24

مودی کا دوبارہ اقتدار کیلئے نیا ڈرامہ، جعلی ابھی نندن کا بھانڈہ پھوٹ گیا


نئی دہلی : مودی سرکار کا دوبارہ اقتدار کے حصول کے لیے نیا ڈرامہ، بی جے پی کی حمایت کرتا جعلی ابھی نندن سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ان دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی ایک تصویر بھی وائرل ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ پائلٹ ابھی نندن نے نہ صرف بی جے پی کی بھرپور حمایت کی ہے بلکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ووٹ بھی دیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کچھ بھارتی شہری سوشل میڈیا پر اس جھوٹ کا پول کھولتے بھی نظرآئے۔

بھارتی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر میں جعلی ابھی نندن نے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کی طرح موچیں رکھی ہوئیں ہیں اور ریبن عینک بھی پہنی ہوئی ہے جبکہ لگے میں بی جے پی کے انتخابی نشان (کنول کا پھول) والا رومال بھی گلے میں ڈالا ہوا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق تصویر کے نیچے جعلی ابھی نندن نے لوگوں پر بھارتیہ جتنا پارٹی کو ووٹ دینے کی گزارش کی ہے۔

صارفین کا کہنا تھا کہ یہ تصویر گجرات کی ہے جہاں ابھی ووٹنگ ہوئی ہی نہیں، دوسری جانب بھارتی ائیر فورس نے بھی تصویر کو جعلی قرار دے دیا۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی آئین آرمی خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کو سیاسی مہم میں حصّہ لینے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید پڑھیں : پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت پائلٹ ابھی نندن کو بھارت کے حوالے کر دیا

یاد رہے کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا طیارہ 27 فروری کو پاکستان ایئرفورس کے بہادر سپوتوں نے لڑائی کے دوران نشانہ بنا تھا جس کے بعد ابھی نندن لڑاکا طیارے سے زندہ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم وہ بدقسمتی سے پاکستانی سرزمین پر گرا اور شہریوں کے ہاتھ آگیا جسے انہوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں پاک فوج کے جوان اسے گرفتار کرکے لے گئے۔

خیال رہے کہ بھارتی پائلٹ کو وزیر اعظم عمران خان نے 28 فروری کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کا حکم دیا تھا جسے یکم مارچ کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت کے حوالے کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت جانے سے قبل ابھی نندن کا آخری پیغام

بھارتی پائلٹ نے بھارت جانے سے قبل بیان دیا تھا جس میں اُس نے پاک فوج کے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف کیا تھا جبکہ بھارتی میڈیا پر شدید تنقید بھی کی تھی۔

Comments

comments





Source link