25

چار سال میں تمباکو کا زیر کاشت رقبہ نصف رہ گیا ، تاجر رہنما –


اسلام آباد : چیمبر آف کامرس اسلام آباد کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ گونا گوں ٹیکسوں اور دیگر مسائل کی وجہ سے گزشتہ چار سال میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں تمباکو کا زیر کاشت رقبہ نصف رہ گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے تاجر رہنماؤں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو دہشت گردی سے متاثرہ اس پسماندہ صوبہ کی صنعت و زراعت کو نقصان پہنچے گا اور ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔

شاہد رشید بٹ نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ تمباکو کی فضل پر بار بارٹیکس عائد کرنے سے یہ شعبہ زوال پزیر ہو سکتا ہے ، جس سے محاصل متاثر ہوں گے،خیبر پختونخواہ میں پہلے ہی چار سو صنعتیں بند پڑی ہیں جنکی تعداد میں اضافہ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے کبھی بھی زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا مگرچھیالیس ہزار ہیکٹر پر اگائی جانے والے تمباکو کی فصل پر مختلف ٹیکس لگانا ایک معمول بن چکا ہے جو امتیازی سلوک ہے۔

اٹھارویں ترمیم سے قبل اس پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی عائد تھی جبکہ ترمیم کے بعد اس پر صوبائی حکومت نے ٹوبیکو سیس عائد کر دیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں کاشتکاروں سے قرض پر چھتیس فیصد سود لیں نہ ان سے اونے پونے فصل خریدیں جبکہ پاکستان ٹوبیکو بورڈ کو بھی کاشتکاروں کا استحصال نہ کرے۔

Comments

comments





Source link