38

عید پھیکی کیوں ہوتی جارہی ہے؟


اب عید کا دن بھی عام دنوں کی طرح گزر جاتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اب عید کا دن بھی عام دنوں کی طرح گزر جاتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

’’مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ عید آئی بھی اور گزر بھی گئی۔‘‘ ایک دوست نے لب کشائی کی۔

’’عید کا پورا دن سوتے ہوئے گزارا، بور گزری میری عید بھی۔‘‘ ایک اور دوست نے جیسے راز کی بات بتائی ہو۔

’’نہ تو عید پر خاص گہماگہمی تھی، نہ ہی وہ مٹھاس دیکھی اس دفعہ تو۔‘‘ ایک اور دوست نے ارشاد فرمایا۔ کسی نے کہا ’’عید پھیکی گزری‘‘ کوئی بولا ’’عید کا مزہ نہیں آیا‘‘۔ کسی کے نزدیک عید بھی عام دنوں سا ایک دن ہوگیا ہے۔ تو کسی کے لیے عید کی خوشی میں کوئی خاص بات نہیں رہی۔

اگر اپنے اطراف اور گھر کا جائزہ لیجیے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ یہ تمام گلے شکوے درست ہیں کہ اب تو عید کا دن بھی عام دنوں کی طرح گزر جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کھانے پر کچھ اہتمام نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی بوریت کہ ہم کہنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہ عید تو بہت پھیکی گزری۔ صرف یہ عید ہی نہیں، پچھلے کچھ برسوں سے ہماری ہر عید ہی پھیکی ہوتی جارہی ہے۔ یہ ایک مذہبی تہوار تو ہے لیکن یہ خوشیاں بانٹنے کا تہوار ہے۔ تو ایسا کیا ہوا کہ ہم اس خوبصورت دن کی مٹھاس سے دور ہوتے جارہے ہیں؟

چند سال پیچھے چلے جائیے، جب موبائل ٹیکنالوجی اتنی عام نہیں تھی تو عید کی خوشیوں کی بنیاد عید کارڈز بنتے تھے۔ واٹس ایپ، فیس بک، ایس ایم ایس، اور دیگر ٹیکنالوجی کی ترقی کے بعد عید کارڈ جیسے وقت کی دھول میں گم ہوگئے۔ کتابوں کی دکان، یا کسی ریڑھی سے جاکر کارڈ پسند کرنا ایک خوشگوار احساس ہوتا تھا۔ پھر اس کارڈ پر ہاتھ سے لکھی گئی تحریر ایک الگ چاشنی رکھتی تھی۔ اور پھر کارڈ مطلوبہ شخص تک پہنچانے تک ایک الگ مرحلہ تھا، جو دل کو مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس کی جگہ آج کس نے لے لی؟

اب ہم ایک پیغام موبائل پر لکھتے ہیں اور اس پیغام کو تمام واٹس ایپ رابطہ کاروں، فیس بک پروفائل و گروپس اور ایک ہی مرتبہ تمام فون نمبرز کو سلیکٹ کرکے بھیج دیتے ہیں۔ یعنی ہم عید کارڈز کی خوشگواریت کھو بیٹھے۔ عید کا ایک حسن ہم سے گم ہوگیا۔

رمضان کے روزے رکھنا عید کی خوشی حقیقی معنوں میں دوبالا کردیتا ہے۔ لیکن اب تو ایک فیشن ہمارے معاشرے میں سرائیت کرچکا ہے کہ رمضان آتے ہی نہ جانے کون کون سی بیماریاں ہمیں گھیرلیتی ہیں۔ عام حالات میں ہم ہٹے کٹے پھرتے ہیں، لیکن رمضان آتے ہی گولیاں و کیپسول ہماری سائیڈ ٹیبل کی زینت بن جاتے ہیں۔ بیماری تو عام حالات میں بھی ہوتی ہے اور روزہ تو بذات خود شفا ہے کہ وہ ایک ترتیب بنادیتا ہے۔ لیکن ہم روزے نہ رکھنے کی تاویلیں دینے میں ماہر ہیں، تو بھلا عید کی خوشی کیسے ہمارے دلوں کو خوش کرسکتی ہے۔

ذکر ہو اگر چاند رات کا! تو چاند رات کو ناراض لوگوں کے گھروں میں جاکر اُن کو منانے کی روایت تھی، جو دم توڑ چکی ہے۔ غریبوں کے گھروں میں چپکے سے راشن پہنچانا باعث ثواب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب کوئی ایسا صاحب ثروت تلاش کیجیے جو راشن پہنچاتے ہوئے تصویر لینا نہ بھولے کہ سوشل میڈیا کی زینت بنانی ہے۔ معدودے چند کچھ لوگ ابھی بھی مدد کے حقیقی فلسفے کو لے کر مدد کررہے ہیں)۔

عید کی صبح کا ایک عجیب رنگ ہوتا تھا کہ ہر کوئی جلدی میں ہے۔ کسی کا کرتا نہیں مل رہا اور کسی کے موزے نہ جانے کہاں کھو گئے۔ کسی کا جوتا چھوٹا نکل آیا ہے تو کسی کے کپڑے درزی نے دیے ہی نہیں۔ اور نماز کا وقت ہورہا ہے۔ گھر کے بچے و مرد اہتمام کے ساتھ مساجد کا رخ کرتے تھے۔ اب عید کی نماز نہ پڑھنا ہمارے نزدیک گناہ و ثواب کے کسی دائرے میں نہیں آتا اور نہ ہی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے یہ حسن بھی عید کا کھو دیا کہ عید کی نماز پڑھنے کے بعد اُن سے گلے ملنا جو ہمارے اپنے ہوں اور ان کو سینے سے لگنا جن سے گلے شکوے ہوں۔

نماز عید کے بعد قبرستانوں میں ایک بہار سی آجاتی تھی۔ کوئی اپنے پیارے کی قبر پر دعا مانگ رہا ہے تو کوئی پھولوں کی چادر ڈال رہا ہے۔ اب تو لوگ بیدار ہی عید کی نماز کے گھنٹوں بعد ہونا شروع ہوگئے ہیں تو کجا دعا، کجا پھولوں کی چادر۔
بزرگوں سے عیدی لینا، قریبی رشتے داروں کے گھر جاکر اُن سے عید ملنا، عزیز و اقارب کے گھروں میں میٹھے پکوان پہنچانا، گھر پر دعوتوں کا اہتمام کرنا۔ کہیں سے بھانجے بھانجیاں عیدی عیدی کی رٹ لگارہے ہیں اور کہیں سے بھتیجے بھتیجیاں۔ ہر نئے سال اب یہ سارے عید کے رنگ رفتہ رفتہ کم ہورہے ہیں۔ اور ہم کہہ رہے ہیں کہ عید پھیکی کیوں ہوتی جارہی ہے؟

عیدالفطر تو اپنی خوشیوں سمیت گزر چکی ہے۔ اب عید قرباں نے اپنے رنگ بکھیرنے ہیں۔ آئیے! ہم ناراض لوگوں کو منانے کی روایت کو زندہ کریں۔ ہم ضرورت مندوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کا طریق اپنائیں۔ ہم عید قرباں پر وہ اہتمام کریں جو ہم عیدالفطر پر نہیں کرسکے۔ ہوسکتا ہے ہم عید کا پھیکا پن دور کرپائیں۔

ہوسکتا ہے عید کے جو رنگ ہم سے روٹھ گئے ہیں، انہیں ہم عید قرباں پر واپس لے آئیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link