27

بچوں کے بھاری اسکول بیگ کیلئے قانون سازی کی جائے، پشاور ہائی کورٹ –


پشاور : عدالت نے کے پی حکومت کو بچوں کے بھاری بستوں پر قانون سازی کیلئے چار ماہ کی مہلت دے دی، عدالت کا کہنا تھا کہ بھاری بستوں سے بچوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس قیصر رشید کی سربراہی میں بھاری اسکول بیگز کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، دوران سماعت جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے کہ بھاری بیگ اٹھانے سے بچوں کی صحت خراب ہورہی ہے، چھوٹے بچے بڑے بڑے بستے اٹھائے اسکول جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شعبہ تعلیم کےپی کی کارگردگی سے مطمئن نہیں ہیں لہٰذا کے پی حکومت بچوں کے بھاری بستوں کے حوالے سے جلد از جلد قانون سازی کرے، جس کیلئے چار ماہ کی مہلت دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کلینکل عباسی شہید اسپتال کا کہنا ہے کہ بھاری بیگ اٹھانے والے بچے مختلف تکالیف کاشکار ہوتے ہیں، انہیں گردن،ریڑھ کی ہڈی اور کندھے میں درد کی شکایات ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے گزشتہ سال  تمام اسکول پرنسپلز کو خط بھی لکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بھاری بھر کم بیگ بچوں کے لیےخطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھاری بھر کم بیگ بچوں کے لیےخطرناک ثابت ہوسکتا ہے

علاوہ ازیں عالمی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ بچوں کی صحت اولین ترجیح ہونی چایئے ،بھاری بیگ سے نہ صرف بچوں کا بدن متاثر ہوتا ہے بلکہ ان کا ذہن بھی بھاری ہوتا ہے اور نشوونما بھی رک جاتی ہے، جس کے باعث تعلیم پر بھی فرق پڑتا ہے۔

صحت کے ماہرین کی جانب سے والدین کو مشورہ دیا گیا کہ بچے کے حساب سے بیگ بہت بڑا نہ ہو اور جب بھی بچے اسکول بیگ لٹکائیں تو اس بات کو یقینی بنائے کہ بستہ ڈھیلا یا لٹکا ہوا نہ ہو کیونکہ یہ سارے عوامل اضافی بوجھ کا سبب بنتے ہیں۔

Comments

comments





Source link