11

صدر ٹرمپ کیخلاف تحقیقات بے بنیاد اور غیرقانونی ہیں، وائٹ ہاؤس


وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی میں تعاون سے انکار کردیا فوٹو:فائل

وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی میں تعاون سے انکار کردیا فوٹو:فائل

 واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات میں تعاون سے انکار کردیا۔

امریکی ایوان صدر نے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے رہنماؤں کو ارسال کردہ خط میں ٹرمپ کیخلاف تحقیقات کو بےبنیاد اور آئینی طور پر غیرقانونی قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس نے نینسی پلوسی اور کمیٹیوں کے سربراہان کو خط میں کہا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف یہ تحقیقات انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کروانے کے لیے یوکرائن کی حکومت پر دباؤ ڈالا۔ کانگریس کی تین کمیٹیاں صدر ٹرمپ کے خلاف اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہیں جن کے سربراہان ڈیموکریٹ پارٹی کے ہیں جبکہ ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی بھی ڈیموکریٹ ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی سفیر برائے یورپی یونین گورڈن سونڈ لینڈ کو یوکرائنی صدر کو فون کے معاملے پر کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے بھی روک دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے  کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کو کینگرو کورٹ (جعلی عدالت) قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر 25  جولائی کو یوکرائنی صدر کو فون کرکے کہا کہ وہ آئندہ الیکشن میں ڈیموکریٹس کے مرکزی امیدوار اور سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں۔ اسپیکر نینسی پلوسی نے اس معاملے پر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کردی ہے۔





Source link