31

ملک بھر میں 400 تاریخی مندروں کی بحالی کی پالیسی تیار


ملک میں موجود 400 مندروں میں سے صرف 13 مندر فعال ہیں، متروکہ وقف املاک۔ فوٹو:فائل

ملک میں موجود 400 مندروں میں سے صرف 13 مندر فعال ہیں، متروکہ وقف املاک۔ فوٹو:فائل

لاہور: حکومت نے ملک میں موجود  تاریخی اہمیت کے حامل 400 مندروں کی بحالی اور انہیں کھولنے کی پالیسی تیار کرلی ہے۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق کرتار پور راہداری کے بعد وفاقی حکومت نے پاکستان میں غیر مسلم عبادت گاہوں بالخصوص تاریخی اہمیت کے مندروں کی بحالی اور تزئین و آرائش کی پالیسی تیار کرلی ہے، ملک میں موجود 400 کے قریب موجود غیر فعال مندروں میں سے تاریخی اہمیت کے حامل بعض مندروں کی سالانہ بنیادوں پر مرحلہ وار تزئین و آرائش کی جائے گی۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کے ذرائع کے مطابق اس وقت ملک بھر میں موجود 400 مندروں میں سے صرف 13 مندر ہیں جہاں ہندو برادری اپنی مذہبی رسومات اداکرتی ہے اور پوجاپاٹ ہوتی ہے، جن میں سے 4 پنجاب، سندھ میں 7  اور 2 مندر خیبر پختونخواہ میں ہیں، تاہم اب حکومت کی جانب سے بنائی گئی پالیسی کے مطابق ایک سال میں کم ازکم 1 سے 2 مندروں کو آرائش ومرمت کے بعد مذہبی رسومات کے لئے کھول دیا جائے گا۔

مندروں کی تزئین و آرائش کے بعد بھارت، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ سمیت دنیا میں بسنے والے ہندو مذہب کے پیروکار مذہبی ویزہ حاصل کر کے ان تاریخی مندروں کی یاترا کے لئے پاکستان آ سکیں گے، مندروں کی بحالی کے کام کا آغاز پنج تیرتھ مندر چاچا یونس پارک پشاور اور سیالکوٹ کے ایک مندر سے کی جائے گی۔

پنجاب کے فعال مندروں میں کرشنا مندر راولپنڈی، کٹاس راج مندر چکوال، کرشنا مندر لاہور، بالمیک مندر نیلا گنبد لاہور شامل ہیں، اسی طرح سندھ میں سادھو بیلا سکھر،گورو گرپت مندر حیدرآباد، سنت بابا بھگت رام دربارمندر دادو، جھولے لال مندر کراچی، بھائی سنت تھاون داس مندر مہر دادو، تحصیل نتھن شاہ مندر رادھن ٹاؤن مہر دادو کے نام شامل بھی شامل ہیں جب کہ خیبر پختونخواہ کے فنکشنل مندروں میں کالی باڑی بازار مندر پشاور اور شیو مندر مانسہرہ کے نام شامل ہیں۔

 





Source link