13

اقوامِ متحدہ کا مالی بحران سنگین، رکن ممالک نے رقم جمع نہیں کروائی


اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گیوٹریس نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اگلے ماہ عملے کی تنخواہیں دینے کے لیے بھی فنڈز نہ رہیں گے۔ فوٹو: فائل

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گیوٹریس نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اگلے ماہ عملے کی تنخواہیں دینے کے لیے بھی فنڈز نہ رہیں گے۔ فوٹو: فائل

 نیویارک: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیوٹریس نے خبردار کیا ہے کہ عالمی ادارہ شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اگر رکن ممالک نے اپنے واجبات ادا نہیں کئے تو اقوامِ متحدہ کے عملے کے لیے نومبر کی تنخواہ کے انتظامات مشکل ہوجائیں گے۔

اقوام متحدہ کے تحت مالی معاملات دیکھنے والی ففتھ کمیٹی کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ادارے کے مالی حالات اتنے تنگ ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس اس سال کی ابتدا میں ہنگامی بنیادوں پر کیگئی بجٹ کٹوتی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔

’ ادارہ اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے،‘ منگل کے روز اینتونیو گیوٹریس نے بتایا۔

’اس وقت پروگراموں کی منصوبہ بندی کے لیے بجٹ نہیں رہا۔ امن فوج کے لیے بھی رقم ختم ہوچکی ہے اور نومبر میں عملے کی تنخواہ چلانے کے لیے بھی رقم موجود نہیں ہوگی۔‘ انہوں نے کہا۔

اس موقع پر انہوں نے تمام ایسے ممالک سے واجبات کی فوری ادائیگی کی درخواست بھی کی جنہوں نے 2019 میں اپنے حصے کی رقم نہیں دی ہے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے تمام اخراجات رکن ممالک کی رقم اور عطیات سے ہی چلائے جاتے ہیں۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی بجٹ میں کٹوتی کی باعث ہی ممکن ہوسکا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے کل اسٹاف (سیکریٹیریٹ) کی تعداد 30 ہزار ہے اور اب بھی ادارے کو 230 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ غیرضروری سفر اور ملاقاتوں کو بھی ختم کردیا گیا ہے تاکہ رقم بچائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 3 اکتوبر تک 193 رکن ممالک میں سے 128 نے اپنے سال 2019 کے تمام واجبات ادا کردیئے تھے جبکہ کئی ممالک نے اب بھی رقم جمع نہیں کرائی ہے۔

2018 اور 2019 میں امن فوج کو ہٹانے کے بعد اقوامِ متحدہ کا کل بجٹ 5 ارب 40 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ تھا۔





Source link