24

آئی جی آفس کے اس اعلیٰ عہدے پر فائز نوجوان کا تذکرہ جو ماں کے قدموں کی خاک کو اپنی کل دولت سمجھتا ہے اور اس کانسٹیبل کا تذکرہ جو ہر نماز کے بعد رو رو کر دعا کرتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ بڑے کام کی تحریر



لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک ) عام طور پرکہاجاتاہے کہ پولیس والوں سے نہ دوستی اچھی اور نہ دشمنی اچھی ۔ یہ مقولہ بہت پرانا ہے ۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 72سال ہوچلے ‘ پولیس کوابھی تک عوام دوست نہیں بنا یا جاسکا ۔ تھانے کے اندر جانا تو کجا باہر سے گزرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہیں

نامور کالم نگار اسلم لودھی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کسی جرم میں پکڑ کر اندر ہی نہ کردیا جائے ۔ جہاں پولیس ڈیپارٹمنٹ کی کالی بھیڑوں کا برے الفاظ میں ذکر ہوتاہے وہاں کچھ اچھے لوگ بھی یقینا موجود ہیں جو اپنے محکمے کا بہترین تعارف بنتے ہیں ۔ چند سال پہلے میں پتوکی کسی کام کے سلسلے میں گیا ۔ میں جس سے بھی ملا وہ ایک ہی کہانی سنارہا تھا ۔ کہ پتوکی میں ایک پولیس انسپکٹر ایسا بھی آیا تھا جس کا نام شفقت باری تھا ۔چارج سنبھالتے ہی اس نے مسجدوں میں یہ اعلان کروا دیا کہ آج کے بعد شہر کے تمام لوگ اپنے گھر کے دروازے کھول کر سوئیں ۔ اگر کسی گھر میں چوری ہوجائے تو وہ تھانے آکر مجھ سے لے جائے ۔ لوگ حیران تھے کہ یہ پولیس افسر کیسی عجیب باتیں کررہا ہے ۔یہ علاقہ رانا برادرای اور نکئی خاندان کے زیر اثر ہے ۔ ان بااثر لوگوں کی بھینسوں کو چارہ ڈالنے والے بھی وہاں سنبھلے نہیں جاتے ۔وہ خود کتنے خوفناک ہوںگے مقامی لوگ ہی جانتے ہیں۔حیران کن بات تو یہ ہے کہ غلام باری انسپکٹر پولیس کے آنے کے بعد چوروںاور رسہ گیروں نے یہ علاقہ چھوڑ دیا تھا ۔ میں اس بہادر پولیس کو ملنا چاہتا تھالیکن بااثر لوگوں نے اس کی ٹرانسفر کروا دی تھی ۔ ذوالفقار چیمہ بے شک ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں ‘ وہ جہاں جہاں بھی تعینات رہے وہاں سے رسہ گیروں ‘ ڈاکوں اور جرائم پیشہ افراد کا صفایا کرتے گئے ۔

سب سے پہلے اپنے محکمے کے ان سہولت کاروں کو پکڑا جو جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے تھے ۔ اللہ ان کو لمبی عمر دے وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنا تعارف خود بنتے ہیں۔ میں ایک مرتبہ لاہور سے شیخوپورہ اور شیخوپورہ سے نوشہرہ ورکاں روڈ پر بذریعہ بس سفر کیا ۔ بسوںمیں اتنے لوگ بھرے تھے کہ پائوں فرش پر نہیں تھے‘۔واپسی پر میں نے ایس ایس ٹریفک کو صورت حال سے آگاہ کیا تو انہوںنے مجھے چائے پر بلا لیا ۔ اس وقت ایس پی ٹریفک سید قلب عباس تھے‘ ‘میں جب ان کے آفس پہنچا انہوںنے میری باتوں کو توجہ سے سنا اور کہا آپ ایک ہفتے کے بعد دوبارہ وہاں جائیںاگر کوئی فرق محسوس ہوتو مجھے ضرور بتائیں ۔ایک بات میری بھی یاد رکھیں کہ میں آپ کو اس دفترمیں نہیں ملوںگا ۔میں جب دوبارہ گیا تو واقعی ہر بس میں سیٹ ٹو سیٹ لوگ بیٹھے دکھائی دیئے ۔واپس لاہور پہنچا تو اخبار میں یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ سید قلب عباس کو ٹرانسفر کرکے ایس پی ایڈمن لگادیاگیا ۔ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹر بااثر ہوتے ہیں وہ چیف منسٹر کے پاس جاکر ایسے افسر کا تبادلہ کروا دیتے ہیں جو ان کے راستے کی دیوار بنتا ہے ۔چند ہفتے پہلے کی بات ہے مجھے اپنے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کروانی تھی میں ارفع کریم ٹاور میں لائسنسگ اتھارٹی کے دفتر پہنچاتو بہت لمبی قطار نظر آئی ۔ گھٹنے کے آپریشن کی وجہ سے قطار میں کھڑا ہونا میرے لیے ناممکن تھا ‘میں اس کمرے میں جاپہنچا جہاں ایک انسپکٹر اور دو اہلکارموجود تھے ‘ میںنے انسپکٹر کو بتایا کہ

میرے گھٹنے میں تکلیف ہے اگر ممکن ہوسکے تو میرے لائسنس کی تجدید کروادیں۔ وہ انسپکٹر نہایت شریف آدمی تھا پولیس کا رنگ اس پر ابھی نہیں چڑھا تھا اس نے دوستانہ انداز میں گھٹنوںمیں درد کی وجہ پوچھی اور چند منٹوںہی میرے لائسننس کی تجدید کروا دی ‘ وہ ہر شخص سے اچھے لہجے میں بات کررہا تھا اس انسپکٹر کا نام مدثر صدیق ہے۔ پولیس کی وردی کاغرور اسے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ یقینا وہ کسی اچھے خاندان کا فردہوگا ہے ۔مدثر صدیق انسپکٹر یقینا پولیس ڈیپارٹمنٹ کا بہترین سفیرہے۔میں صبح کیولری گرائونڈ پارک میں واک کرنے جاتے ہوں وہاں مجھے ایک شریف النفس نوجوان اپنی بزرگ والدہ کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتا دکھائی دیتا ہے ‘ والدہ اگر بینچ پر بیٹھ جاتی ہے تو وہ کھڑا رہتا ہے ‘کئی ایک مرتبہ میں بینچ پر بیٹھ کر سانس لے رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں آواز آئی ‘کیا آپ میری والدہ کو بیٹھنے کی جگہ دے سکتے ہیں ‘ میںنے کہا کیوں نہیں۔ ایسا کئی بار ہوا دو دن پہلے جب میں نے اس سے پوچھا بیٹا آپ کیا کرتے ہیںاس نے بتایا کہ میں آئی جی پولیس پنجاب کا PRO ہوں‘ اس کانام عمیرہے ۔میں نے کہا آپ شکل وصورت سے توپولیس والے معلوم نہیں ہوتے اور نہ ہی رعب دبدہ آپ کی شخصیت کاحصہ ہے ‘ اس نے جواب دیا میں کچھ بھی نہیں ہوںصرف اپنی ماں کے پائوں کی دھول ہوں۔حالانکہ یہاں گھر کاایک فرد پولیس میں ملازم ہوجاتاہے تو سارے خاندان کی موٹرسائیکلوں پر پولیس کلر پلیٹ لگاکر رجسٹریشن کی بھی زحمت نہیں کی جاتی۔پورے محلے میں رعب الگ پڑتا ہے۔میں اس نوجوان کودیکھ کر حیران بھی ہوااور خوش بھی کہ اب بھی پولیس میںکچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے ادارے کی بہترین مثال بنتے ہیں۔ میں جس مسجد “اللہ کی رحمت”میں نماز پڑھتا ہوں وہاں ایک پولیس کانسٹیبل نماز پڑھتا ہے میں نے اسے ہر نماز کے بعد رب کے حضور آنسو بہاتے دیکھا وہ وردی میں بھی ہوتا ہے تو اس کی نگاہیں زمین پر رہتی ہیں ۔میں حیران ہوںکہ ایسے لوگ بھی کیا پولیس میں ہوسکتے ہیں جو خوف خداسے ہر لمحے کانپتے نظر آتے ہیں ۔شاید یہ کائنات ایسے ہی اچھے لوگوں کی وجہ سے قہر خداوندی سے بچی ہوئی ہے ۔ورنہ وردی کا رعب اور اختیار کی بو انسان کو حیوان بنادیتی ہے۔سانحہ ساہیوال کو دیکھ کر یہ لوگ بلاشبہ فرشتے دکھائی دیتے ہیں۔(ش س م)





Source link