17

عدالتی فیصلے کی آڑ لے کرسندھ حکومت سے پولیس کے اختیارات لے لیے گئے، سعید غنی


پولیس کے اختیار دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی صوبائی حکومت کے ماتحت ہونے چاہیئں، وزیرِبلدیات سندھ فوٹو: فائل

پولیس کے اختیار دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی صوبائی حکومت کے ماتحت ہونے چاہیئں، وزیرِبلدیات سندھ فوٹو: فائل

کراچی: سندھ کے وزیربلدیات سعید غنی کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کی آڑ لے کرسندھ حکومت سے پولیس کے اخیتارات لے لیے گئے، پولیس کے اختیارات دیگرصوبوں کی طرح سندھ میں بھی صوبائی حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے۔

سانحہ مستونگ میں جان بحق ہونے والے افراد کی نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی کا کہنا تھا کہ پچھلے کچھ دنوں میں پولیس کے کچھ دل خراش واقعے ہوئے، لیکن محکمہ پولیس کو صوبائی حکومت سے لاتعلق کردیا گیا ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ پولیس پر سیاسی دباؤ نہیں ہونا چاہیے اور نہ پولیس پر سیاسی کنٹرول ہونا چاہیے، عدالت کا فیصلہ اچھا ہے تو اس کا اطلاق تمام صوبوں پر ہونا چاہئیے، صرف پی پی پی کو نشانہ نہیں بنانا چاہئیے، پولیس کے اختیارات دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی صوبائی حکومت کے ماتحت ہونے چاہیئں۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ رینجرز اور پولس میں زمین آسمان کا فرق ہےان کا موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔ اگر ہمیں اپنا من پسند آئی جی ہی لانا ہوتا تو نہ اے ڈی خواجہ اور نہ ہی کلیم امام کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کرتے، پولیس میں تقرری اور تبادلے سب وفاق کے پاس ہے جس سے محکمہ پولیس میں بحران آرہا ہے، ہم سمجھتے ہیں سندھ حکومت ان حالات کو درست کرسکتے ہیں، ہم سے جواب طب کیا جاتا ہے لیکن ہم بے بس ہیں۔

 





Source link