38

اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن، وزیراعظم نے بھی جوابات دیے | پاکستان


اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر جیو نیوز کی تاریخی خصوصی ٹرانسمیشن میں وزیراعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم نے دو گھنٹے تک عوام اور تاجروں کے سوالات کے جواب دیے۔ وزیراعظم نے پہلی بار براہِ راست سوالات کے جوابات دے کر نئی تاریخ بھی رقم کی ۔

ذیل میں اس پروگرام میں ہونے والے سوال اور ان کے جوابات کی تفصیل پیش کی جارہی ہے۔

سوال حامد میر: اسکیم کے حوالے سے بنیادی مسئلہ اعتماد کی کمی کا ہے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ فرض کریں اگر اعتماد کر کے اثاثہ ظاہر کر دیتے ہیں تو کیا آپ ہمیں یہ ضمانت دیتے ہیں کہ پھر ہمارے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی؟

جواب عمران خان: میں سب سے پہلے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ،ہر ملک کا ایک وقت آجاتا ہے جو انگریزی کا لفظ ہے ‘کراس روڈ ز’ یعنی آپ جس راستے پر لگے ہوئے ہیں اس پر اب جا نہیں سکتے یا آپ ایک تباہی کے راستے پر جائیں گے یا اپنے آپ کو تبدیل کر کے اپنے آپ کو کھڑا کرسکتے ہیں ، قوموں کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ پہلے ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں ، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے جتنے دس سالوں میں قرضے لیے ہیں ہمارا آدھا ٹیکس جو اکٹھا کرتے ہیں وہ قرضوں کے سود ادا کرنے پر چلا جاتا ہے ، باقی جو بچتا ہے اس میں تو ملک نہیں چل سکتا ۔

ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ ہم اپنا ذہن تبدیل کریں گے ، ایک مہذب معاشرے کیلئے سارے حصہ ڈالیں گے یعنی ٹیکس دیں گے یا پھر ہم مزید قرضوں کی دلدل میں پھنستے جائیں گے ۔ بڑی قو میں اس طرح تباہی کی طرف گئی ہیں ۔ جہاں آج ہم کھڑے ہیں ہمیں اپنے آپ کو بدلنا پڑے گا ،پاکستان کو وہ ملک بنانے کے لئے جو وہ بن سکتا ہے جو بن رہا تھا 60 کی دہائی میں جب میں بڑا ہو رہا تھا تو یہ سب سے تیزی سے اوپر جارہا تھا ۔

دوسری چیز یہ کہ ہم یہاں پہنچے کیوں ہیں ؟ ہم یہاں کرپشن کی وجہ سے پہنچے ہیں ، دوسرا ہم ٹیکس نہیں دیتے ۔ کیوں کہ کرپشن زیادہ ہے لوگ سمجھتے ہیں کہ میں حکومت کو ٹیکس کیوں دوں میرا پیسہ تو مجھ پر لگے گا ہی نہیں ۔ لوگ پہلے تو وہ کہتے ہیں کہ ٹیکس ہمارا چوری ہوجائے گا پھر اگر ٹیکس چوری نہ بھی ہو تو ہم پر نہیں خرچ ہوگا ۔ میں آج اپنی قوم کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انشا اللہ ہم آپ کا ٹیکس آپ پر خرچ کریں گے ،ہم اپنے خرچے کم کر رہے ہیں کبھی حکومت نے اتنے خرچے کم نہیں کیے جو ہم کر رہے ہیں ، وزیراعظم ہاؤس کا ہم نے 30 سے 35 فیصد خرچہ کم کر دیا ہے ، ہم سارے وزیروں نے 10 فیصد تنخواہوں پر کم کیا ہے، پہلی دفعہ یہ دیکھتے ہوئے پاکستانی فوج نے اپنے خرچے کم کیے ہیں خرچہ کا مطلب جو ان کو مہنگائی کی وجہ سے اضافہ لینا تھا وہ نہیں لیا ۔

میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا ٹیکس آپ پر لگے گا ۔ دوسرا جو آپ نے اعتماد کی کمی کی بات کی کہ لوگ کہتے ہیں ایک دفعہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں تو ہمیں پھر ادارے تنگ کریں گے ، ایف بی آر تنگ کرے گی ۔ دو چیزیں ہیں ایک میں نے اپنی ٹیم کو کہا بھی ہوا ہے کہ ایک اسپیشل ہیلپ لائن دیں کہ کوئی بھی کسی کو تنگ کرے ادھر اس پر کال کریں ۔ دوسرا میرا اپنا جو پورٹل ہے جو ہمارے وزیراعظم ہاؤس میں جس میں کوئی بھی شکایت کرسکتا ہے اس کے اندر بھی اسپیشل سیکشن بنا دیں گے اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہو تو مجھے کال کرسکتا ہے ہم انشا اللہ آپ کو کسی ادارے کو تنگ نہیں کرنے دیں گے۔

سوال حامد میر: آپ نے شبر زیدی کو لانے سے پہلے کہا تھا ایف بی آر پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر ایف بی آر نے صحیح کام نہ کیا تو ہم نیا ایف بی آر بنائیں گے تو ایف بی آر کے حوالے سے جو ریفارمز ہیں وہ کون سی ہو رہی ہیں اور خاص طور پر آج جو ڈیمانڈ سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ جو ایسٹ ڈکلیئریشن اسکیم ہے اس کو بھی بہت سادہ ہونا چاہیے اور جو ٹیکس ریٹرنز لوگ فائل کرتے ہیں وہ سسٹم بھی بڑا سادہ ہونا چاہیے اس کیلئے آپ نے کیا ہدایات دی ہیں؟

جواب عمران خان: دیکھیں اس کی تفصیلات تو شبر زیدی بتائیں گے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اگر پیسے اکٹھے نہیں کریں گے ، میں پھر سے کہہ رہا ہوں ملک نہیں چل سکتا ، میں اپنی قوم کو کہنا چاہتاہوں کہ ہم ایف بی آر میں ہر قسم کے ریفامز کریں گے اس کا اصل میں طریقہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی لے آئیں گے یعنی جو ٹیکس دینے والا ہے اور اس کے بیچ میں اور گورنمنٹ کے بیچ میں ٹیکنالوجی آجائے گی ۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میری بات ہوئی ہے شبر زیدی سے ہم کوشش کریں گے کہ ایف بی آر کی پوری طرح ہر سطح پر ریفارم کریں لیکن جہاں ریفارم نہیں ہو گی ہم ہر سطح پر جائیں گے یعنی اگر ہمیں متوازی سسٹم بنانا پڑا ادھر بھی جائیں گے یہ اس لیے ہے کہ ہمارے پاس اب دوسرا راستہ نہیں ہے اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو یہ مزید قرضے بڑھتے جائیں گے۔

سوال حامد میر: ابھی ہمیں پتہ چلا ہے حماد اظہر نے بتایا ہے کہ کوئی ایک لاکھ سے زیادہ جو این ایف فارن بینک اکاؤنٹس کا پتہ چلا ہے جو کہ آف شور اکاؤنٹس ہیں اس قسم کی انفارمیشن آپ کے پاس بہت سے لوگوں کے بارے میں آگئی ہے تو وہ لوگ اگر اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو 30 جون کے بعد پھر کیا حکومت کے پاس ایسے وسائل ہیں کہ پاکستان سے باہر جن لوگوں نے اس طرح سے آف شور اکاؤنٹس بنائے ہوئے ہیں آپ کے پاس انفارمیشن ہے تو پھر آپ کیا کریں گے؟

جواب عمران خان: میں اسپیشل اپیل کرنا چاہتا ہوں پاکستانیوں کو جو یہاں بھی ہیں باہر بھی ہیں کہ ملک چلتا ہے جب قوم اور حکومت اکٹھی ہوجاتی ہے ، میں نے جو زلزلہ تھا اس میں اپنی قوم کو دیکھا ہے اور پھر جب سیلاب آیا میں نے دیکھا ہے جس طرح سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور پاکستان کے اندر سب نے مل کر پاکستان کو اس مشکل وقت سے نکالا ۔ جہاں آج ہم ہیں قوم اور گورنمنٹ مل کر یہ کرسکتی ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ یہ سارے اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ۔ مجھے کئی پیغامات آئے کہ ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے تاریخ بڑھا دیں اگر آپ کے پاس ٹائم نہیں ہے تو آپ ابھی خود کو رجسٹرڈ کرلیں اور کہیں کہ بعد میں قسطوں میں دے دوں گا ۔ ہم ہر طریقے سے آپ کے لئے آسانی پیدا کریں گے ۔

سوال حامد میر: آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ فائنل ہے 30 جون کے بعد اس اسکیم میں کوئی توسیع نہیں ہوگی؟

جواب عمران خان: وہ ہم کر نہیں سکتے 30 جون کے بعد توسیع کی اور پھر اگر یہ بھی لوگوں کو ہوا کہ ایک اور اسکیم مل جائے گی ایک اور اسکیم نہیں ملنے لگی اور آپ نے اس سے پہلے بات کی کہ ہمارے پاس جو انفارمیشن ہے آج جو پاکستان گورنمنٹ کے پاس انفارمیشن ہے وہ کبھی بھی کسی گورنمنٹ کے پاس پہلے نہیں تھی ۔ اس کی وجہ ہے کہ ایک باہر سے انفارمیشن آرہی ہے کیوں کہ ہم نے ایم او یو سائن کیے ہوئے ہیں ملکوں سے جو انفارمیشن دے رہے ہیں۔

منی لانڈرنگ کا مطلب یہ کہ اگر کسی کا پیسہ باہر پڑا ہے اور وہ یہ بتا نہیں سکتا کہ سورس آف انکم کیا ہے ، کیا جائز طریقے سے پیسہ کمایا ہے نہیں تو وہ منی لانڈرنگ کے اندر آجائے گا پھر قوانین ایسے ہیں کہ اب وہ پاکستان کو انفارمیشن دیں گے اور پاکستان پیسہ واپس منگوا سکتا ہے ۔ دوسری چیز بے نامی ،،کبھی پاکستان میں بے نامی قوانین نہیں تھے ، اب بے نامی قانون ہے ، مطلب یہ کہ کسی نے اپنے نوکر کے نام یا کسی کے نام پر جائیداد کروائی ہوئی ہے اور اگر نوکر یہ نہیں بتا سکتا کہ کہاں سے میرے پاس وسائل آئے ہیں اربوں روپے کی جائیداد جس طرح ہمیں پتہ ہے کہ ایک سیاستدان نے پانچ گھر اپنے نوکر کے نام پر لیے ہوئے ہیں دبئی میں اگر یہ نہیں بتا سکتے تو وہ ضبط ہوجائے گی ، سزا بھی ہوگی اور پراپرٹی بھی گورنمنٹ کی ہوجائے گی یہ کبھی پہلے پاکستان کے پاس قوانین نہیں تھے۔

سوال حامد میر: بہت سے لوگ پاکستان سے ٹی ٹی کے ذریعے رقم باہر بھیجتے ہیں اور وہاں پر وہ اثاثے بھی خرید لیتے ہیں تو اب آپ کی اسکیم کو ختم ہونے میں پانچ چھ دن باقی ہیں تو وہ جو ٹی ٹی والے لوگ ہیں جنہوں نے ٹی ٹی سے رقم باہر بھیجی ہوئی ہے تو وہ بھی کیا اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اگر وہ فائدہ اٹھانے کا اعلان کردیں اور اپنا سب کچھ ڈکلیئر کردیں تو نیب تو ان کو تنگ نہیں کرے گا؟

جواب عمران خان: سب کو سمجھ جانا چاہیے کہ منی لانڈرنگ نے کیا کیا ہے پاکستان کے ساتھ ، منی لانڈرنگ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ یہاں سے پیسہ چوری کرتے ہیں اور اس کے بعد پھر آپ ہنڈی اور حوالے سے باہر بھیجوادیتے ہیں ، ایک قانون پاس ہوا تھا 1992 ء میں اکنامک ریفارم ایکٹ ، ادھر سے ترسیلات کے نام پر پیسے پاکستان واپس منگوالیتے ہیں ، اب یہ ایک پیٹرن بنا ہوا ہے اس کے اندر حدیبیہ پیپر مل بھی یہی تھا، ہل میٹل بھی یہی اور جو جعلی اکاؤنٹس کا کیس ہے جو ابھی اومنی گروپ یہ بھی وہی چیز ہے ۔ یہ بنیادی طور پر کرتے کیا ہیں جب پیسہ چوری کرتے ہیں تو اگر پاکستان میں رکھتے ہیں تو لوگوں کو پتہ چل جائے گا لہٰذا اس کو باہر بھجواتے ہیں ، یہ دوگنا نقصان کرتے ہیں ۔ دس ارب ڈالر پاکستان میں سالانہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے جو پیسہ باہر جاتا ہے ملک سے اور چھ ارب کا ہم آئی ایم ایف کا قرضہ لے رہے ہیں تو سوچیں اگر منی لانڈرنگ پر قابو پاجائیں تو آج مسئلہ نہ ہو، جو سیاستدان ہیں اور پبلک آفیس ہولڈر ہیں ان کیلئے یہ اسکیم نہیں ہے۔

سوال خواجہ شہزاد ناصر (لاہور چمبر): میرا سوال وزیراعظم سے یہی ہے کہ ایمنسٹی کے ساتھ کاروباری حالات کو بھی بہتر کیا جائے اس وقت لوگوں کا پیسہ ڈالر کے اوپر جانے سے کم ہوگیا ہے ایسے میں یہ انڈسٹر ی کے لئے بہت مشکل ہوگیا ہے کاروبار چلانا ، بینک کی جو شرح سود ہے اس کو کم کیا جائے ، سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے اور کمرشل بینک بھی اس کو کم سے کم کرے تاکہ وہ بینکوں سے قرضہ لے کر اپنا کاروبار چلائیں اور اس ملک کی ترقی میں ساتھ دیں۔

حامد میر: وزیراعظم صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ کاروباری حالات سخت ہیں ڈالر کا ریٹ اوپر جانے سے ان کا پیسہ کم ہوگیا ہے شرح سود کو کم کیا جائے۔

جواب عمران خان: یہ بات ٹھیک بھی کہتے ہیں کہ جو چھوٹی اور درمیانی انڈسٹری ہے جو ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے ملک کے لئے اس کو کافی نقصان پہنچا ہے ہماری پالیسی سے ماضی میں اب یہ یہاں حفیظ شیخ بیٹھے ہیں ان کو پتہ ہے میری کوشش ہے دو طبقوں کو فائدہ ہو ایک غریب طبقہ اس کے لئے ہم نے پورا یہ جو احساس پروگرام ہے ان حالات میں مشکل حالات میں 90 ارب روپے مزید بڑھایا ہے ۔ دوسرا طبقہ ہے ہماری بزنس انڈسٹری اس کے لئے ہم نے جو مشکل حالات میں کوشش کی ہے حفیظ شیخ آپ کو ایگزیکٹ تفصیل دے دیں گے کہ کس طرح اپنی انڈسٹری کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ ملک میں اگر ہم نے یہ قرضہ واپس کرنا ہے تو پہلے تو ہم ویلتھ جنریٹ کریں گے مثلاً ملک کو انڈسٹرلائز کریں گے تاکہ پیسہ بنے لوگوں کو نوکریاں ملیں گروتھ ریٹ بڑھے اور پھر اس پیسے سے ہم یہ قرضے واپس کریں اور لوگوں کو غربت سے نکالیں ۔ دو طبقوں کو ہم نے پورا فائدہ دینے کی کوشش کی ہے اب جو خواجہ صاحب نے بات کی میں صرف ایک چیز کہنا چاہتا ہوں کہ جب ایک ملک ، ایک گھر مقروض ہوجاتا ہے تو اس سے نکلنے کے لئے تھوڑا مشکل وقت آپ کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، یہ دنیا میں نہیں ہوا کہ ایک ملک مقروض ہوجائے یا آج ہم قرضے لے رہے ہیں قرضوں کی قسطیں ادا کرنے پر اس کو ‘ڈیٹ ٹریپ’ کہتے ہیں اب اس سے نکلنے کے لئے اگر یہ سمجھیں گے کہ سارا ملک تکلیف کے بغیر نکل جائے گا یہ ناممکن ہے ۔ ترکی نے ایک مشکل سال گزارا اس کے بعد ترکی اوپر جاتا رہا کیوں کہ انہوں نے اسٹریکچرل ایڈجسٹمنٹ کی۔ جب آپ اصلاحات کر رہے ہیں بجٹ بیلنس کر رہے ہیں آمدنی بڑھا رہے ہیں خرچے کم کر رہے ہیں تھوڑی دیر مشکل وقت آئے گا لیکن اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ یہ ملک میں جو اللہ نے نعمتیں بخشی ہیں یہ ملک بڑی تیزی سے اوپر جائے گا۔

سوال ہارون فاروق ، کراچی چمبر: بدقسمتی سے یہ جو اس وقت ہمارا فنانس بل آیا ہے اس میں کچھ چند ایسی چیزیں کی گئی ہیں جو کہ اوور نائٹ سمجھا جارہا ہے کہ شاید ایک دن میں پورے کا پورا ماحول 180 ڈگری میں چینج ہوجائے گا ۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ سب رجسٹرڈ ہوں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس میں لیکن ہم اَن رجسٹرڈ کو اوور نائٹ پکڑنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں ہے چاہے وہ ایف بی آر کی کتنی بھی صلاحیت بڑھا لیں یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ کام سارے کا سارا کام انفوسمنٹ ونگ نے کرنا ہے ایف بی آر کی بلڈنگ میں یہ کام نہیں ہوگا۔ اس کو انفورس کرنے کے لئے ہمارا جو مائنڈ سیٹ ہے enforcement لیول پر اس کو چینج کرنے کی ضرورت ہے وہ بھی اوور نائٹ چینج نہیں ہوسکتا ۔ میری صرف یہ درخواست ہے کہ ہمیں جتنی بھی کریکشن کرنی ہے یہ ہمیں بتدریج کرنی پڑیں گی آپ نے اگر سیف لینڈنگ کرنی ہے smooth لینڈنگ کرنی ہے تو وہ descending order میں ہی کریں گے۔

سوال حامد میر: وزیراعظم صاحب ہارون فاروق کہہ رہے ہیں فنانس بل میں ایسی چیزیں ہیں جس سے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ اوور نائٹ کچھ کرنا چاہ رہے ہیں تو اس میں میرا خیال ہے چھاپے مارنے کے اختیارات بھی دیئے جارہے ہیں ایف بی آر والوں کو اس کی وجہ سے وضاحت کر دی تھی حفیظ شیخ نے لیکن کچھ آپ بھی تسلی دے دیں۔

جواب عمران خان: کئی چیزیں اس میں پہلی دفعہ کوشش کی گئی ہے جو پہلے نہیں ہوا ۔ شبر زیدی آپ کے سامنے بیٹھے ہیں ان سے بات کرسکتے ہیں ، یعنی کوشش یہ ہے کہ ہم بزنس اور ہم مل کر یہ کریں ہم نے اتنی بزنس سے consultation کی ہیں ان کو بتایا ہے کہ اس حالات میں پھنسے ہوئے ہیں یہ مجبوریاں ہیں آپ بتائیں کہ آپ کی کیسے مدد کرسکتے ہیں اور آپ ملک کی کیسے مدد کرسکتے ہیں اس کے اندر compromise ہے کئی جگہ ہم نے give in کیا ہے کئی جگہ انہوں نے بتایا ہے مثلاً رئیل اسٹیٹ میں ایشوز آئے کہ اگر آپ فکس ٹیکس کر دیں کئی علاقوں میں تو زیادہ اچھی کلیکشن ہوگی اس میں کرپشن کم ہوگی اس طرح کی چیزیں تو یہ give and take ہو رہا ہے اس میں ہم نے پوری طرح مشاورت کی ہے جو تفصیلات ہیں شبر زیدی ، حفیظ شیخ بتا سکتے ہیں ۔ میں آپ کو ایک چیز کہتا ہوں کہ ہم کوشش کر رہے ہیں، نہ عمران خان کی کوئی بزنس ہے نا اس کی فیکٹری ہیں ، کوئی میرا اس وقت ذاتی مفاد نہیں ہے ، مسئلہ کیا ہوتا ہے ہمارے ملک میں جو 30 سال میں لیڈر شپ آئی تھی وہ خود بزنس میں تھی ان کے خود مفادات تھے ، ان کی اپنی فیکٹریاں تھیں یعنی ان کو فائدہ ہوتا تھا قانون چینج کرنے سے وہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتے تھے میری تو کوئی لابی نہیں ہے نا میرا کوئی رشتہ دار ہے نہ مجھے کسی دوست کی پروا ہے میں صرف اس وقت اپنے ملک کا سوچ رہا ہوں ، اپنے ملک کے لئے جو آپ مجھے کنوینس کریں گے یہ ملک کی بہتری ہے میں آپ کے ساتھ چلوں گا ، میں کوشش کروں آپ کو کنوینس کرنے کے لئے کیوں کہ آج جہاں پاکستان کھڑا ہے ۔ جو بیرون ملک پاکستانی ہیں کبھی ان سے پوچھیں اُن کو کتنی قدر ہے اپنے ملک کی جو ملک سے باہر جاتا ہے اس کو سمجھ آتا ہے کہ اللہ نے کتنا بڑا تحفہ دیا ہے اس ملک میں جو وسائل دیئے ہیں جو معدنیات ، کوئلہ ، تانبا ہمیں اندر آکر پتہ چلا ہے کہ اللہ نے اس ملک کو کیا کیا چیزیں دیں ہیں ۔ اگر تھوڑا سا بھی اپنی پیداواریت بڑھائیں یہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ جائے گا یہ جو مشکل وقت ہے اس سے ہم نے نکلنا ہے اس میں صرف آپ کی ایڈوائز چاہوں گا ابھی بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایڈوائز دے سکتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ ہم بہتر کرسکتے ہیں ان حالات میں میری ٹیم بیٹھی ہوئی ہے سننے کے لئے تیار ہیں۔

سوال حاجی افضل (پشاورسرحد چمبر): عمران خان کی موجودگی کا فائدہ لیتے ہوئے دو معصومانہ سوال ہیں ایک تو یہ ہے کہ آپ کے جو ایم این ایز ہیں جو وزراء ہیں بجائے دس فیصد کے وہ اس قوم کے لئے قربانی دیں اپنی 100 فیصد تنخواہ اگر سرینڈر کردیں ایک سال کے لئے تو بجٹ پر اچھا اثر پڑے گا اور دوسرا جو میرے چھوٹے تاجر ہیں ان کی نمائندگی کرتے ہوئے کہ ہمارے اسٹاکس اس وقت یا انٹریڈ ہیں یا مارکیٹ میں ہمارے پیسے لوگوں کے پاس ہیں اب ہم ان کو جولائی اگست ستمبر میں شاید جو قرضہ ہے مارکیٹ میں ملے یا اسٹاک میرا بعد میں سیل ہو اس کو ہم کیسے ڈکلیئر کریں تاکہ ہم آپ کی اسکیم کو کس طرح کامیاب کریں اس کا مجھے معصومانہ جواب چاہیے۔

جواب عمران خان: یہ اتنے معصومانہ نہیں پر سوال اچھے ہیں ،، پہلی چیز کہ آپ کے پاس اگر آپ کہتے ہیں پیسہ قسطوں میں آئے گا بعد میں آئے گا تو یہ آپ کو وضاحت دیں گے شبر زیدی بھی اور ڈاکٹر حفیظ شیخ ۔۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اس وقت یہ پوزیشن ہے ستمبر اکتوبر تک بتادیں ان کو کہ exactly آپ کے پاس پیسہ کب آئے گا تو وہ اس کی پرویژن کر دیں گے لیکن جو نہیں ہوگا جو پہلی ایمنسٹی اسکیم میں کیا گیا کہ پہلے کیش ڈکلیئر کردیا میرے پاس اتنا پیسہ ہے آگے بھی پیسہ دو نمبری سے کمانا تھا اس کو پہلے ڈکلیئر کر دیا آپ کو بتانا پڑے گا کہ اس تاریخ تک بینک میں پیسہ رکھنا پڑے گا ۔

جہاں تک آپ نے ایم این اے اور ایم پی کی بات کی ہے میں صرف یہ کہوں گا کہ جو ایم این اے اور ایم پی ایز ہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ صحیح طرح سے اپنا کام کریں تو ان کوجو ابھی تنخواہ مل رہی ہے مشکل سے گزارا ہوتا ہے ان میں جو منسٹرز ہیں انہوں نے 10 فےصد اپنی ہم سب نے تنخواہیں کم کی ہیں۔

سوال حامد میر: اب اس میں میرا آخری سوال یہ ہے وزیراعظم صاحب ابھی جو ہم نے ڈسکشن کی ہے پچھلے تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے میں اس میں بہت سے لوگ جو ہیں وہ یہ یقین دہانی حاصل کی انہوں نے حفیظ شیخ صاحب سے اور حماد اظہر صاحب سے کہ وہ اگر اپنے ایسٹ ڈکلیئر کردیں گے اس اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اس میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پا س ایک صرافہ مارکیٹ ہے اس کے پاس تین ٹن سونا ہے ایک صاحب جو ہیں ان کے نام پر 400 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کو یقین دہانی کروادی گئی ہے کہ آپ ڈکلیئر کردیں تو آپ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اب اس میں جو جنرل پبلک ہے وہ آپ سے یہ سننا چاہ رہی ہے جس کا کہ آپ نے تھوڑا سا ذکر بھی کردیا کہ ہم اپنا سب کچھ ڈکلیئر کردیتے ہیں ٹیکس سسٹم میں آجاتے ہیں اور ٹیکس دیناشروع کردیتے ہیں لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ پھر کوئی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے جو ان کے پیسے ہیں وہ ایم این اے ایم پی ایزکے ڈیولپمنٹ فنڈ ز کی طرف نہیں چلے جائیں گے ایسے کاموں میں نہیں چلے جائیں گے جو کہ ماضی کی سیاسی حکومتیں کرتی رہی ہیں؟

جواب عمران خان: حامد دیکھیں میں یہ جو آپ نے آخری سوال پوچھا اس کا میں جواب اس طرح دیتا ہوں دیکھیں میں یہ ایک چیز دہراتا ہوں کہ پاکستان جدھر آج پہنچ گیا ہے اس کے اندر ہمیں عوام کو بھی اپنے آپ کوتبدیل کرنا ہے ہمیں جو گورنمنٹ ہے اور گورنمنٹ کے ادارے ہیں ہمیں بھی تبدیل کرنا ہے ۔ قرآن میں اللہ کہتا ہے کہ میں کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے اس کا مطلب ہم سب کوبدلنا ہے جیسے ہم گورنمنٹ چلاتے آئے ہیں اب تک ہمیں بدلنا ہے میں نے پہلے دن سے کیا کوشش کی ہے ، خود سے شروع کیا ہے ، جو پرائم منسٹر ہاؤس ہے ، جو اتنی بڑی زمین ہے وہاں ایک زبردست اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنارہے ہیں جو کہ ٹیکنیکل یونیورسٹی ہے آرٹیفیشل انٹیلی جنس وغیرہ چین کے ساتھ مل کر، میں اپنے گھر میں رہتا ہوں ، اپنا گھر کا سارا خرچہ خود دیتا ہوں کوئی کیمپ آفس نہیں ہے ، بجلی بل وغیرہ سارے بل میں خود دیتا ہوں اور میری جوتنخواہ ملتی ہے اس میں میرا گھر کا خرچ پورا نہیں ہوتالیکن میں نے خود سے قربانی شروع کی ہے ہم اپنے سے قربانی اپنے وزیروں سے اپنے رہن سہن سے کوئی میں نے دورہ نہیں کیا جس دورے سے میری قوم کوفائدہ نہیں ہے حالانکہ مجھے اور بھی دوروں پر مدعو کیا گیا تھا ، مجھے انگلینڈ میں بھی مدعو کیا ہوا تھا کہ ورلڈکپ بھی دیکھ لیں گے میں نے یہ سوچا کہ میں کوئی یہ پاکستان کا پیسہ خرچ نہیں کروں گا جب تک میری قوم کو فائدہ نہیں ، یہ سوچ میں انشاء اللہ ساری گورنمنٹ میں آہستہ آہستہ نیچے تک لے آؤں گا ۔

دوسری چیز جو ہماری ایف بی آر ہے اس کو بالکل ہم نے بدلنا ہے اس کے اندر ریفارمز لے کے آنی ہے شبر زیدی اور میں نے یہ ذمے داری لی ہے کہ میں نے اور شبر زیدی نے اس کو ٹھیک کرنا ہے ہم دونو ں نے لوگوں کو احساس دلوانا ہے کہ آپ جو ٹیکس دیں گے آپ پر خرچ ہوگا اور ایف بی آر کے اندر ہم نے ریفارمز لانی ہیں جو لوگوں کو خوف ہے ایف بی آر سے وہ ہم نے ختم کرنا ہے ساتھ ساتھ ادارے جو ہیں گورنمنٹ کے جو ہمارے لاء انفورسٹمنٹ کے ایف آئی اے ہے پولیس ہے وغیرہ وغیرہ جوان اداروں کو ہم نے لوگوں کو یہ احساس ہو کہ یہ ہمارے دشمن نہیں ہیں ان کو ہم نے ٹھیک کرنا ہے ساتھ ساتھ یہ ریفارمزچلتی جائے گی یہ ریفارمز پراسیس چلتا جائے گا اور انشاء اللہ میں یہ سمجھتاہوں کہ آپ دیکھیں کہ یہ ادارے بھی ٹھیک ہوں گے ہم بھی چینج ہوں گے اور میں یہ امید رکھتاہوں کہ ہم سب سے زیادہ دنیا میں خیرات دینے والے ملکوں میں سے ایک ہیں لیکن ہم سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں ہم ٹیکس کو بھی ایک قومی فریضہ سمجھیں گے ہم یہ سمجھیں گے کہ ملک کو اٹھانے کے لئے ہم ٹیکس دیتے ہیں۔

سوال حامد میر: تو اس کا مطلب ہے آپ کہہ رہے ہیں کہ اچھا وقت آرہا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے؟

جواب عمران خان: اچھا وقت توحامد میر انشاء اللہ اس ملک میں آنا ہے کیونکہ اس ملک کو اللہ نے خاص یہ واحد ملک تھا جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہم دور چلے گئے اپنے آئیڈیل سے جو مدینہ کی ریاست کے آئیڈیلزتھے وہ انشاء اللہ واپس لے کے آئیں گے پاکستان کو وہ ملک بنائیں گے کہ جدھر ریاست ذمے داری لے گی اپنے کمزورلوگوں کی ، ایک فلاحی ریاست بنائیں گے صرف ہم نے لوگوں کو Convinceکرنا ہے ۔ بیرون ملک پاکستانی بیٹھے ہیں وہ ہمارے سب سے بڑے سپورٹرز ہیں ان کو احساس ہے کہ یہ کتنا قیمتی ملک ہے ، پاکستانی ہمارے ہیں ان کو ہم نے یہ احساس دلوانا ہے کہ جس طرح اب تک ہم سمجھتے تھے کہ ٹیکس دینے کا مطلب ایسی گورنمنٹ کو ٹیکس دینا ہے جو کہ عیاشیوں میں اڑاتی ہے بڑے بڑے محلوں میں ا ن کو یہ احساس دینا ہے کہ انشاء اللہ ان کا ٹیکس عوام پر خرچ کریں گے۔

سوال صلاح الدین خلجی: عمران خان صاحب چاہ رہے ہیں کہ پورے پاکستان کو ٹیکس نیٹ ورک میں لائیں بدقسمتی سے کوئٹہ بلوچستان کو ایران کے ساتھ ٹریڈ میں مشکلات آرہی ہے کہ ہمارا کوئی بینکنگ سسٹم نہیں ہے ہمیں حوالے اور ہنڈی پر مجبور کیاجارہاہے تو ہم کیا کریں کس طرف جائیں ہماری یہاں سے جو گڈز جاتی ہیں پنجاب میں اس کی ڈاکیومنٹ کو وہ مسترد کردیتے ہیں وہ بلوچستا ن کے کاغذات کو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ جی یہ بلوچستان کے ڈاکیومنٹ ہیں مثلاً کہ ایک ویران صوبہ ہے اور اس میں اگر یہ پوزیشن ہے تو کیا کیاجائے ؟

جواب عمران خان: بالکل بات ٹھیک کہہ رہے ہیں دونوں باتیں ٹھیک کی ہیں انہوں نے پہلے تو ادھرآئیں کہ جو لیڈر شپ ہے وہ اپنے سے شروع کرتی ہے اور ہمیں پتا ہے سب انگریزوں میں اور یہ جو مغرب کے اندر تویہ چیزیں بعد میں آئی ہیں لیکن مدینہ کی ریاست میں تو یہ سب سے پہلے آگئی کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا کہ میری بیٹی بھی قانون توڑے تو وہ ذمے دار ہوگی یعنی انہوں نے کہا کہ کوئی قانون سے اوپر نہیں اور پھر حضرت عمر کا جو مشہور واقعہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی پوچھتا ہے کہ کہاں سے آپ نے یہ لباس لیاتو ایک لیڈر جواب دہ ہوتا ہے ، تو آپ بالکل بات ٹھیک کہہ رہے ہیں میں نے اپنی پارٹی کے اندر 2012ء سے ساری سینئر لیڈر شپ کو کہا تھا کہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں میرے سارے اثاثے ڈکلیئرڈ ہیں ، سارا میرا پیسہ پاکستان میں ہے میں نے 25 سال باہر کمائی کی سارا پیسہ بینکنگ چینل سے پاکستان لے کے آیا ہوں ایک ایک پیسہ میرا پاکستان میں ہے اور میں نے ساری اپنی لیڈر شپ کو کہا ہے کہ اپنے اثاثے ڈکلیئر کریں جب آپ اپنے اثاثے ڈکلیئر کردیتے ہیں آپ ٹیکس نہیں پھر چوری کرسکتے ۔ دوسری چیزمیں یہ کہناچاہتاہوں کہ یہ جو انہوں نے کوئٹہ میں بات کی جو بلوچستان میں ایشو ہے یہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اب تک ہمارے قبائلی علاقے کے اندر بھی اوربلوچستان میں جو لوگ بارڈر پر رہتے ہیں وہ ایک قسم کا پرانا ایک traditionبنی ہوئی ہے کہ وہاں سے چیزیں آتی ہیں اسمگلنگ ہوتی ہے اس پر ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کیسے ان کی مدد کریں تاکہ بیروزگار بھی اگر ہم بند کردیتے ہیں سب کچھ تو ان کے پاس تو اور کوئی وہاں روزگار نہیں ہے تو وہ بھی ہم سوچ رہے ہیں ۔ ابھی افغان صدر آرہے ہیں ان کے ساتھ ہم افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بات کررہے ہیں کیوں کہ اگر پاکستان میں اسمگلنگ رہے گی تو ہماری انڈسٹری تو کھڑی نہیں ہوگی اور انڈسٹریلائزیشن کے بغیر نہ تو ہم لوگوں کو غربت سے نکال سکتے ہیں نہ روزگار دے سکتے ہیں کیوں کہ انڈسٹریلائزیشن ہوگی تو روز گار ملے گا۔ میں صرف یہ کہ جو کوئٹہ والے ہمارے دوست ہیں انھوں نے جو باتیں کیں میں ا ن سے بالکل اتفاق کرتا ہوں ہم سوچ رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں سے بھی لوگ بارڈرز سے اسمگلنگ کو ایک تجارت سمجھتے تھے تو اب جو چینج آچکا ہے فاٹا بھی پختونخواہ کا حصہ ہے اور بلوچستان میں استحکام آرہا ہے اس لیے ہم سوچ رہے ہیں کہ ان کے لیے ہم کوئی ایسی اکنامک زون بنائیں کہ دونوں طرف بارڈر کا کوئی ایسا ذریعہ معاش بنائیں تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو لوگوں کو روزگار ملے۔

میں ساروں سے آج اپیل کررہا ہوں، اپیل کیوں کررہا ہوں ایک تو خیر پاکستان کے لیے ہم نے اپنے ملک کو اٹھانا ہے ، ہمارا ملک جس طرح میں نے کہا ہے ایک کرپشن کی وجہ سے پھر ٹیکس کی چوری کی وجہ سے آج ہم یہاں پہنچ گئے ہیں کہ جو ٹیکس کا ہمارا پیسہ اکٹھا ہوا آدھا چلا گیا قرضوں کے سود ادا کرنے میں۔ جو سب سے بری بیماریاں ہیں تین، کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں، یہ تینوں بیماریاں ہوتی ہیں ذہنی دباؤ سے جو آگے دن آئیں گے ہم مجبور ہوں گے کہ لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کریں جو ٹیکس چوری کرے ہم مجبور ہوں گے سزائیں دینے کے لیے ہم اگر آپ کے بے نامی اثاثے ہوئے ہم نے ان کو ضبط کرنا ہے اپنی زندگی آسان کریں یہ کیوں دباؤ میں رہیں سارا وقت آپ کو خوف رہے گا کہ کبھی کوئی آکر دروازے میں کہ یہ دیکھیں آپ کے اثاثے اس لیے اپنی زندگی آسان کریں یہ آپ کے لیے سنہری موقع ہے کہ ہم اس میں سے نکل سکتے ہیں ہم بھی نکل سکتے ہیں اور آپ بھی ایک مشکل وقت سے آگے نکل سکتے ہیں۔

حامد میر: جی بہت بہت شکریہ، حفیظ شیخ وضاحت کردیں بلوچستان والوں کی۔

حفیظ شیخ: میں دوباتیں کہوں گا نمبر ون کے ہماری یہ کوشش ہے کہ بلوچستان کے جو وسائل ہیں وہ سب سے زیادہ شیئر ان کو دیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ ترقیاتی پروگرامز میں بھی ان کو شیئر دیاجائے سب سے زیادہ تناسب، تیسری چیز وہاں اگر بینکنگ سیکٹر کی کچھ کمزوریاں ہیں تو میں ا پنے دوست کو دعوت دوں گا کہ وہ آئیں اس چیز پر میں اسٹیٹ بینک کے گورنر سے بھی ان کی ملاقات کروا سکتا ہوں، اگر نیشنل بینک اور کچھ اور بینکس کو وہاں خصوصی طور پر زیادہ برانچز کھولنے کے لیے کہا جا سکتا ہے تو وہ میں کرنے کے لیے تیارہوں تاکہ ان کی جو کوالٹی ہے اور فنانشل انٹر میڈی ایشن ہے وہ پنجاب اور کسی صوبے سے کم نہ ہو۔





Source link