک کا کہنا ہے کہ انسان کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور اس ضمن میں ماضی کی تاریخ ایک بہترین شے ہے جسے اس ڈیجیٹل ڈسک میں شامل کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس ڈسک میں نغمے، بچوں کی ڈرائنگ اور اسرائیلی تاریخ بھی رکھی گئی ہے۔ وکی پیڈیا انگلش کا پورا متن، لاکھوں کتابیں، درسی کتب اور 5 ہزار زبانوں میں مضامین بھی سموئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ارب سے زائد ایسے مضامین بھی ہیں جو مختلف زبانوں میں ہیں اور ان میں علم و حکمت، تاریخ اور تہذیب کی روداد موجود ہے۔

ظاہر ہے یہ سارا جنجال مستقبل کے انسان کے لیے پالا گیا ہے، تاکہ وہ تباہ ہوجانے والی دنیا کے بارے میں حقائق جان سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کُتب خانے میں ایسا مواد موجود ہے جس میں خود اسرائیل کی حقیقت بیان کی گئی ہو؟ جھوٹے دعوؤں پر استوار صہیونیت اور صہیونی ریاست سے سچ کی اُمید کسے ہوسکتی ہے۔ تو صاحب! اگر خدانہ خواستہ زمین پر اتنی تباہی پھیلے کہ تمام تر تاریخی آثار اور تحریروں کا خاتمہ ہوجائے تو ہزاروں سال بعد کا انسان اسرائیل کی چاند پر بھیجی گئی تاریخ سے اسرائیل کے بارے میں جو کچھ جانے گا وہ یوں ہوگا:

’’اسرائیل ایک نہایت پُرامن ریاست تھی، جس کے باسی جسم کا خون چوستے مچھر کو مارنے سے پہلے اُس سے ہاتھ جوڑ کر معذرت کیا کرتے تھے اور مارنے کے بعد اس کے غم میں دیوارِ گریہ پر جاکر آہ وزاری کیا کرتے تھے۔ مگر کیا کرتے ان کو فلسطینی نامی ایک دہشت گرد قوم کا سامنا تھا، جو پتھروں سے حملے کرکے اسرائیلیوں کو ڈرایا دھمکایا کرتی تھی۔ ان پتھروں سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کو صرف اپنے دفاع کی خاطر بم بنانا پڑے، ہتھیار تیار کرنا پڑے، اور حملے کرنا اس کی مجبوری ٹھہرا۔ فلسطینیوں کی غلیلیں گرانے کے لیے اسرائیل کو ان پر بم باری کرنا پڑتی تھی، جس پر کبھی کبھی اقوام متحدہ اُسے ۔۔۔’گندی بات، آپ تو اچھے بچے ہیں ناں، اب نہیں کیجیے گا‘ کہہ کر جانب داری اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈانٹ دیا کرتی تھی۔

وہ تو ہمارے جیسا ایک امن پسند ملک امریکا اور یورپ کے چھوٹے چھوٹے ملک ہمارا ساتھ دیتے تھے ورنہ یہ ظالم فلسطینی تو پتھر مار مار کر ہمیں پتھر کے دور میں لے جاتے۔ جب فلسطینیوں کے ہاتھوں ہماری ایک آدھ قیمتی جان ضائع ہوجاتی اور جواب میں ہم درجنوں سیکڑوں فلسطینیوں پر اپنے بم، میزائل اور گولیاں ضائع کرکے انھیں معمولی سا زخمی کرنے کی کوشش کرتے اور اس کوشش کے دوران اپنی ہی کسی غلطی کے باعث وہ مارے جاتے تو دنیا کے دیگر طاقت ور ممالک خوامخواہ ہم سے ناراض ہوجاتے اور ہم سے کہتے ’شریر کہیں کے، بس بہت کھیل لیے اب گھر جاؤ‘ مجبوراً ہمیں باقی فلسطینیوں کو چھوڑ کر لوٹنا پڑتا۔ رہے مسلم ممالک تو وہ بھی مذہب کی بنیاد پر جفاکار فلسطینیوں کا ساتھ دیتے تھے، کبھی کبھی اُن کے لیے امداد بھیج کر، کبھی کبھار ان کے حق میں بیان دے کر اور تقریریں کرکے۔

تو اے مستقبل کے انسانو! تمھیں پتا چلا ہم اسرائیلی کتنے مشکل حالات میں رہے۔‘‘

اسرائیل کو تاریخ بچانے سے زیادہ اپنے ہاتھوں مسخ شدہ تاریخ ٹھیک کرنے پر توجہ دینی چاہیے، جس کا آغاز اس اعتراف سے ہوگا کہ جس سرزمین پر اسرائیل نامی اَڈا قائم کیا گیا وہ فلسطینیوں کی ہے، اس ابتدائی اعتراف کے بعد تاریخ کے ساتھ جغرافیہ بھی ٹھیک ہوجائے گا، اس تصحیح کے ہوتے ہی پورے کا پورا ’’اسرائیل‘‘ برطانیہ پہنچ کر کہے ’’ماں! میں آگیا، ماں مجھ کو جھلاؤ نہ جھولا رے ۔۔۔۔مجھے خود سے دور کیوں پالا ماں، اپنی اولاد سے ایسا بھی کوئی کرتا ہے۔ بے بے اب میں آپ کی گود ہی میں رہوں گا مجھے کہیں نہیں جانا‘‘ یا امریکا جاکر فریاد کرے’’اباجی! مجھے اپنے قدموں میں جگہ دیجیے، خود سے اتنا دور نہ رکھیے، نیویارک ہی میں اسرائیل بنادیجیے، اگرچہ میں برطانیہ کا پاپ ہوں مگر اب آپ کو باپ سمجھتا ہوں۔‘‘ ہمیں یقین ہے کہ برطانیہ اور امریکا اپنی ناجائز اولاد اور لے پالک بچے کو مایوس نہیں کریں گے۔





Source link