13

سندھ میں پولیس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں: سعید غنی –


کراچی: صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا ڈیڑھ سالہ بچے کی ہلاکت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایسے واقعات کے بعد صوبائی حکومت کسی کو معطل نہیں کر سکتی، سندھ میں پولیس پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پولیس پر کوئی حکومتی کنٹرول نہیں، سندھ کے علاوہ تمام صوبوں میں پولیس پر حکومتی کنٹرول ہے۔ ایسے واقعات کے بعد صوبائی حکومت کسی کو معطل نہیں کر سکتی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے واقعات ہونا افسوسناک ہے، باتیں ہو رہی ہیں لیکن عمل نہیں ہو رہا ہے۔ بچے کے خاندان نے مطالبہ کیا جوائنٹ انویسٹی گیشن ہونی چاہیئے، مطالبہ کیا گیا اچھے افسران کی نگرانی میں تحقیقات ہونی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سڑک جہاں سینکڑوں لوگ ہوں وہاں فائرنگ کی اجازت نہیں، صوبائی حکومت سندھ میں ایک ایس ایچ او تک تبدیل نہیں کرسکتی۔ پولیس ریفارمز کے لیے کام جاری ہے، سب پولیس افسر برے نہیں ہوتے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے پولیس بے قابو ہے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کا احتساب ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے وہ متاثرہ فیملی کے ساتھ ہیں، بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈیڑھ سالہ بچے کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے گلشن اقبال یونیورسٹی روڈ پر پیش آیا تھا جب پولیس کی مبینہ فائرنگ کی زد میں 19 ماہ کا کمسن بچہ بھی آگیا۔

مقتول بچے کے والد کاشف کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی روڈ پر رکشے میں جا رہے تھے کہ اسی دوران پولیس کو فائرنگ کرتے دیکھا، کچھ دیر بعد بچے احسن کے جسم سے خون نکلنے لگا۔ ان کا کہنا تھا کہ خون بہنے کے بعد ہم اسی رکشے میں بچے کو لے کر اسپتال پہنچے مگر وہ اُس وقت تک دم توڑ چکا تھا۔

مبینہ پولیس فائرنگ سے بچے کی موت پر پولیس نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں، ورثا سے رابطے میں ہیں۔

Comments

comments





Source link