26

ماہرین نے بلیک ہول کی پہلی تصویر جاری کردی


یورپی ماہرین نے ایم 87 کہکشاں میں موجود بلیک ہول کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے جس کی یہ تصویر جاری کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ای ٹی ایچ کنسورشیئم

یورپی ماہرین نے ایم 87 کہکشاں میں موجود بلیک ہول کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے جس کی یہ تصویر جاری کی گئی ہے۔ فوٹو: بشکریہ ای ٹی ایچ کنسورشیئم

برسلز: آج سائنسی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کیونکہ فلکیاتی تاریخ میں سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ بلیک ہول اور اس کے سائے کی تصویر پیش کردی ہے۔

برسلز میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں ماہرینِ فلکیات، انجینیئروں اور نظری فلکیات دانوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایک فوق جسیم (سپرماسِو) بلیک ہول کے پہلی تصویر حاصل کرلی ہے جس کا ڈیٹا کرہ ارض پر موجود مختلف مقامات پر واقع 8 ایسی دوربینوں سے حاصل کیا گیا ہے جنہیں ’ایونٹ ہورائزن ٹیلیسکوپ‘ (ای ایچ ٹی) نیٹ ورک کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دوربینیں بلیک ہول اور بالخصوص ایونٹ ہورائزن کی تصویر کشی کے لئے ڈیزائن کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ چلّی کے لق و دق ریگستان، اتاکاما میں واقع ،اتاکاما لارج ملی میٹر ایرے (ایلما) نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

ماہرین نے کے مطابق یہ بلیک ہول ایک بہت ضخیم کہکشاں میسیئر 87 کے عین مرکز میں موجود ہے۔ اس بلیک ہول کی کمیت (ماس) ہمارے سورج سے ساڑھے چھ ارب گنا بڑی ہے جو ہماری زمین سے پانچ کروڑ پچاس لاکھ نوری سال (لائٹ ایئر) کے فاصلے پر واقع ہے۔





Source link