17

پاکستان سے گیس اور تیل کے ذخائر دریافت ہونے کی خبریں ۔۔۔ عرب ممالک کی نظریں پاکستان پر لگ گئیں، سعودی کمپنی نے بڑی آفر کرادی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی قلت، آرامکو کی پاکستان کو بڑی پیش کش، سعودی کمپنی نے پاکستان کی گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایل این جی کی فراہمی کی پیشکش۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے پاکستان کو گیس کی ضروریات پوری

کرنے کے لئے ایل این جی کی فراہمی کی پیشکش کی ہے۔ بین الاقوامی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آرامکو دنیا کی بڑی تیل کمپنی ہے اور اس نے پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلہ میں آرامکو کے ایک وفد کا رواں ہفتے پاکستان کے دورے کا امکان ہے۔ دورے کے دوران پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دوسری جانب کراچی میں تیل کے ذخائر کی تلاش کے لیے کیکڑا کنویں میں کی جانے والی کھدائی آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے جس کے بعد بڑی پیشرفت کی امید کی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی سمندر میں زمین کے نیچے 1.5 ارب بیرل تیل موجود ہے جس کی تلاش کے لیے کھدائی کی جارہی ہے اگر یہ ذخائر مل جاتے ہیں تو یہ دنیا میں تیل و گیس کے تیسرے بڑے ذخائر ہوں گے۔تیل کی تلاش کے لیے 5 ہزار 5 سو میٹر تک کھدائی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جب کھدائی کی جارہی تھی تو چند رکاوٹوں کے باعث کھدائی روک کر دوسری جگہ کھدائی شروع کرنا پڑی اور اب ذرائع نے بتایا ہے کہ کھدائی کا کام 5 ہزار میٹر تک مکمل کر لیا گیا ہے اور اب بہت تھوڑی سی کھدائی کرنا باقی رہ گئی ہے جس کہ بعد صحیح طور پر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ سمندر کے نیچے موجود ذخیرے میں کتنا تیل اور گیس موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 سے3 روز میں یہ کھدائی

مکمل ہو جائے گی جس کے بعد رپورٹ پیش کی جا سکے گی کہ کیکڑا کنویں میں تیل کے کتنے ذخائر موجود ہیں۔ کراچی میں تیل کے ذخائر کی تلاش کے لیے کیکڑا کنویں میں کی جانے والی کھدائی آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے جس کے بعد بڑی پیشرفت کی امید کی جارہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی سمندر میں زمین کے نیچے 1.5 ارب بیرل تیل موجود ہے جس کی تلاش کے لیے کھدائی کی جارہی ہے اگر یہ ذخائر مل جاتے ہیں تو یہ دنیا میں تیل و گیس کے تیسرے بڑے ذخائر ہوں گے۔تیل کی تلاش کے لیے 5 ہزار 5 سو میٹر تک کھدائی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی جب کھدائی کی جارہی تھی تو چند رکاوٹوں کے باعث کھدائی روک کر دوسری جگہ کھدائی شروع کرنا پڑی اور اب ذرائع نے بتایا ہے کہ کھدائی کا کام 5 ہزار میٹر تک مکمل کر لیا گیا ہے اور اب بہت تھوڑی سی کھدائی کرنا باقی رہ گئی ہے جس کہ بعد صحیح طور پر اندازہ لگایا جا سکے گا کہ سمندر کے نیچے موجود ذخیرے میں کتنا تیل اور گیس موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 سے3 روز میں یہ کھدائی مکمل ہو جائے گی جس کے بعد رپورٹ پیش کی جا سکے گی کہ کیکڑا کنویں میں تیل کے کتنے ذخائر موجود ہیں۔۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 سے3 روز میں یہ کھدائی مکمل ہو جائے گی جس کے بعد رپورٹ پیش کی جا سکے گی کہ کیکڑا کنویں میں تیل کے کتنے ذخائر موجود ہیں۔





Source link