22

’’ کوئی پوچھے تو کہنا خان آیا تھا۔۔۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان کی قومی اسمبلی میں اچانک انٹری ، بڑی بڑی باتیں کرنے والے اپوزیشن رہنماء خاموش، ویڈیو نے دھوم مچا دی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت آج قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔اگرچہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے یہ اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں نہیں آتے۔تاہم آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم اچانک آئے۔وزیراعظم کی قومی


اسمبلی آمد پر اپوزیشن ارکان حیران ہوئے جبکہ کہ پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے کھڑے ہوکر ڈسک بجائے اور وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔وزیراعظم عمران خان ہاتھ میں تسبیح لیے اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔وزیراعظم عمران خان وفاقی وزیر غلام سرور کی شہباز شریف کی تنقید پر مسکراتے بھی رہے۔ویڈیو دیکھیں :


خیال رہے وزیراعظم عمران خان نے بجٹ پیش ہونے کے بعد روزانہ پارلیمنٹ ہاؤس جانے کا فیصلہ کیا، حکومت اپوزیشن کا ہر جگہ بھرپور تیاری سے جواب دے گی۔وزیراعظم نے پارلیمانی سیاست میں بھی فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔جس کے تحت وزیراعظم عمران خان نے بجٹ پر بحث کے دوران روزانہ پارلیمنٹ ہاؤس میں آنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم بجٹ سیشن کے دوران زیادہ وقت اپنے چیمبرمیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کے سیشن میں بھی باقاعدگی سے شرکت کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان روزانہ 2 سے 3 گھنٹے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود رہیں گے۔ وزیراعظم آج بھی پارلیمنٹ اجلاس میں شریک ہوئے، یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے کے دوران بھی وزیراعظم عمران خان ایوان میں موجود تھے۔موجودہ وفاقی حکومت کے وزیرِ مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کیا تھا۔ ایک طرف جہاں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر بجٹ تقریر کر رہے تھے تو دوسری جانب اپوزیشن رہنما ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھائے نعرے بازی اور شور وغل کرنےمیں مصروف تھے۔ لیکن اپوزیشن کے اس احتجاج کے باوجود ایوان میں موجود وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا ۔اس سارے وقت میں وزیراعظم عمران خان کانوں میں ائیر فون لگا کر بجٹ تقریر سنتے رہے اور وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کو داد دینے کے لیے ڈائس بجاتے رہے یہی نہیںبجٹ تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان مسلسل تسبیح بھی پڑھتے رہے۔ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے پلے کارڈز بھی اُٹھا رکھے تھے جس پر تحریر تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران احتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ہم یہ بجٹ مسترد کرتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما بجٹ تقریر کے دوران شور شرابا کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاجاً بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے بھی رہے۔ اپوزیشن کا احتجاج مزید بڑھا تو حکومتی ارکان بھی اپوزیشن کے سامنے آ گئے اور ہاتھوں کی زنجیر بنا لی۔ جبکہ حماد اظہر شور شرابے اور نعرے بازی کے باوجود ایوان میں بجٹ تقریر کرتے رہے۔بجٹ تقریر کے اختتام پر وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں کو فاتحانہ انداز میں اشارے کیے۔ اس وقت وزیراعظم عمران خان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مُسکراہٹ بھی تھی گویا وہ کہہ رہے ہوں کہ اپوزیشن کا اتنا زیادہ احتجاجکسی کام نہ آیا، ہم نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود کامیابی سے ایوان میں بجٹ پیش کر دیا ہے۔








Source link