12

’’ سرکارِ مدینہ ﷺ کے سکھائے گئے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر عظیم قوم بنیں گے ‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی بنیاد رکھ دی



اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم مشکلات سے نہ گھبرائے ، زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں ،ہم عظیم قوم بنیں گے ، وہی اصول جو سرکار مدینہ ﷺ نے سکھائے تھے ، نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلئے انہی اصولوں پر عمل پیرا ہونگے ، سٹیٹس

کو شکست دیدی ہے ، یہ ہم سے نہیں جیت سکتے ، کچی آبادیوں میں لوگوں کوگھر بناکردینگے ،پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم لیکر آیا ہوں۔تفصیلات کے مطابق نیاپاکستان ہاﺅسنگ منصوبے کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ نیاپاکستان ہاﺅسنگ منصوبہ شروعات ہے ، ہم بڑی جدوجہد کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں اور اب ہم پورے پاکستان میں ان منصوبوں کا افتتاح کرتے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں بتانا چاہتا ہوں کہ میں کیوں سیاست میں آیا ، میرے بارے میں کہا جاتاہے کہ میرا کوئی ویژن نہیں ہے ، میں نے جب سیاست شروع کی تو مجھے کوکنفیوژن نہیں تھی اورجب میں وزیراعظم بناتو اس وقت بھی مجھے کوئی کنفیوژن نہیں تھی ۔ انہوںنے کہا کہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد سادہ ساتھا کہ میں پاکستان کوایک ایسا ملک بنانا چا ہتا تھا جس کا خواب ہمارے آباﺅ اجداد قائد اعظم اور علامہ اقبال نے دیکھا تھا یعنی ایک اسلامی اور فلاحی ریاست کا خواب تھا ، اسلامی فلاحی ریاست کامطلب ہی یہ ہے کہ وہ نچلے طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ آسان کام نہیں ہے ، یہ آسان ہوتا تو دوسرے ستر سال میں کرلیتے ، میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کا عزم لیکر آیا ہوں ، ہم نمازیں پڑھتے ہیں لیکن ہم کو یہ ہی نہیں پتہ کہ ہم نما ز میں کیا مانگتے ہیں ، ہم نماز میں اپنے نبیﷺ کا راستہ مانگتے ہیں ، ہم آپﷺ کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں، آپ ﷺ کا راستہ یہ تھا کہ آپﷺ نے ایک فلاحی

ریاست بنائی ، غریبوں، یتیموں اور بیواﺅں کیلئے جس کی بنیاد رحم پر تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس راستے پر لگیں گے تواللہ کی رحمت آئیگی ، میںنے کینسر ہسپتال شروع کیا تو لوگوں نے میرا مذاق اڑایا ، لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیاب ہوتا ہے ، کامیابی تو اللہ دیتاہے ، جو یہ کہتاہے کہ میں کامیاب ہوا ہوں تو وہ تکبر کرتا ہے اور اسی تکبر کی بناءپر تو اللہ تعالی نے شیطان کو نکالا تھا ۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کیلئے کسی نے کبھی سوچاہے ، تعلیمی نظام ہمارے لوگوں کو نیچے رکھتاہے ، تین طبقاتی نظام ہیں ، تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ ایک چھوٹا سا طاقتور ٹولہ ہوتاہے جونظام سے فائدہ اٹھا رہا ہوتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے دن سے ہی جب ہماری حکومت بنی ہے تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے شور مچایا کہ حکومت فیل ہوگئی، یہ وہ لوگ ہیںجنہوں نے اس نظام سے فائدہ اٹھایا ہے ، ان کے بچے ارب پتی بن گئے ، پیسہ ان لوگوں نے باہر بھیج دیا ہے ،آج تنقید کررہے ہیں کہ حکومت فیل ہوگئی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سٹیٹس کو ہے ، جب تبدیلی کسی معاشرے میں لیکر آتے ہیں تو سٹیٹس کو کو شکست دیکر آتے ہیں، ہر جگہ یہ لوگ بیٹھے ہوئے ، یہ جنگ ہم جیت گئے ہیں ، یہ سٹیٹس کو ہم سے جیت نہیں سکتا ، ان کوزمانہ پیچھے چھوڑ گیا ہے ، ہم نے نچلے طبقے کواوپر اٹھانا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک سرکاری ملازم نے اپنے بیٹے کو اپنے محکمہ میں ملازمت دلوانے اور اپنی فیملی کیلئے سرکاری مکان برقراررکھنے کیلئے خود کشی کی تھی تو میں نے سوچا تھا کہ لوگوں کو گھر مہیا کئے جائیں ،پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی باہر سے لائنیں لگی ہوئی ہیں ، ہمارے کوشش ہے کہ اس میں پرائیویٹ سیکٹر آئے اور اس میں نوجوانوں کی فرمز بنائیں تاکہ وہ خود کاروبار کریں ، پاکستان کی کچی آبادیوں کا کسی نے نہیں سوچا ، انسان جب ایک راستے پر چلتاہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی انسان کو راستہ دکھاتارہتاہے ، مجھے ایک چائنی کمپنی نے پیشکش کی ہے کہ وہ ایک ہفتے میں ایک فلور بنا سکتے ہیں ، کچی آبادی میں ہم تمام لوگوں کیلئے گھر بنادیں گے اور کچی آبادی کے لوگوں کووہاں منتقل کریں گے اور ساتھ ہی وہاںکمرشل سرگرمیاں بھی شروع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پانچ ارب کا قرضہ لوگوں کودیں گے کہ وہ اپنے گھر بنا سکیں ، سرکاری ملازمین کیلئے راولپنڈی ، اسلام آباد ، بلوچستان اور کشمیر میں گھر بنائے جارہے ہیں،میں آخر میں اپنی قوم سے کہناچاہتا ہوں کہ جب کوشش کرتے ہیں تو اس میں کبھی سیدھی لائن نہیں ہوتی بلکہ اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ، میں قوم سے کہتا ہوں کہ مشکل سے گھبرانا نہیں ہے ، زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں،ہم عظیم قوم بنیں گے ، اوروہی اصول جو سرکار مدینہ ﷺ نے سکھائے تھے ، نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کیلئے انہی اصولوں پر عمل پیرا ہونگے ۔





Source link