13

پاکستانی قوم کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے ، مگر کیسے ؟ پاک فوج کے ایک اعلیٰ ریٹائرڈ افسر نے دل کی بھڑاس نکال ڈالی ، بڑے کام کی تحریر ملاحظہ کریں


لاہور (ویب ڈیسک) واقعہ یوں ہے کہ آج سے پون صدی پہلے 6جون 1944ء کو ایک لاکھ پچاس ہزار اتحادی سپاہ سمندری راستے سے ساحلِ فرانس کی طرف بڑھی۔ اس کا مشن یورپ کی آزادی تھا۔ یہ حملہ جسے عظیم بحری اور فضائی یلغار کہیں تو بے جا نہ ہو گا، دنیا کی بحری تاریخ کی


نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سب سے بڑی یلغار تھی۔ اس یلغار میں امریکی، برطانوی، کینیڈین اور آسٹریلوی ٹروپس شامل تھے۔ علاوہ ازیں ان میں باقی اتحادی دنیا کی 12ممالک کی افواج بھی شریک تھیں …… اس ایک دن نے اس 6سالہ جنگ کے یادگار ترین دن کا روپ دھارا۔ بعض مورخوں نے اس دن کو 20ویں صدی کا اہم ترین دن بھی شمار کیا ہے۔ اتحادی بحری بیڑا عظیم الشان تھا! اس کو سپورٹ کرنے کے لئے اس شب 13000فضائی فوج کے ٹروپس بھی پیرا شوٹ کے ذریعے نارمنڈی (فرانس) ساحل پر اتارے گئے۔ جن پانچ بحری ساحلی علاقوں (Beachheads) پر یہ پیراٹروپر ڈراپ کئے گئے ان کے نام (1) Utah……(2) Gold…… (3) Juno…… (4) Sword…… اور (5) Omahaتھے۔ اس دن موسم سخت طوفانی اور خراب تھا۔ جرمنوں کا خیال تھا کہ اگر اتحادیوں نے حملہ کرنا بھی ہے تو اس خراب موسم میں تو نہیں کریں گے لیکن جنرل آئزن ہاور جو اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر تھا اس کا پلان تھا کہ جرمن ساحلی دفاع کو ناگہانیت کا شکار بنانے کے لئے یہی موسم ”انتہائی سازگار“ ہے……اس امر کا ذکر کرنا بھی نامناسب نہیں ہو گا کہ روس اگرچہ اتحادیوں کا حصہ تھا لیکن اس کو کہا گیا تھا کہ وہ اس بحری یلغار میں شریک نہ ہو بلکہ جرمنی کی مشرقی سرحد سے زمینی حملہ کرکے برلن پر ایڈوانس کرے اور اس طرح مشرق سے روسی اور مغرب سے باقی ماندہ اتحادی افواج جرمنی کے دارالحکومت کو سینڈوچ کر دیں …… اور پھر ایسا ہی ہوا……


تاہم برلن تک آتے آتے اتحادیوں کو ایک برس لگ گیا(جون 1944ء تا اپریل 1945ء) اور جب برلن فال ہوا تو اتحادیوں کے جانی نقصانات ہوشربا تھے!پاکستان اور مسلم امہ کے باقی 56ممالک اس حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں کہ آج غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک کی مرفع الحالی اور ہمہ جہت ترقی اور مسلمانوں کے نکبت و افلاس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے حدیثِ جنگ کو فراموش کیا اور افرنگیوں نے اسے گلے لگایا۔ امریکہ، برطانیہ، روس، اٹلی، فرانس بلکہ بعد میں جرمنی اور جاپان نے بھی جو اس جنگ کے شکست خوردہ فریق تھے اور چین نے بھی جو اس جنگ کا براہ راست نہیں بلواسطہ شریک تھا، ترقی کی منازل اس لئے طے کیں کہ دوسری عالمی جنگ میں اپنے لاکھوں کروڑوں فوجی اور سویلین باشندوں کی قربانی دی۔ ہم اس عالمی جنگ کی ”زدوخورد“ سے الا ماشا اللہ بچے رہے اور اسی لئے آج ایک اور طرح کی ”زدوخورد“ کا شکار ہیں۔پاکستان اپنی آزادی کے 72برس بعد بھی دعویٰ کرتا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں!…… لیکن کون سی حالتِ جنگ؟…… یہ حالتِ جنگ نہیں، حالتِ خانہ جنگی ہے…… اگلے روز شمالی وزیرستان میں IEDکی وجہ سے جو فوجی آفیسرز / جوان (کرنل راشد کریم بیگ، میجر معیز مقصود، کیپٹن عارف اللہ اور حوالدار ظہیر احمد) شہید ہوئے ان کا حساب کون لے گا؟…… اس سے اگلے روز اسی علاقے میں دو اور فوجی جوان بھی شہید ہوئے……قوم کی بے حسی ملاحظہ کیجئے کہ تین چار روز پہلے ملک کے ایک نامور ادیب ڈاکٹر انور سجاد (عمر 84برس) کا انتقال ہوا تو ان کی وفات پر کالم لکھے گئے


اور اخبارات نے اداریئے سپرد قلم کئے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی کئی روز تک جاری رہے گا…… میں خود مرحوم ڈاکٹر انور سجاد کا فین رہا ہوں اور ان کی فنی خدمات کا مدح خواں ہوں۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے۔ میں صرف قارئین کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہوں کہ ایک طرف کہن سال ڈاکٹر انور سجاد طبعی موت مرتے ہیں اور دوسری طرف فوج کے جواں سال آفیسرز / جوان قوم پر قربان ہو جاتے ہیں …… ان کا مرثیہ کون لکھے گا، ان پر کتنے کالم آپ کی نظروں سے گزریں گے اور کتنے اداریئے لکھے جائیں گے؟…… کبھی قوم نے سوچا کہ ان شہیدوں کی بھی کوئی خدمات ہیں؟ یہ مت سمجھئے کہ میں مرحوم انور سجاد کو ان فوجی شہیدوں کے مقابل رکھ رہا ہوں …… میں صرف ایک ایسے نکتے کی طرف آپ کو متوجہ کروا رہا ہوں کہ قوم اور ملک کے رکھوالے جب جواں سالی میں شہید ہوتے ہیں تو ان کو کتنی جلدی بھلا دیا جاتا ہے اور ڈاکٹر انور سجاد جیسے قلمکار اور فنکار جب طبعی عمر پا کر واصل بحق ہوتے ہیں تو ان کو کس طرح یاد رکھا جاتا ہے! خدارا اس مثال کو کوئی دوسرے معانی نہ پہنایئے!!……1989ء میں بیجنگ کے ٹینامن سکوائر میں چین نے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ٹینک چڑھا دیئے تھے۔ حتمی تعداد کا تو کوئی ریکارڈ موجود نہیں لیکن مغربی ابلاغی ذرائع کہتے ہیں کہ اس ایکشن میں ہزاروں چینی مارے گئے تھے…… لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟…… کیا حکومت کے خلاف کوئی دوسرا ٹینا من سکوائر بھی ہوا؟ مغربی میڈیا کہے گا


کہ چین میں جمہوریت نہیں۔ چلو مان لیتے ہیں کہ جمہوریت نہیں۔ لیکن کیا ایسی جمہوریت کو چاٹنا ہے جس سے ملک اور قوم مسلسل کمزور ہوتی رہے۔ 6جون 1944ء کو آپریشن اوورلارڈ کی ایک دن کی اتلافات 9950تھیں (یہ صرف 6جون کے اعداد و شمار ہیں)…… یہ کڑوا گھونٹ مغربی جمہوریاؤں کو اس لئے پینا پڑا کہ ان کی آنے والی نسلیں، جنگ سے محفوظ ہو جائیں …… ہم نے دیکھا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں کوئی بھی چھوٹی بڑی جنگ نہیں ہوئی۔ مغربی ممالک اپنی جنگ کو اپنے ملکوں سے باہرجا کر لڑ رہے ہیں۔افغانستان…… عراق…… شام…… لیبیا…… یمن…… کوریا…… ویت نام وغیرہ میں …… ان جنگوں میں مغربی افواج کے ہزاروں فوجی مارے جا چکے لیکن ان کی Mainlands محفوظ رہی ہیں …… اسے کہتے ہیں جمہوریت…… اسلام کی اولیں جنگوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں۔ مدینہ، دمشق اور بغداد کو محفوظ و مامون رکھنے کے لئے مسلمانوں نے اپنے وطن سے باہر جا کر جنگیں لڑیں …… اِدھر ہم پاکستانی ہیں کہ اپنے اندر کی جنگوں کے عادی ہیں۔ اور دعوے کرتے ہیں کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں!…… شمالی وزیرستان کی صورتِ حال پر میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ لیکن قارئین کو یہ ضرور بتاؤں گا کہ وہاں کے دو اراکینِ قومی اسمبلی کی کارستانیوں سے قوم اور افواجِ قوم پر جو گزر رہی ہے اس کی وجہ سے افواج پاکستان کے آفیسرز اور جوان شہید ہو رہے ہیں اور ہم مہر بہ لب ہیں۔کیا ملک کی کسی بھی سیاسی پارٹی نے اب تک ان فوجی شہادتوں پر کوئی بے لاگ تبصرہ کیا ہے؟…… کیا محسن داوڑ اور علی وزیر کی گرفتاریوں پر کوئی ایسا ردعمل ظاہر کیا گیا ہے جو پاکستان کی موجودہ صورتِ حال کا تقاضا ہے؟میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی قوم کے ساتھ ماضی میں جو کھلواڑ ہوتا رہا اور حال میں جو ہو رہا ہے، یہ قوم اسی لائق ہے……6جون 1944ء کے اسباق کی فراموشی ہمیں یہی سبق دے رہی ہے کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بالکل فطرت کے اٹل قانون کے عین مطابق ہے!(ش س م)





Source link